پریس ریلیز

مساجد کے انہدام اور مذہبی آزادی کے مسائل پر جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس کل

جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس 23 ستمبر کو نئی دہلی میں ہوگا، جس میں مساجد و مدارس کے مسائل، مذہبی آزادی، آئینی حقوق اور آئندہ کے لائحۂ عمل پر غور کیا جائے گا

<div class="paragraphs"><p>جمعیۃ علماء ہند کی میٹنگ / فائل تصویر</p></div>

جمعیۃ علماء ہند کی میٹنگ / فائل تصویر

 

نئی دہلی: ملک کی موجودہ صورتِ حال، خصوصاً آئینِ ہند کی بالادستی، مذہبی آزادی اور عبادت گاہوں سے متعلق پیدا ہونے والے مسائل کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند کی مجلسِ عاملہ کا ہنگامی اجلاس کل، 23 ستمبر کو نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں مساجد اور مدارسِ اسلامیہ کو درپیش مسائل سمیت مذہبی آزادی کے تحفظ سے متعلق مختلف امور پر تفصیلی غور کیا جائے گا۔

جمعیۃ علماء ہند کی جانب سے جاری اطلاع کے مطابق مجلسِ عاملہ کا یہ اہم اجلاس جمعیۃ علماء ہند کے صدر مولانا محمود اسعد مدنی کی صدارت میں ہوگا۔ اجلاس صبح 9 بجے سے دوپہر 2 بجے تک مدنی ہال، مرکزی دفتر جمعیۃ علماء ہند، بہادر شاہ ظفر مارگ، نئی دہلی میں منعقد ہوگا۔ اجلاس میں ملک کے مختلف حصوں سے مجلسِ عاملہ کے ارکان کی شرکت متوقع ہے۔

اجلاس کے ایجنڈے میں انتظامیہ اور عدلیہ کے بعض اقدامات کے تناظر میں شریعت سے متعلق معاملات میں مداخلت اور مذہبی آزادی کے تحفظ سے متعلق مسائل شامل ہیں۔ اس کے علاوہ عبادت گاہوں، خصوصاً مساجد، اور مدارسِ اسلامیہ کو درپیش موجودہ چیلنجز کا بھی جائزہ لیا جائے گا۔

جمعیۃ علماء ہند کے مطابق ملک میں آئین کی بالادستی، قانون کی حکمرانی، مذہبی آزادی اور تمام شہریوں کے مساوی حقوق کا تحفظ ملک کے اتحاد اور سالمیت کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ ان معاملات سے متعلق حالیہ صورتِ حال گہری فکر اور تشویش کا تقاضا کرتی ہے۔

مجلسِ عاملہ کے اجلاس میں ان تمام امور پر اجتماعی طور پر غور کیا جائے گا۔ ارکان ملک میں مذہبی آزادی اور آئینی حقوق سے متعلق صورتِ حال کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ عبادت گاہوں اور مدارس کو درپیش مسائل پر بھی تبادلۂ خیال کریں گے۔

اجلاس کے دوران موجودہ حالات کے پیش نظر جمعیۃ علماء ہند کے آئندہ کے لائحۂ عمل پر بھی غور اور فیصلہ کیے جانے کی توقع ہے۔ تنظیم کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آئینی اصولوں، قانون کی حکمرانی اور شہریوں کے مساوی حقوق کے تحفظ سے متعلق معاملات کو اجلاس میں خصوصی اہمیت دی جائے گی۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔