
جرمنی میں جنس سے متعلق موجودہ قانون کے تحت تبدیلی جنس کے لیے دو ماہرین کی ضرورت ہوتی ہے، جبکہ صرف عدالتی فیصلے کے بعد ہی جنس تبدیل ہو سکتی ہے۔ تاہم اب اس دہائیوں پرانے قانون کو تبدیل کر کے فرد کو اپنی جنس کے تعین کے اختیار کا قانون بنایا جا رہا ہے۔
Published: undefined
جرمن حکومت کی جانب سے جنس سے متعلق 'حق خود ارادیت‘ کا ایک قانونی مسودہ پیش کیا گیا۔ اگر اسے منظور کر لیا جاتا ہے تو قانونی طور پر کسی شخص کو اپنی جنس کا تعین کرنے کی آسانی ہو جائے گی۔
Published: undefined
اس مجوزہ قانون کے ذریعے جرمنی میں دہائیوں پرانے اس قانون کا خاتمہ ہو جائے گا، جس میں جرمن شہریوں کو قانونی طور پر جنس کی تبدیلی کے لیے دو ماہرین کے معائنے اور عدالتی فیصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ نئے قانون کے تحت بالغ افراد کو کسی بھی کاغذی کارروائی میں پڑنے کی بجائے رجسٹریشن دفتر میں جا کر اپنی جنس تبدیل کرانے کا اختیار دیا جا رہا ہے۔
Published: undefined
جرمن وزیر برائے خاندانی امور لیزا پاؤس کے مطابق، ''ہم خود ارادیت ایکٹ کے ذریعے ایک اور پیش قدمی کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ٹرانس جینڈرز، انٹرسیکس اور نان بائنری افراد کے ساتھ امتیازی رویوں کے خاتمے کی جانب بڑھا جا رہا ہے۔‘‘
Published: undefined
ان کا مزید کہنا تھا، ''اس طرح ہم ان افراد کو وہ احترام کسی حد تک لوٹا سکتے ہیں، جس سے یہ افراد کئی دہائیوں سے محروم رکھے گئے ہیں۔‘‘ جرمنی کی اتحادی حکومت نے دسمبر 2021 میں اقتدار میں آنے کے بعد ٹرانس سیکچوئل قانون کے خاتمے کا وعدہ کیا تھا۔
Published: undefined
جرمنی میں ہم جنس پرستوں کی تنظیمLSVD نے کہا ہے کہ وہ اس مسودے کا تفصیلی جائزہ لے گی تاہم اس تنظیم نے اس مسودے کی اشاعت کا خیرمقدم کیا ہے۔ اس تنظیم کے ایگزیکٹیو بورڈ کی رکن مارا گیری نے کہا، ''متاثرہ افراد اور ان سے جڑے گروپ ایک طویل عرصے سے پیش رفت کے منتظر تھے، جو جون دو ہزار بائیس میں پیش کردہ اہم نکات کے بعد سے کئی بار التوا کا شکار رہی۔‘‘
Published: undefined
یہ بات اہم ہے کہ جرمنی میں موجود ٹرانس سیچکوئل قانون 1981 کا ہے اور اس کے تحت صرف ایک قانونی عمل کے نتیجے میں ہی کسی فرد کو جنس کی تبدیلی کی اجازت ملتی ہے۔
Published: undefined
اس نئے قانون کے مطابق چودہ برس یا اس سے کم عمر کے بچوں کے قانونی وارثجنس کی تبدیلی سے متعلق اقرار نامہ جمع کروا سکتے ہیں جبکہ چودہ برس سے زائد عمر کے غیربالغ افراد تبدیلی جنس کی درخواست خود دے سکتے ہیں تاہم انہیں اپنے قانونی ورثا سے ایک مراسلے کی ضرورت ہو گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined