عرب ممالک

دارالحکومت دہلی میں کشمیریوں کے حق میں احتجاجی مظاہرہ

خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی ملک کے نامور سماجی کارکنوں نے کشمیر میں گذشتہ 37 دنوں سے جاری بحرانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور مطالبہ کیا کہ وہاں کے حالات بہتر بنائے جائیں۔

تصویر یو این آئی
تصویر یو این آئی 

نئی دہلی: خواتین کے حقوق کی جنگ لڑنے والی ملک کے نامور سماجی کارکنوں نے کشمیر میں گذشتہ 37 دنوں سے جاری بحرانی صورتحال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے آئین کی دفعہ 370 کو ختم کرنے کی مخالفت کی اور مطالبہ کیا کہ وہاں کے حالات بہتر بنائے جائیں۔

Published: 10 Sep 2019, 10:10 PM IST

ملک میں خواتین کی سب سے بڑی غیر سرکاری تنظیم نیشنل فیڈریشن آف انڈین ویمن (این ایف آئی ڈبلیو) کی سربراہی میں ایک سو پچاس سے زائد خواتین سماجی کارکنوں نے دارالحکومت کے جنتر منتر پر احتجاجی دھرنا دیکر اپنی مخالفت درج کرائی اور وادی کشمیر میں جمہوری حقوق اور انسانی حقوق کوبحال کرنے کا مطالبہ کیا۔

Published: 10 Sep 2019, 10:10 PM IST

آل انڈیا ڈیموکریٹک وومین ایسوسی ایشن، انجمن ترْل پسند مصنفین ، ترقی پسند انجمن خواتین، دہلی یونیورسٹی اساتذہ ایسوسی ایشن، جواہر لال نہرو اسٹوڈنٹس یونین ، انہد ، موبائل کریچ ، بالیگھا ٹرسٹ جیسے مختلف تنظیموں کی خواتین کارکنوں نے کہا کہ کشمیر گزشتہ ایک مہینہ سے زائد عرصہ سے مواصلات کا نظام پوری طرح ٹھپ ہے، جس کی وجہ سے لوگوں سے رابطہ کرنا مشکل ہوگیا ہے۔

Published: 10 Sep 2019, 10:10 PM IST

انہوں نے کہا کہ وہاں کی خواتین ہر ماہ کی 10 تاریخ کو لال چوک پر جمع ہوکر انصاف کے لئے آواز اٹھاتی رہی ہیں اور یہ بتاتی رہی ہیں کہ ان کے کتنے رشتے دار فوجی کارروائیوں میں لاپتہ ہوگئے ہیں۔ اس سال 10 تاریخ کو محرم کا تہوار ہے اور ایسی صورتحال میں ان خواتین کا درد مزید گہرا ہوگیا ہے۔ ہم سب آج ان کی حمایت میں اور ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کے لئے جمع ہوئے ہیں۔

Published: 10 Sep 2019, 10:10 PM IST

این ایف آئی ڈبلیو سکریٹری جنرل اینی راجہ نے خواتین کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں دائیں بازو کی طاقتوں کو شکست دینے کے لئے آج متحد ہوکر اپنی لڑائی لڑنے کی ضرورت ہے کیونکہ موجودہ حکومت آئین کے آرٹیکل 370 کو ختم کرکے جمہوری حقوق کو کچل رہی ہے اور اس کے پیچھے کارپوریٹ قوتوں کا بھی ہاتھ ہے کیونکہ وہ جموں و کشمیر کی سرزمین پر قبضہ کرکے وہاں اپنی سلطنت قائم کرنا چاہتے ہیں۔

Published: 10 Sep 2019, 10:10 PM IST

آل انڈیا ڈیموکریٹک ویمن ایسوسی ایشن کی میمونہ ملا نے بتایا کہ وہ خود جموں و کشمیر گئی تھیں اور انہوں نے وہاں کشمیری خواتین سے بات چیت کرکے یہ پتہ لگایا کہ وہ کتنی تکلیفوں سے گزر رہی ہیں۔ ان کے چھوٹے بچوں کو پکڑ کر ان پر تشدد کیا جارہا ہے اور بہت سے لوگ لاپتہ ہیں۔

کشمیر جانے والی تحقیقاتی ٹیم کی رکن کی حیثیت سے ، محترمہ ملا نے کہا کہ لوگوں کو ان کے اہل خانہ کے کسی فرد کی موت کی صورت میں بھی اظہار تعزیت کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ مقررین نے یہ بھی کہا کہ یہ کشمیری خواتین ذہنی اذیت کا شکار ہیں اور سب سے بڑی بات یہ ہے کہ وہ میڈیا سے بھی اپنی بات نہیں کرسکتی ہیں۔ اس موقع پرکئی کارکنوں نے نغموں اور اشعار پڑھ کر اپنی مزاحمت کا اظہار کیا۔

Published: 10 Sep 2019, 10:10 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 10 Sep 2019, 10:10 PM IST