
رانی مکھرجی ’ہچکی‘ کے ساتھ ایک بار پھر پردے پر نمودار ہوئی ہیں۔ اس سے پہلے انھوں نے کوئی بہت سنجیدہ اداکاری کا مظاہرہ نہیں کیا تھا۔ حالانکہ ’مردانی‘ میں ان کے کام کی کچھ تعریف ضرور ہوئی تھی لیکن وہ مجموعی طور پر ایسی اداکارہ ہیں جن کی قابلیت کا مکمل استعمال ابھی تک نہیں ہوا۔ وقتاً فوقتاً ان کی اداکاری میں ایک تجربہ کار اداکار کی شبیہ نظر آتی رہی ہے۔
چونکہ ’ہچکی‘ کا موضوع عام ہندی فلموں سے الگ ہے اس لیے ظاہر سی بات تھی کہ بطور اداکارہ رانی بہترین کام کرتیں، اور انھوں نے بہترین کام کیا بھی۔ لیکن فلم میں اصل کمال ان نوجوان اداکاروں نے کیا ہے جو طالب علم کے کردار میں ہیں (ان نوجوان اداکاروں کی تعداد بہت زیادہ ہے اور ان میں سے ایک بھی مایوس نہیں کرتا)، خصوصاً ’آتش‘ کے کردار میں ہرش مایر نے تو کمال کی اداکاری کی ہے۔
کہانی بہت عام سی ہے۔ جنھوں نے ای آر بریتھ ویٹ کی کتاب ’ٹو سر وِتھ لو‘ پڑھی ہے یا اس پر مبنی فلم دیکھی ہے، ان کے لیے فلم کی خاص بات محض ’ٹوریٹ سنڈروم‘ ہے۔ ایک نوجوان لڑکی جو اس مرض میں مبتلا ہے، ٹیچر بننا چاہتی ہے۔ لیکن چونکہ وہ ٹوریٹ سنڈروم کے سبب ہکلاتی ہے اور اچانک کچھ عجیب و غریب آوازیں نکالتی ہے، اس لیے اسے پانچ سال تک ہر انٹرویو میں نااہل قرار دے دیا جاتا ہے۔ آخر کار اس نے اپنے ہی پرانے اسکول میں ٹیچر کی ملازمت ملتی ہے اور اس کا سامنا ہوتا ہے 14 بے لگام اور بدتمیز بچوں پر مبنی کلاس سے۔ کس طرح یہ نوجوان ٹیچر ان بدتمیز اور شیطان بچوں کو کامیاب اور باصلاحیت طالب علم میں بدل دیتی ہے... کہانی کا اصل پلاٹ یہی ہے۔
یہ فلم روایتوں کو توڑنے کی بھی بات کرتی ہے، کہ جو شخص ہکلاتا ہے وہ ٹیچر نہیں بن سکتا، اور یہ کہ صرف امیر اور متوسط طبقہ کے اسٹوڈنٹ ہی پڑھائی میں اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کر سکتے ہیں، اور یہ بھی کہ پڑھائی صرف ایک کلاس روم میں ہی ہو سکتی ہے۔ مختصراً، فلم یہ کہنے کی کوشش کرتے ہے کہ ہمیں بنے بنائے اصول و نظریات اور ڈھانچے سے نکل کر نئے اور غیر معمولی خیالات و لوگوں کے تئیں کھلی و مثبت ذہنیت اختیار کرنی چاہیے۔ فلم میں کہیں کہیں رانی کے اپنے والد کے ساتھ الجھے ہوئے رشتے کی جھلک بھی ملتی ہے جو ظاہری طور پر اپنی بیوی اور بچوں کو اس لیے چھوڑ کر چلا گیا تھا کیونکہ وہ اپنی بیٹی کے ’ٹوریٹ سنڈروم‘ کو کبھی قبول نہیں کر پایا اور لوگوں کے درمیان وہ اس کی ہکلاہٹ اور عجیب آوازوں کے لیے شرمندہ ہو جاتا تھا۔ کہانی بے شک قابل ترغیب ہے اور اداکار بھی اثرانداز کرنے والے ہیں۔ ہدایت کار سدھارتھ ملہوترا اتنے اچھے اداکاروں اور بہترین اسٹوری لائن کے ساتھ ایک بہت اچھی فلم بنا سکتے تھے، لیکن بدقسمتی سے ایسا نہیں ہے۔
فلم کہیں کہیں اُکتانے والی اور ڈھیلی معلوم پڑتی ہے۔ ڈائیلاگ بہت کمزور ہیں۔ اگر ڈائیلاگ کچھ ٹائٹ اور چٹکیلے ہوتے تو فلم کی اس آہستہ روی سے نجات حاصل کیا جا سکتا تھا۔ کبھی کبھی ایسا بھی محسوس ہوتا ہے کہ ڈائیلاگ رائٹر کو ہندی کی صحیح جانکاری نہیں ہے۔ مثلاً ہندی میں نیل پالش ’پہنی‘ نہیں جاتی ’لگائی‘ جاتی ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ فلم آپ کو اتنا متاثر نہیں کرتی جتنا کہ ’تارے زمین پر‘، ’تھری ایڈیٹس‘ یا ’چک دے! انڈیا‘ نے کیا تھا۔
لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ ایک اچھی کوشش ہے، خصوصاً نوجوان اداکاروں کی جانب سے۔ رانی مکھرجی کو بھی ایک طویل عرصہ بعد دیکھنا ایک اچھا احساس ہے۔ فلم ایک بار تو دیکھی ہی جا سکتی ہے۔ ہال سے جب آپ باہر نکلیں گے تو خالی ہاتھ تو نہیں ہی نکلیں گے، کچھ نہ کچھ ترغیب آپ ضرور حاصل کر چکے ہوں گے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔