سماجی

گمنام مجاہد آزادی نواب تفضل حسین خاں، برسی کے موقع پر خصوصی پیش کش...شاہد صدیقی علیگ

انقلابی سپاہیوں نے نواب تفصل حسین خاں کو اپنا قائد بنایا اور توپوں کی سلامی دی۔ فضا ’خلق اللہ کا، ملک بادشاہ کا، حکم نواب رئیس بہادر کا کے نعروں سے گونج اٹھی

 گمنام مجاہد آزادی نواب تفضل حسین خاں / تصویر شاہد صدیقی علیگ
گمنام مجاہد آزادی نواب تفضل حسین خاں / تصویر شاہد صدیقی علیگ 

پہلی ملک گیر تحریک آزادی 1857 کے افق پر نواب تفضل حسین خاں کا نام روشن ستارہ کی مانند ہمیشہ چمکتا رہے گا، جنہیں نواب محمد خاں بنگش کے خاندانی فرد کی حیثیت سے ایسٹ انڈیا کمپنی کی جانب سے پنشن مل رہی تھی اور پرسکون زندگی بسر کر رہے تھے لیکن انہوں نے مادر ہندکو انگریزی جبرو استبداد کے پنجوں سے چھڑانے کے لیے جدوجہد کی سنگلاخ راہوں کا انتخاب کیا اور پھر پلٹ کر نہیں دیکھا۔

Published: undefined

جب 10 مئی 1857 کو میرٹھ کے دیسی سپاہ نے انقلابی ناقوس پھونکا تو اس کی صدا فرخ آباد میں بھی سنی گئی، جس نے وہاں ہلچل مچا دی لیکن بغیر کسی واردات کے مئی گزر گیا۔ حالات کے مدنظر کرنل جی اے اسمتھ نے خواتین اور بچوں کو کانپور بھیج دیا، فتح گڑھ 10ویں دیسی رجمنٹ کا مرکز تھا مگر مصلحت کی بنا پر دیسی سپاہی خاموش رہے، تاہم 10ویں پلٹن اور 41 ویں رجمٹ اودھ کے مابین خفیہ خط و کتابت جاری تھی۔ جس کے سبب 18 جون کو 10ویں رجمنٹ نے بغاوت کا پرچم بلند کر دیا، جیل توڑکر قیدیوں کو رہا کر دیا ۔انگریزی رہائش گاہوں اور سرکاری عمارتوں کو پھونک دیا گیا، جو انگریز ہاتھ لگا اسے موت کی نیند سلا دیا گیا۔ انقلابی سپاہیوں نے نواب تفصل حسین خاں کو اپنا قائد بنایا اور توپوں کی سلامی دی۔ فضا ’خلق اللہ کا، ملک بادشاہ کا، حکم نواب رئیس بہادر کا کے نعروں سے گونج اٹھی۔

Published: undefined

آغا حسین کمانڈر ستیاپور دو ہزار سپاہیوں اور احمدیار خاں و عشرت خاں نے ڈیڑھ یا دو ہزار مجاہدین کے ہمراہ آکر نواب تفضل حسین خاں کے کارواں میں شریک ہو گئے۔ فتح گڑھ قلعہ میں فوجی بیرکیں تھیں، جہاں فرنگی رہائش پذیر تھے۔ قلعہ کا 10ویں اور 31ویں رجمنٹ نے 25 جون کو محاصرہ کر کے پہلا حملہ کیا۔ جس میں فرنگیوں کو کافی جانی نقصان اٹھانا پڑا۔

Published: undefined

نواب تفضل حسین خاں نے عنان حکومت سنبھال کر انتظامیہ کے لیے ایک مجلس مشاورت تشکیل دی جس میں اشرف خان (مشیر خاص)، ملتان خان، حیدر علی اور محمد تقی کو رکن بنایا۔ فرخ آباد کو مشرقی اور مغربی دو حصوں میں تقسیم کر کے تحصیلداروں اور تھانے داروں کو مامور کیا، عدالت میں مسلم امور کے لیے تین مفتیوں احمد علی، عبدالواحید اور قاضی احمد یا رخاں اور ہندوئوں کے لیے شیو غلام دیکھشت اور پنڈت پتمبر داس کومامور کیا۔ نواب صاحب نے قرب و جوار کے انقلابیوں سے رابطہ قائم رکھا اور ان کا تعاون کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ نواب موصوف اگست میں وہ ایک پیادہ، ایک گھوڑ سوار دستہ اور تقربیاً ایک ہزار سے زائد دلیر پٹھانوں و شمس آباد کے جانباز میواتیوں کے ساتھ کانپور گئے، انہوں نے مین پوری کے مجاہد راجہ تیج سنگھ کی بھی ہر ممکن اعانت کی۔ دسمبر میں ولی داد خاں کے ساتھ مل کر اٹاوہ اور علی گڑھ کی جانب پیش قدمی کی۔ لیکن انگریزوں نے ہند وستانی غدار ٹولی، آزمودہ کار افسران اورجدید ہتھیار کی بدولت مغلیہ سلطنت کوجڑ سے اکھاڑ پھینکا ،جو انقلابیوں کے ارمانوں پر بجلی پڑنے کی مانند تھا لہٰذا تاجران فرنگ کا تخت ہند پر متمکن ہونا صرف رسم رہ گئی تھی عالم انتخاب شہر یعنی دارالحکومت کی اینٹ سے اینٹ بجانے کے بعد انگریز شہر در شہر کو کچلتے آگے بڑھ رہے تھے تو وہیں دوسری جانب دلّی کو خیر آباد کہنے والے انقلابی قائدین بھی فرخ آباد پہنچ رہے تھے ۔ بخت خاں ، نانا صاحب کے بھائی شہزاد ہ مرزا کوچک سلطان ، فیروزشاہ ، ولی داد خاں او ر راجہ تیج سنگھ مین پوری بخت خاں فرخ آباد پہنچے ،جنہوں نے برطانوی لشکر جرار سے خداگنج معرکہ آرائی میں حصہ لیا لیکن شکست کے بعد نواب تفّضل حسین خاں کے ہمراہ دونوں شہزادے ،بخت خاں اور اسماعیل خاں شاہجہاں پور چلے گئے لیکن وہاں بھی ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے۔

Published: undefined

انگریزوں کی نظر میں فتح گڑھ چھائونی بڑی اہمیت حامل تھی تھی، لہٰذانومبر 1857ء میں سٹین کی کمان میں ایک قوی دستہ فرخ آبادکو درہم برہم کرنے کے لیے روانہ کیا گیا ۔2؍جنوری 1858ء کو انقلابیوں اور انگریزوں میں کانٹے کی جنگ ہوئی مگر غداروں اور کانپور سے تازہ کمک سے آنے سے انگریزوں کو برتری حاصل ہوگئی۔ 3؍جنوری کو انگریزوں کا نواب تفضّل حسین خاں کے قلعہ پر قبضہ ہوگیا، لہٰذا سات ماہ کی انقلابی حکومت زوال پذیر ہوئی ، لیکن ان کے بھائی نذیر علی خان نے انگریزوں سے فیصلہ کن جنگ کرنے کا عزم کیا مگر حالات کا رخ دیکھ کر خودسپردگی کردی،لیکن انگریزوں نے انتقام کی آگ میں جل کر پھانسی پر چڑھانے سے پہلے ان کے منھ میں سور کا گوشت دیا، نواب تفضل حسین خاں بریلی پہنچے، وہاں سے اودھ چلے گئے،اسی بیچ ان کی گرفتاری پر 10ہزار روپے کے انعام کا اعلان ہوا۔7؍جنوری 1859ء کومیجر بیرواسپیشل کمشنرکے سامنے نواب تفضل حسین خاں نے ہتھیار ڈال دئیے۔ عام معافی کے بعدوہ فرخ آباد چلے آئے تو گرفتار کرلیے گئے ۔ حکام کو میجر بیرواسپیشل کمشنر کی یقین دہانی یاد دلائی گئی توا ن کو جلاوطنی کا حکم صادر کردیا گیا تووہ ملک حجاز چلے گئے۔

Published: undefined

انسانیت کے نام کلنک جابر انگریز افسران نے نواب تفضل حسین خاں کے خاندانی افراد کو سزائے موت دینے سے پہلے ذلیل وخوار کرنے میں کوئی کمی نہیں چھوڑی۔ان کے بھائی نواب ا قبال مند خاں کو پھانسی دینے سے قبل گورنمنٹ اسکول میں سیول کمشنر کے حکم سے جسم پر خنزیرکی چربی ملی گئی اور بھنگیوں سے کوڑے لگوائے گئے۔ ان کے ساتھ نواب غضنفر حسین خاں اور 13؍دسمبر 1862 اور نواب کے حقیقی بھائی سخاوت حسین خاں کو 13 ستمبر1863 کو پھانسی دے دی گئی ۔نواب تفصل حسین خاں نے نہایت کسمپرسی کی حالت میں 19 فروری 1882 کو مکّہ معظمہ میں داعی اجل کو لبیک کہا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined