
آئی ایس ایس / اے آئی
بین الاقوامی خلائی اسٹیشن میں ہوا کے رساؤ کی مرمت کے دوران موجود خلا بازوں کو احتیاطی طور پر اپنے اپنے خلائی جہازوں میں رہنے کی ہدایت دی گئی ہے، جبکہ روسی خلائی حکام کا کہنا ہے کہ عملے کی سلامتی کو کوئی فوری خطرہ درپیش نہیں۔
امریکی خلائی ادارے ناسا کے مطابق خلائی اسٹیشن کے روسی حصے میں واقع زویزدا سروس ماڈیول کی منتقلی سرنگ، جسے پی آر کے کہا جاتا ہے، گزشتہ کئی برسوں سے دراڑوں اور ہوا کے رساؤ کے مسئلے کا سامنا کر رہی ہے۔ حال ہی میں مزید رساؤ سامنے آنے کے بعد روسی خلائی ایجنسی روسکوسموس نے بڑے پیمانے پر مرمتی کارروائی شروع کرنے کا فیصلہ کیا۔
Published: undefined
مرمت کے دوران ناسا نے احتیاطی تدبیر کے طور پر اپنے اسپیس ایکس کریو-12 مشن کے چار ارکان اور ایک دیگر امریکی خلا باز کرس ولیمز کو ڈریگن خلائی جہاز میں منتقل ہونے کی ہدایت دی تاکہ ضرورت پڑنے پر فوری انخلا ممکن ہو سکے۔ بعد میں روسی ماہرین نے مرمتی کام عارضی طور پر روک کر مزید پیمائشوں اور تکنیکی اعداد و شمار کا جائزہ لینا شروع کر دیا، جس کے بعد خلا بازوں کے لیے جاری خصوصی حفاظتی ہدایات بھی ختم کر دی گئیں۔
Published: undefined
روسی سرکاری ذرائع ابلاغ کے مطابق معائنے کے دوران دو مقامات پر ہوا کے اخراج کا پتہ چلا تھا۔ روسکوسموس کا کہنا ہے کہ ان میں سے ایک مقام پر موجود رساؤ کو بند کر دیا گیا ہے، جبکہ دوسرے مقام پر مرمت اور جانچ کا کام جاری ہے۔ ڈریگن خلائی جہاز میں منتقل ہونے والوں میں ناسا کی جیسیکا میئر اور جیک ہیتھاوے، یورپی خلائی ایجنسی کی سوفی آدینو، روسی خلا باز آندرے فیدیایف اور ناسا کے کرس ولیمز شامل تھے۔
Published: undefined
یہ پہلا موقع نہیں جب بین الاقوامی خلائی اسٹیشن کو اس نوعیت کے مسئلے کا سامنا کرنا پڑا ہو۔ زویزدا ماڈیول سے متعلق دراڑوں اور ہوا کے رساؤ کے مسائل گزشتہ تقریباً چھ برس سے وقفے وقفے سے سامنے آتے رہے ہیں اور روسی و بین الاقوامی ماہرین مسلسل ان کی نگرانی اور مرمت کرتے رہے ہیں۔
ناسا نے واضح کیا ہے کہ خلا بازوں کو خلائی جہازوں میں منتقل کرنے کا فیصلہ محض اضافی احتیاط کے طور پر کیا گیا تھا اور موجودہ وقت میں عملے کی حفاظت یقینی بنائی جا رہی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined