پریس ریلیز

جامعہ ہمدرد میں ’نیو ایپروچ ٹو اسلامک اسٹڈیز‘ کتاب کا اجراء، ماہرین تعلیم و دانشوروں کی شرکت

تقریب کی صدارت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کتاب کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیم پیش کرنے کی ایک کامیاب کوشش قرار دیا۔

<div class="paragraphs"><p>رسم اجرا کا منظر،&nbsp;تصویر سوشل میڈیا</p></div>

رسم اجرا کا منظر، تصویر سوشل میڈیا

 

نئی دہلی: جامعہ ہمدرد میں یکم مئی 2026، بروز جمعہ انتہائی اہم کتابی سلسلہ ’نیو ایپروچ ٹو اسلامک اسٹڈیز‘ (New Approach to Islamic Studies) کی ایک شاندار اور باوقار تقریب رونمائی منعقد ہوئی۔ اس تقریب میں ملک کے ممتاز اہل علم، دانشوران ملت اور معزز شخصیات نے شرکت کر کے پروگرام کو علمی وقار بخشا۔ تقریب کی صدارت مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی نے کی۔ انھوں نے اپنے صدارتی خطاب میں کتاب کو عصر حاضر کے تقاضوں کے مطابق اسلامی تعلیم پیش کرنے کی ایک کامیاب کوشش قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ تصنیف جدید ذہن کو مخاطب کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔

Published: undefined

اس تقریب کے مہمانِ خصوصی پروفیسر ایم افشار عالم (وائس چانسلر جامعہ ہمدرد) نے بھی کتاب سے متعلق اپنی آرا سامعین کے سامنے رکھی۔ انھوں نے کہا کہ یہ کتاب جدید تعلیمی تقاضوں اور اسلامی فکر کے حسین امتزاج کی نمائندگی کرتی ہے اور مستقبل میں تعلیمی اصلاح کے لیے رہنما ثابت ہو سکتی ہے۔ مہمانان اعزازی میں شامل امام بخاری یونیورسٹی کے چانسلر مولانا مطیع الرحمن مدنی نے اپنے خطاب میں کہا کہ یہ کتاب نوجوان نسل کے لیے دین کو آسان، مؤثر اور دل نشیں انداز میں پیش کرتی ہے۔

Published: undefined

اس موقع پر ’شاہین گروپ‘ کے چیئرمین ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ اس نوعیت کی علمی کاوشیں قوم کی فکری رہنمائی میں سنگ میل کی حیثیت رکھتی ہیں۔ تقریب میں شریک دیگر ممتاز شخصیات نے بھی کتاب کو بے حد پسند کیا۔ جواہر لال نہرو یونیورسٹی میں سنٹر آف عربک و افریقن اسٹڈیز کے چیئرپرسن پروفیسر محمد قطب الدین نے اسے قدیم علمی ورثے اور جدید تعلیمی اسلوب کے درمیان ایک مضبوط پل قرار دیا، جبکہ پروفیسر شفیق احمد خان ندوی کے مطابق یہ تصنیف طلبہ میں اسلامی علوم کی دلچسپی پیدا کرنے کی ایک کامیاب کوشش ہے۔

Published: undefined

صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز، جامعہ ہمدرد ڈاکٹر آبرو امن اندرابی نے اسے تحقیقی و فکری اعتبار سے مضبوط تصنیف قرار دیا، جبکہ سابق صدر شعبہ اسلامک اسٹڈیز پروفیسر غلام یحییٰ انجم نے کہا کہ یہ کتاب آئندہ نصاب سازی کے لیے ایک اہم نمونہ بن سکتی ہے۔ مدرسہ تجوید القرآن کے ناظم اعلیٰ مولانا محمود حسن بھی اس تقریب میں بطور خاص موجود تھے۔ انھوں نے اس کتاب کی سادگی اور اثر انگیزی کو نمایاں خصوصیات قرار دیا۔

Published: undefined

دیگر مقررین میں مولانا عارف قاسمی، مولانا اظہر مدنی (ڈائریکٹر، اقرا انٹرنیشنل اسکول)، مولانا مہتاب قاسمی، ’ملت ٹائمز‘ کے چیف ایڈیٹر شمس تبریز قاسمی اور رحیق گلوبل اسکول کی ڈائریکٹر شائستہ پروین شامل تھے، جنہوں نے کتاب کو علمی و فکری اعتبار سے ایک اہم اضافہ اور تعلیمی میدان میں امید افزا قدم قرار دیا۔ کتاب کے مصنف ڈاکٹر ظل الرحمن تیمی نے بھی اس باوقار تقریب سے خطاب کیا اور کتاب کو منظر عام پر لانے کے مقاصد سامنے رکھے۔ انھوں نے بتایا کہ اس کتاب کا مقصد اسلامی تعلیم کو جدید اسلوب میں پیش کرنا اور طلبہ کے لیے اسے آسان، قابل فہم و دلچسپ بنانا ہے۔

Published: undefined

تقریب کے دوران اسکولی طالبات دانیہ اور سامیہ نے کتاب کا تعارف پیش کیا، جبکہ سندس نے کتاب کے ایک باب کی مؤثر انداز میں پیشکش کر کے حاضرین کو متاثر کیا۔ نظامت کے فرائض ڈاکٹر محفوظ عالم ندوی نے نہایت خوش اسلوبی سے انجام دیے۔ آخر میں قمر جاوید نے کلمات تشکر پیش کرتے ہوئے تمام مہمانوں، مقررین اور شرکاء کا شکریہ ادا کیا۔ یہ تقریب علمی و فکری لحاظ سے نہایت کامیاب رہی اور حاضرین نے اسے ایک یادگار اور بامقصد پیش رفت قرار دیا۔

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined