بالی ووڈ

آشا بھوسلے: ہر رنگ کی موسیقی میں اپنی آواز کا جادو جگانے والی گلوکارہ

آشا بھوسلے نے اپنی منفرد آواز اور ہمہ گیر گائیکی سے فلمی موسیقی کو کئی رنگ دیے۔ رومانوی گیتوں، غزل، قوالی، پاپ اور کیبری سے کلاسیکی دھنوں تک ان کا فن آج بھی موسیقی کے شائقین کو مسحور کرتا ہے

<div class="paragraphs"><p>آشا بھوسلے / آئی اے این ایس</p></div>

آشا بھوسلے / آئی اے این ایس

 

آشا بھوسلے کا شمار برصغیر کی ان عظیم پلے بیک گلوکاراؤں میں ہوتا ہے جنہوں نے اپنی منفرد اور پرکشش آواز، غیر معمولی رینج اور ہر طرح کی موسیقی کو اپنی آواز میں ڈھالنے کی صلاحیت کے ذریعے فلمی موسیقی کی دنیا میں ایک الگ مقام بنایا۔ رومانوی نغموں سے لے کر کلاسیکی موسیقی، غزل، قوالی، پاپ اور کیبری تک، انہوں نے گائیکی کے تقریباً ہر انداز میں اپنی صلاحیت کا لوہا منوایا۔

آشا بھوسلے نے مختلف ہندوستانی زبانوں میں ہزاروں نغمے گائے اور تقریباً 6 دہائیوں تک فلمی موسیقی پر اپنی آواز کی چھاپ چھوڑی۔ ہندی کے علاوہ انہوں نے مراٹھی، بنگالی، گجراتی، پنجابی، تمل، ملیالم اور انگریزی سمیت متعدد زبانوں میں بھی گلوکاری کی۔ ان کی آواز کی سب سے نمایاں خوبی یہ رہی کہ وہ مختلف موسیقی کے انداز اور بدلتے ہوئے وقت کے تقاضوں کے مطابق خود کو ڈھالنے میں ہمیشہ کامیاب رہیں۔

آشا بھوسلے کی پیدائش 8 ستمبر 1933 کو مہاراشٹر کے سانگلی میں ہوئی۔ ان کے والد پنڈت دیناناتھ منگیشکر معروف کلاسیکی گلوکار اور مراٹھی تھیٹر سے وابستہ فن کار تھے۔ جب آشا محض 9 برس کی تھیں تو ان کے والد کا انتقال ہو گیا۔ خاندان کی مالی ذمہ داری میں ہاتھ بٹانے کے لیے انہوں نے اپنی بڑی بہن لتا منگیشکر کے ساتھ فلموں میں گانا اور اداکاری شروع کی۔

آشا بھوسلے نے 1948 میں فلم ’چنریا‘ کے لیے ’ساون آیا‘ نغمہ گا کر اپنے فلمی سفر کا آغاز کیا۔ ابتدائی دور میں انہیں فلمی دنیا میں اپنی شناخت بنانے کے لیے سخت جدوجہد کرنا پڑی، کیونکہ اس وقت گیتا دت، شمشاد بیگم اور لتا منگیشکر جیسی گلوکارائیں پہلے ہی اپنی مضبوط شناخت قائم کر چکی تھیں۔

ذاتی زندگی میں بھی انہیں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ 16 برس کی عمر میں انہوں نے خاندان کی مرضی کے خلاف گنپت راؤ بھوسلے سے شادی کی، لیکن یہ رشتہ زیادہ کامیاب ثابت نہ ہوا۔ بعد ازاں وہ اپنے بچوں کے ساتھ اپنے خاندان کے پاس واپس آ گئیں۔ اس مشکل دور کے باوجود انہوں نے موسیقی کے میدان میں اپنی جدوجہد جاری رکھی۔ 1957 میں بی آر چوپڑہ کی فلم ’نیا دور‘ آشا بھوسلے کے کیریئر میں اہم موڑ ثابت ہوئی۔ فلم میں موسیقار او پی نیئر کی دھنوں نے ان کی آواز کو نئی پہچان دی۔ اس کے بعد ان کا شمار کامیاب پلے بیک گلوکاراؤں میں ہونے لگا۔

1966 میں فلم ’تیسری منزل‘ میں آر ڈی برمن کی موسیقی پر گائے گئے ’آجا آجا میں ہوں پیار تیرا‘ نے انہیں نئی بلندیوں تک پہنچایا۔ آر ڈی برمن کے ساتھ ان کی پیشہ ورانہ شراکت داری انتہائی کامیاب رہی اور بعد میں دونوں نے شادی بھی کی۔ ساٹھ اور ستر کی دہائی میں آشا بھوسلے کی آواز خاص طور پر اداکارہ اور ڈانسر ہیلن پر فلمائے گئے گیتوں کی پہچان بن گئی۔ ’او حسینہ زلفوں والی‘، ’پیا تو اب تو آجا‘، ’آؤ نا گلے لگا لو نا‘ اور فلم ’ڈان‘ کا ’یہ میرا دل یار کا دیوانہ‘ جیسے گیت آج بھی مقبول ہیں۔

تاہم آشا بھوسلے کو صرف کیبری یا پاپ گلوکارہ سمجھنا ان کی ہمہ گیر صلاحیت کو محدود کرنا ہوگا۔ 1981 میں مظفر علی کی فلم ’امراؤ جان‘ نے ان کے فن کا ایک بالکل مختلف پہلو سامنے رکھا۔ ’دل چیز کیا ہے‘ اور ’ان آنکھوں کی مستی کے‘ جیسی غزلوں میں ان کی آواز نے نزاکت، ٹھہراؤ اور جذبات کی ایسی کیفیت پیدا کی کہ خود آشا بھی اس تجربے سے متاثر ہوئیں۔ ’امراؤ جان‘ کے لیے انہیں پہلی مرتبہ نیشنل فلم ایوارڈ ملا۔

1995 میں اے آر رحمان کی موسیقی سے سجی فلم ’رنگیلا‘ کے لیے ’تنہا تنہا‘ گانا بھی ان کے کیریئر کا اہم مرحلہ ثابت ہوا۔ یہ اس بات کا ثبوت تھا کہ بدلتے ہوئے موسیقی کے رجحانات کے ساتھ بھی ان کی آواز اپنی کشش برقرار رکھ سکتی ہے۔ آشا بھوسلے کو بطور گلوکارہ آٹھ مرتبہ فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔ انہیں ’امراؤ جان‘ اور ’اجازت‘ کے لیے نیشنل فلم ایوارڈ بھی ملے، جبکہ 2001 میں ہندوستانی سنیما کے اعلیٰ اعزاز دادا صاحب پھالکے ایوارڈ سے بھی سرفراز کیا گیا۔

ری مکس موسیقی کے دور میں بھی آشا بھوسلے کے پرانے گیت نئی نسل تک پہنچتے رہے۔ ’پان کھائے سیاں ہمارا‘، ’پردے میں رہنے دو‘، ’جب چلی ٹھنڈی ہوا‘، ’شہری بابو دل لہری بابو‘، ’جھمکا گرا رے بریلی کے بازار میں‘، ’کالی گھٹا چھائے‘، ’لوگوں نہ مارو اسے‘، ’کہہ دوں تمہیں یا چپ رہوں‘ اور ’میری بیری کے بیر مت توڑو‘ جیسے نغمے ان کی مقبولیت کی دیرپا مثال ہیں۔

آشا بھوسلے نے فلمی گیتوں کے علاوہ غیر فلمی نغمے، غزلیں اور قوالیاں بھی گائیں۔ ان کی طویل اور شاندار فنی زندگی اس بات کی مثال ہے کہ ایک عظیم فن کار صرف ایک طرز کا پابند نہیں ہوتا۔ جگر مرادآبادی کی غزل کا یہ مصرع، ’میں چمن میں جہاں بھی رہوں، میرا حق ہے فصلِ بہار پر‘، آشا بھوسلے کے طویل اور رنگا رنگ سفر پر پوری طرح صادق آتا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔