
بلراج ساہنی / ویڈیو گریب
ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں بلراج ساہنی ایک ایسے فنکار کے طور پر یاد کیے جاتے ہیں جنہوں نے اداکاری کو محض پیشہ نہیں بلکہ ایک فکری اور سماجی ذمہ داری کے طور پر اپنایا۔ یکم مئی 1913 کو راولپنڈی میں ایک متوسط کاروباری خاندان میں پیدا ہونے والے بلراج ساہنی کا اصل نام یُدھشٹھِر ساہنی تھا۔ بچپن ہی سے انہیں ادب، فن اور اداکاری سے گہری دلچسپی تھی۔
انہوں نے گورنمنٹ کالج لاہور سے انگریزی ادب میں اعلیٰ تعلیم حاصل کی، جس نے ان کے فکری زاویے کو وسعت دی۔ تعلیم مکمل کرنے کے بعد کچھ عرصہ اپنے والد کے کاروبار سے وابستہ رہے لیکن ان کا رجحان ہمیشہ تخلیقی میدان کی طرف رہا۔
Published: undefined
1930 کی دہائی کے اواخر میں وہ اپنی اہلیہ کے ساتھ شانتی نکیتن گئے، جہاں انہیں رابندر ناتھ ٹیگور کے قائم کردہ ادارے میں انگریزی پڑھانے کا موقع ملا۔ یہی وہ دور تھا جب ان کی شخصیت میں ادبی گہرائی اور فکری پختگی مزید نکھری۔
بعد ازاں انہوں نے مہاتما گاندھی کے ساتھ بھی کام کیا، جو ان کی زندگی کا ایک اہم موڑ ثابت ہوا۔ گاندھی جی کے تعاون سے وہ بی بی سی لندن میں ہندی اناؤنسر کے طور پر بھیجے گئے، جہاں انہوں نے تقریباً پانچ برس گزارے۔ یہ تجربہ ان کے اندر عالمی نقطۂ نظر پیدا کرنے کا سبب بنا۔
Published: undefined
1943 میں ہندستان واپسی کے بعد بلراج ساہنی نے اپنے دیرینہ شوق کو عملی شکل دینے کے لیے انڈین پیپلز تھیٹر ایسوسی ایشن (آئی پی ٹی اے) میں شمولیت اختیار کی۔ اسی پلیٹ فارم کے ذریعے انہوں نے فلم ’دھرتی کے لال‘ سے اداکاری کا آغاز کیا۔ ان کی ابتدائی فلموں میں ہی ان کی سنجیدگی اور حقیقت پسندی نمایاں ہو گئی تھی۔
1951 میں فلم ’ہم لوگ‘ نے انہیں پہچان دلائی لیکن 1953 میں آئی ’دو بیگھہ زمین‘ ان کے کیریئر کا سنگ میل ثابت ہوئی۔ اس فلم میں ایک غریب کسان کا کردار انہوں نے جس سچائی سے نبھایا، وہ آج بھی اداکاری کی مثال سمجھا جاتا ہے۔ اس فلم کو نہ صرف ہندستان بلکہ عالمی سطح پر بھی سراہا گیا اور کینس فلم فیسٹول میں بھی اعزاز حاصل ہوا۔
Published: undefined
1961 میں ریلیز ہونے والی فلم ’کابلی والا‘ میں ان کی اداکاری نے ناظرین کو گہرے جذبات میں مبتلا کر دیا۔ کردار میں حقیقت پیدا کرنے کے لیے انہوں نے ایک حقیقی کابلی والے کے ساتھ وقت گزارا، جو ان کے فن سے سنجیدہ وابستگی کو ظاہر کرتا ہے۔
بلراج ساہنی کی خاص بات یہ تھی کہ وہ ہر کردار میں خود کو مکمل طور پر ڈھال لیتے تھے۔ وہ فلمی چمک دمک کے بجائے کردار کی سچائی کو ترجیح دیتے تھے۔ ’وقت‘، ’ایک پھول دو مالی‘، ’حقیقت‘، ’دو راستے‘ اور ’میرے ہمسفر‘ جیسی فلموں میں انہوں نے مختلف نوعیت کے کردار ادا کر کے اپنی ہمہ جہتی صلاحیت کا ثبوت دیا۔
Published: undefined
1965 کی فلم ’وقت‘ میں ان کا کردار ’لالہ کیدار ناتھ‘ ایک مختلف انداز میں سامنے آیا، جس میں جذبات اور وقار کا حسین امتزاج نظر آتا ہے۔ اسی فلم کا گانا ’اے میری زہرہ جبیں‘ آج بھی بے حد مقبول ہے۔
ان کی آخری اور نہایت اہم فلم ’گرم ہوا‘ (1973) تھی، جس کی ہدایت کاری ایم ایس ساتھیو نے کی۔ اس فلم میں انہوں نے ایک بوڑھے مسلم جوتا ساز کا کردار ادا کیا، جو تقسیمِ ہند کے بعد اپنی شناخت اور مستقبل کے درمیان کشمکش کا شکار ہوتا ہے۔ یہ کردار نہ صرف ان کے کیریئر بلکہ ہندوستانی سنیما کی تاریخ میں بھی ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔
Published: undefined
اداکاری کے ساتھ ساتھ بلراج ساہنی ایک بہترین مصنف بھی تھے۔ ان کے سفرنامے ’میرا پاکستانی سفرنامہ‘ اور ’میرا روسی سفرنامہ‘ ان کے مشاہدے اور فکر کی گہرائی کو ظاہر کرتے ہیں۔ انہوں نے 1957 میں فلم ’لال بتی‘ کی ہدایت کاری بھی کی، جو ان کی تخلیقی صلاحیتوں کا ایک اور پہلو ہے۔
13 اپریل 1973 کو بلراج ساہنی اس دنیا سے رخصت ہو گئے لیکن ان کا فن آج بھی زندہ ہے۔ وہ صرف ایک اداکار نہیں بلکہ ایک نظریہ، ایک سوچ اور ایک احساس کا نام ہیں—ایسا احساس جو آج بھی ہندستانی سنیما کو معنی اور وقار عطا کرتا ہے۔
(ان پٹ: یو این آئی)
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined