ویڈیوز

کسان تحریک کے 100 دن: کسانوں کے جذبہ میں کوئی کمی نہیں، ویڈیو ضرور دیکھیں

کسانوں کو امید تھی کہ حکومت ان کے مطالبات جلد مان لے گی اور حکومت کو امید تھی کہ کسان تھک جائیں گے، لیکن دونوں کی اس امید میں 100 دن گزر گئے ہیں اور صورتحال ویسی کی ویسی ہی ہے

ویڈیو گریب / قومی آواز
ویڈیو گریب / قومی آواز 

26 نومبر کو جب کسان دہلی میں نئے زرعی قوانین کے خلاف مظاہرہ کرنے آئے تھے تو ان کو اندازہ نہیں تھا کہ ان کو اپنے ہی ملک میں اتنے لمبے وقت تک عارضی ٹینٹوں اور ٹریکٹر ٹرالیوں میں گزارنا پڑے گا۔ انہوں نے ڈاکٹر اوتار کی طرح سوچا تھا کہ ایک دو دن لوگوں کو ضروری طبی سہولیات فراہم کر کے وہ واپس چلے جائیں گے، لیکن جب یہاں کے حالات دیکھے اور ان کو محسوس ہوا کہ ان کی یہاں زیادہ ضرورت ہے تو پھر وہ یہیں لوگوں کی خدمت کرنے لگے اور اب جلد واپس جانے کے آثار بھی نظر نہیں آتے۔

Published: 05 Mar 2021, 8:51 PM IST

کسان جنہیں دہلی کے اندر مظاہرہ کرنے کی اجازت نہیں دی تھی اور انہیں دہلی کی سرحدوں پر ہی روک دیا گیا تھا، انہوں نے اپنے مطالبوں کی خاطرصرف سردی، برسات اور اب گرمی کی شدت ہی نہیں برداشت کی بلکہ گھر کا آرام، راستہ میں پیدا کی جانے والی دشواریاں، دہشت گرد، ملک سے غداری کے الزامات، پانی کی بوچھاریں اور لاٹھی چارج جیسی تمام تکالیف برداشت کیں، لیکن مظاہروں کے ذریعہ اور بات چیت کے ذریعہ حکومت سے بس ایک ہی مطالبہ کیا کہ وہ نئے زرعی قوانین واپس لے لے، لیکن حکومت نے ایسا نہیں کیا۔

Published: 05 Mar 2021, 8:51 PM IST

حکومت کو امید تھی کہ کچھ دنوں بعد یہ کسان تھک جائیں گے، جوش ٹھنڈا ہوجائے گا، کھیتی اور گھریلوں ضرورتیں انہیں گھر واپسی کے لئے مجبور کریں گی، لیکن ایسا نہیں ہوا اور اب 100 روز بعد بھی کسانوں کا احتجاج جاری ہے اور نہ ہی ان کے جذبوں میں کسی طرح کی کوئی کمی آئی ہے۔ مظاہرہ گاہ میں تعداد کو لے کر ضرور یہ کہا جا رہا ہے کہ احتجاج کر رہے کسانوں کی تعداد کم ہوگئی ہے، لیکن ڈاکٹر اوتار جو دو دن کے لئے لوگوں کی خدمت کرنے آئے تھےاب یہاں پر کسانوں کے لئے ایک باقائدہ چھوٹا سا اسپتال چلا رہے ہیں، ان سے ہر طرح کے کسانوں سے بات ہوتی ہے، وہ کہتے ہیں کہ ’’کسان پہلے جوش میں یہاں آئے تھے لیکن اب بہت منظم انداز میں یہاں رہ رہے ہیں۔ کسان گھر جا رہے ہیں اور بدلے میں وہاں سے دوسرے کسان آرہے ہیں۔ لوگ اپنا کام بھی دیکھ رہے ہیں اور احتجاج کا حصہ بھی بنے ہوئے ہیں۔ گاؤں میں کسانوں کے اتحاد میں اضافہ ہوا ہے اور وہاں ایک دوسرے کےکام آ رہے ہیں‘‘ انہوں نے بتایا کہ پہلے دہلی کے لوگ بھی یہاں آتے تھے جس کی وجہ سے شام کو تعداد زیادہ لگتی تھی، لیکن اب حکومت نے آنے کے لئے اتنی پابندی اور مسائل کھڑے کر دیئےہیں کہ شام کو دہلی والے نہیں آ پارہے ہیں۔

Published: 05 Mar 2021, 8:51 PM IST

سنگھو بارڈر پر مظاہرگاہ کے اندر لوگ سڑکوں پر اپنا چھوٹا موٹا سامان بیچتے نظر آ رہے ہیں۔ قطار میں بہت سے لوگ وہاں سامان بیچ رہے ہیں۔ لنگر اور لوگوں کی خدمت جاری ہے۔ وہاں ایک کیمپ ہے جس کے باہر لکھا ہے زخمی جوتوں کا اسپتال، وہاں لوگوں کے نہ صرف جوتے ٹھیک اور پالش کیے جا رہے ہیں بلکہ وہاں ٹانگوں کی مساج کی مشین رکھی ہوئی ہے، جہاں پیلہ دوپٹہ اوڑھے بزرگ خواتین اپنے نمبر کا انتظار کرتی نظر آ رہی ہیں۔ کپڑے دھونے، آر او کے پانی کا پورا انتظام ہے، ہاں اب گیزر نظر نہیں آتے کیونکہ موسم بدل گیا ہے۔

Published: 05 Mar 2021, 8:51 PM IST

اسٹیج کے پیچھے 50 طلباء کا ایک گروپ سرہند سے مشعال لے کر سائیکل اور پیدل دوڑ کر سنگھو بارڈت پہنچا ہے یعنی سرہند سے سنگھو جس کو انہوں نے نام دیا ہے ایس 2 ایس۔ یہ آئیڈیا کناڈا کے کرما مان کا ہے جس میں ان کا ساتھ وکی مان نے دیا اور پھر پنجاب یونورسٹی کے کھلاڑی طلباء نکل پڑے لوگوں کو کسانوں کے مطالبات کے بارے میں بتانے کے لئے۔ تین دن بعد جب وہ سنگھو نارڈر پہنچے تو ان میں موجود ایک طالبہ جو ایتھلیٹ ہیں انہوں نے کہا کہ وہ ہمیشہ اپنے لئے، اپنے نام کے لئے اور میڈل کے لئے دوڑتی تھیں لیکن پہلی مرتبہ وہ دوسروں کے لئے یعنی کسانوں کے لئے دوڑی ہیں اور اس کی خوشی الگ ہی ہے۔ جس دن کسان اپنے مطالبات منوا کر واپس جائیں اس دن ہمیں گولڈ میڈل ملے گا اور یہ میڈل اب تک کا سب سے بڑا میڈل ہوگا۔

Published: 05 Mar 2021, 8:51 PM IST

کسانوں کو امید تھی کہ حکومت ان کے مطالبات جلد مان لے گی اور حکومت کو امید تھی کہ کسان تھک جائیں گے، لیکن دونوں کی اس امید میں 100 دن گزر گئے ہیں اور صورتحال ویسی کی ویسی ہی ہے۔ کسانوں نے یہاں لمبا وقت گزارنے کے لئے اپنے پورے انتظامات کیے ہوئے ہیں، وہیں حکومت نے بھی مظاہرین کو تھکانے کے پورےانتظامات کر رکھے ہیں۔ جس طرح پیدل چل کر گاؤں کے اندر سے مظاہرہ گاہ تک جانا پڑ رہا ہے اس سے مقامی لوگوں کو تو پریشانی ہو ہی رہی ہے، ساتھ میں حکومت کو ایسا محسوس ہو رہا ہے جیسےکسان ان سارے اقدامات سے تھک جائیں گے، لیکن کسانوں سے بات کرنے کے بعد ایسا نہیں لگتا۔ یہ ضرور ہے کہ جتنا وقت گزر رہا ہے اتنا لوگ اس مسئلہ پر بحث کر رہے ہیں اور حکومت کے خلاف سیاسی ماحول بن رہا ہے، کیونکہ عوام میں جو مہنگائی کے خلاف ناراضگی ہے اس کی وجہ سے بھی کسانوں کے حق میں ہمدردی بڑھ رہی ہے۔ اب حکومت کو چاہیے کہ اس مسئلہ کو جلدی حل کرے تاکہ کسان بھی اپنے گھر جا سکیں اور حکومت بھی دیگر امور پر توجہ دے سکے۔ سنگھو بارڈر پر جانے کے بعد ایسا لگا کہ کسانوں کے لئے100 دن اور 500 دن معنی نہیں رکھتے بلکہ ان کے لئے نئے زرعی قوانین کی واپسی زیادہ معنی رکھتی ہے۔

Published: 05 Mar 2021, 8:51 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 05 Mar 2021, 8:51 PM IST