سماج

روس کو سزا دی جائے، ویٹو پاور چھین لی جائے، یوکرینی صدر

یوکرین کے صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ سے درخواست کی ہے کہ ماسکو کو فوجی حملہ کرنے کی سزا دی جائے۔ یوکرین نے روس کو سلامتی کونسل میں حاصل ویٹو پاور چھین لینے کی بھی اپیل کی ہے۔

روس کو سزا دی جائے، ویٹو پاور چھین لی جائے، یوکرینی صدر
روس کو سزا دی جائے، ویٹو پاور چھین لی جائے، یوکرینی صدر 

یوکرین میں جاری فوجی حملے کو ممکنہ طور پر مزید تیز کرنے کے لیے روسی صدر ولادیمیر پوٹن کی جانب سے اپنے مزید تین لاکھ ریزرو فورسز کو متحرک کر دینے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی یوکرینی صدر وولودیمیر زیلنسکی نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے خطاب کیا۔ انہوں نے کہا، ’’یوکرین کے خلاف جرم کیا گیا ہے اور ہم اس کے لیے سزا دینے کا مطالبہ کرتے ہیں۔‘‘

Published: undefined

زیلنسکی نے عالمی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ بین الاقوامی اداروں اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں روس کا ویٹو کا حق ختم کر دیں۔

Published: undefined

زیلنسکی نے پہلے سے ریکارڈ تقریر میں کہا کہ کییف پائیدار امن کے قیام کے لیے پانچ نکاتی منصوبہ پیش کرتا ہے، جس میں نہ صرف ماسکو کو اس کی جارحیت کے لیے سزا دینا شامل ہے بلکہ یوکرین کی سلامتی اور علاقائی سالمیت کی بحالی اور سکیورٹی کی ضمانت بھی شامل ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا، ’’جارحیت کے جرم کے لیے سزا، سرحدوں اور علاقائی سالمیت کی خلاف ورزی کے لیے سزا، سزا اس وقت تک، جب تک کہ بین الاقوامی تسلیم شدہ سرحد بحال نہ ہو جائے۔‘‘ فروری میں روس کی جانب سے یوکرین پر کیے جانے والے فوجی حملے کے بعد یہ پہلا موقع تھا، جب زیلنسکی نے ایک جگہ یکجا عالمی رہنماؤں سے خطاب کیا۔

Published: undefined

روسی صدر پوٹن اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت نہیں کر رہے ہیں اور روس نے سالانہ اجلاس میں اب تک اپنا موقف پیش نہیں کیا ہے۔

Published: undefined

امریکی صدر بائیڈن کی تقریر

صدر جو بائیڈن نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی سے بدھ کے روز خطاب کرتے ہوئے یوکرین پر روس کے حملے کی سخت الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے کہا، ’’روس نے شرمناک انداز میں اقوام متحدہ کے چارٹر کے بنیادی اصولوں کی خلاف ورزی کی ہے۔‘‘

Published: undefined

بائیڈن نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ایک اہم رکن ملک نے ایک آزاد خود مختار ملک کے علاقوں پر قبضہ کیا ہے اور یوکرین میں شہریوں کے خلاف سنگین جرائم کا مرتکب ہوا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے کہا کہ روس کے صدر ولادیمیر پوٹن کی یورپ کے خلاف جوہری ہتھیاروں کی دھمکی ایک غیر محتاط رویہ ہے اور ایک ایسے ملک کی ذمہ داریوں کے منافی ہے، جو جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے بین الاقوامی معاہدے پر دستخط کنندہ ہے۔ صدر بائیڈن کا کہنا تھا، ’’ایٹمی جنگ جیتی نہیں جا سکتی، اس لیے لڑی بھی نہیں جانی چاہیے۔‘‘

Published: undefined

جی سیون ممالک کا یوکرین کی مزید مدد کا اعلان

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے دوران ترقی یافتہ ممالک جی سیون کے وزرائے خارجہ نے ایک ہنگامی میٹنگ کی، جس میں یوکرین کی صورت حال پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ان رہنماؤں نے یوکرین کو فوجی اور مالی امداد کے ذریعے مزید تعاون دینے کا اعلان کیا۔

Published: undefined

جاپان کے وزیر خارجہ نے کہا کہ خوراک اور توانائی کے بحران کا حل تلاش کرنے کی کوششیں بھی تیز کی جائیں گی۔

Published: undefined

یورپی یونین کی خارجہ پالیسی کے سربراہ جوزیپ بوریل نے جی سیون ممالک کے وزرائے خارجہ کی میٹنگ کو اہم قرار دیتے ہوئے کہا،’’پوٹن نے ہمیں جس ناقابل قبول صورت حال میں ڈال دیا ہے، اس سے بین الاقوامی برادری کو الرٹ کرنا ضروری ہے اور یہ بات واضح ہے کہ روس یوکرین کو تباہ کر دینا چاہتا ہے لیکن وہ ہمیں خوفزدہ نہیں کر سکتا۔‘‘

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined