
تصویر سوشل میڈیا
نئی دہلی: کانگریس کے سینئر رہنما اور لوک سبھا میں قائد حزب اختلاف راہل گاندھی نے دہلی پولیس پر احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ مارپیٹ اور بدسلوکی کا الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ پولیس حملے کے معاملے میں ایف آئی آر درج کرنے سے انکار کر رہی ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ ذمہ دار افسران کے خلاف کیرالہ، راجستھان اور عدالتوں میں تمام قانونی راستے اختیار کیے جائیں گے۔
راہل گاندھی نے سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو شیئر کی، جس میں وہ پولیس تشدد کا نشانہ بننے والے طلبہ اور دیگر مظاہرین سے بات چیت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ کی اتھیرا اور راجستھان کی ریتو سمیت متعدد نوجوان خواتین کو دہلی پولیس نے پیٹا۔ ان کے مطابق، بعض خواتین کے ساتھ بدسلوکی بھی کی گئی اور ان کے کپڑے تک پھاڑ دیے گئے۔
راہل گاندھی نے بتایا کہ انہوں نے کیرالہ کے وزیر داخلہ رمیش چنّیتھلا اور راجستھان پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر گووند سنگھ ڈوٹاسرا سے بات کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کیرالہ میں اس معاملے میں پہلے ہی زیرو ایف آئی آر درج کی جا چکی ہے۔ اب متاثرین کو انصاف دلانے اور مبینہ تشدد کے ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کے لیے قانونی اقدامات کیے جائیں گے۔
راہل گاندھی نے دہلی پولیس کے طرز عمل پر سخت تنقید کرتے ہوئے کہا کہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ کے ماتحت دہلی پولیس کی بربریت کو یوں ہی نہیں جانے دیا جائے گا۔ انہوں نے تاریخی واقعے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ 1930 میں دھاراسنا میں سروجنی نائیڈو کی قیادت میں نہتے ستیہ گرہیوں نے پولیس کی لاٹھیوں کا سامنا کیا تھا، لیکن کسی نے بھی ہاتھ نہیں اٹھایا۔ اس واقعے کو پوری دنیا نے دیکھا تھا۔
انہوں نے کہا کہ پولیس لوگوں کی ہڈیاں توڑ سکتی ہے، لیکن ستیہ گرہ کے جذبے کو ختم نہیں کر سکتی۔ راہل گاندھی کے مطابق، ہندوستان کے نوجوان، بالخصوص نوجوان خواتین، بے خوف، ثابت قدم اور متحد ہیں۔ وہ جمہوریت کے تحفظ کے لیے کھڑے ہیں اور وہ ان کے ساتھ کھڑے ہیں۔
راہل گاندھی نے کہا کہ احتجاج کرنے والے طلبہ کے ساتھ تشدد کے ذمہ داروں کو جواب دہ بنانا ضروری ہے، تاکہ مستقبل میں کسی دوسرے مظاہرین کے ساتھ ایسا سلوک نہ ہو۔ انہوں نے واضح کیا کہ کانگریس متاثرین کو انصاف دلانے کے لیے قانونی لڑائی جاری رکھے گی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔