
فائل تصویر آئی اے این ایس
اسرائیل پر حملوں کے ذمہ دار حماس گروپ نے تمام یرغمالیوں کو ایک شرط پر رہا کرنے کی پیشکش کی ہے۔ این بی سی کی رپورٹ کے مطابق حماس کے ایک سینیئر اہلکار نے خبر رساں ایجنسی کو بتایا کہ اگر اسرائیل غزہ پر بمباری بند کر دے تو مسلح گروپ تمام شہری یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کرنے کے لیے تیار ہے۔
این بی سی نے رپورٹ کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر اسرائیلی فوج غزہ کی پٹی میں اپنے فوجی حملے منسوخ کر دیتی ہے تو حماس کے اہلکار ایک گھنٹے کے اندر تمام یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے تیار ہیں۔ یرغمالیوں کو رہا کرنے کے لیے حماس کی شرائط اس وقت سامنے آئیں جب منگل کے روز زیر کنٹرول علاقے میں غزہ شہر کے العہلی عرب اسپتال پر کیے گئے ایک فضائی حملے میں سیکڑوں افراد ہلاک ہو گئے۔
اسرائیلی فوج نے منگل کو غزہ کے العہلی عرب اسپتال پر حملے کی ذمہ داری سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ ملٹری انٹیلی جنس نے اشارہ کیا ہے کہ یہ اسپتال انکلیو سے فلسطینی اسلامی جہاد ملٹری گروپ کی جانب سے ناکام راکٹ داغے جانے کی وجہ سے ہوا تھا۔ اسرائیلی سکیورٹی فورسز نے ہسپتال پر حملے سے متعلق معلومات شیئر کرتے ہوئے کہا کہ سسٹم کا تجزیہ کرنے کے بعد آئی ڈی ایف کو پتہ چلا کہ اسرائیل کی جانب راکٹ داغے گئے جو ہسپتال کے اردگرد سے گزرے۔
آئی ڈی ایف نے کہا کہ ہمیں متعدد ذرائع سے ملنے والی انٹیلی جنس کے مطابق اسلامی جہاد دہشت گرد تنظیم غلط فائر کیے گئے راکٹ لانچ کی ذمہ دار ہے جس نے ہسپتال پر حملہ کیا۔ اطلاعات کے مطابق مقامی حکام نے بتایا کہ اسپتال پر اسرائیلی حملے میں کم از کم 300 افراد ہلاک ہوئے جب کہ غزہ کی وزارت صحت کے ایک اہلکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ کم از کم 500 افراد ہلاک اور زخمی ہوئے۔
ایک فلسطینی اہلکار نے ہسپتال پر حملے کو قتل عام قرار دیا۔ ہسپتال پر حملے کے بعد فلسطینی صدر محمود عباس نے تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ اسرائیلی حملے کے جواب میں فلسطین لبریشن آرگنائزیشن نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ جو کچھ ہو رہا ہے وہ نسل کشی ہے۔ ہم عالمی برادری سے مطالبہ کرتے ہیں کہ وہ اس نسل کشی کو روکنے کے لیے فوری مداخلت کرے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔