
جنتر منتر پر مظاہرہ کی فائل تصویر / آئی اے این ایس
اقتدار کی تبدیلی کو اکثر تبدیلی کا مترادف سمجھ لیا جاتا ہے۔ انتخابات ہوئے، حکومت بدلی، چہرے بدلے اور یہ مان لیا گیا کہ ملک بدلنے لگا ہے۔ لیکن کیا اقتدار کے اعلیٰ عہدوں پر بیٹھے چہروں کے بدل جانے سے سماج کا بنیادی ڈھانچہ بدل جاتا ہے؟ کیا غریب کی غربت، مزدور کا عدم تحفظ، کسان کی مجبوری، دلت کی سماجی محرومی، عورت سے متعلق عدم مساوات اور بے روزگار نوجوان کی بے چینی ختم ہو جاتی ہے؟ اگر اس کا جواب ’نہیں‘ ہے تو ہمیں اقتدار کی تبدیلی اور نظام کی تبدیلی کے درمیان فرق سمجھنا ہوگا۔
اقتدار کی تبدیلی جمہوریت کا لازمی عمل ہے۔ کوئی حکومت عوام مخالف ہو جائے، اداروں کو کمزور کرے، شہری حقوق پر پابندیاں عائد کرے یا عوام کی امنگوں سے دور ہو جائے تو اسے انتخابات کے ذریعے ہٹانا ضروری ہے۔ لیکن صرف حکومت بدل دینا کافی نہیں ہے۔ کیونکہ حکومت بدل سکتی ہے، اقتدار کے تعلقات نہیں۔ پالیسیاں بدل سکتی ہیں، معاشی طاقت کا ارتکاز نہیں۔ چہرے بدل سکتے ہیں، ادارہ جاتی ڈھانچہ نہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کئی بار عوام ایک حکومت کو ہٹا کر دوسری حکومت کو منتخب کرتی ہے، لیکن کچھ عرصے بعد وہی مایوسی لوٹ آتی ہے۔ انہیں محسوس ہوتا ہے کہ انہوں نے حکمراں تو بدل دیا، لیکن اپنی زندگی نہیں بدلی۔
اصل سوال یہیں سے شروع ہوتا ہے۔ نظام کسی ایک حکومت کا نام نہیں ہے۔ یہ ان سیاسی، معاشی، سماجی اور ادارہ جاتی تعلقات کا جال ہے جس کے اندر شہری اپنی زندگی گزارتا ہے۔ وسائل پر کس کا کنٹرول ہے، کس کو تعلیم ملتی ہے، کس کو معیاری صحت کی سہولت دستیاب ہے، کس کے پاس روزگار کا تحفظ ہے، کس کی آواز پالیسی سازی تک پہنچتی ہے، کس کے مفادات کو قانون ترجیح دیتا ہے اور کن کے مفادات کو مسلسل ٹالا جاتا ہے، ان سب کی مجموعی شکل ہی نظام ہے۔ اس لیے صرف اقتدار کی تبدیلی سے بنیادی تبدیلی کی امید کرنا ایسا ہی ہے جیسے کسی بیماری کا علاج صرف اس لیے سمجھ لیا جائے کہ ڈاکٹر بدل گیا ہے۔
ہندوستان میں معاشی ترقی ہوئی ہے، لیکن اس کے ساتھ معاشی عدم مساوات بھی بڑھا ہے۔ ایک طرف دولت اور وسائل کا غیر معمولی ارتکاز ہے، تو دوسری طرف کروڑوں لوگوں کی زندگی روزگار، مہنگائی، تعلیم اور صحت کے عدم تحفظ سے گھری ہوئی ہے۔ یہ فرق صرف انفرادی صلاحیت یا محنت کا نتیجہ نہیں ہے۔ سماجی مواقع میں عدم مساوات، وراثت میں ملی دولت، تعلیم تک غیر مساوی رسائی، سرمائے پر کنٹرول اور محنت کی غیر مساوی قدر نے اسے ایک ساختی شکل دے دی ہے۔ عوام دوست نظام غریب کو ہمیشہ امداد حاصل کرنے والا شہری نہیں بناتا، بلکہ اسے ایسے حالات فراہم کرتا ہے جن میں اسے امداد کی ضرورت ہی بتدریج کم ہوتی جائے۔
یہیں معاشی پالیسی کا اصل امتحان ہوتا ہے۔ ترقی کا مطلب صرف بڑے ڈیم، چوڑی سڑکیں، اونچی عمارتیں، حصص بازار میں اضافہ یا مجموعی گھریلو پیداوار نہیں ہو سکتا۔ ترقی کا سوال یہ بھی ہے کہ اس نمو کا فائدہ کس کو ملا اور اس کی قیمت کس نے ادا کی۔ اگر معیشت بڑھتی رہے اور اس کے ساتھ مزدور کی ملازمت غیر محفوظ، کسان کی آمدنی غیر یقینی اور متوسط طبقے کے لیے تعلیم و صحت کے اخراجات بڑھتے جائیں تو ترقی کے اعداد و شمار سماجی اطمینان کا ثبوت نہیں ہو سکتے۔
معیشت انسان کے لیے ہے یا انسان معیشت کے لیے؟ یہ سوال جتنا آسان ہے، اتنا ہی غیر آرام دہ بھی ہے۔ بازار معاشی زندگی کا ایک اہم حصہ ہو سکتا ہے، لیکن بازار کو سماج کا حتمی حاکم نہیں بنایا جا سکتا۔ عوامی اداروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان لوگوں کو حقوق اور تحفظ فراہم کریں جو بازار کی صلاحیت سے باہر رہ جاتے ہیں۔ نظام کی تبدیلی کا سب سے اہم شعبہ تعلیم ہے۔ جس سماج میں امیر اور غریب کے بچوں کے لیے تعلیم کا معیار الگ الگ ہو، وہاں مساوی مواقع صرف آئین کی زبان تک محدود رہ جاتے ہیں۔ نجی تعلیم کے مہنگے ہوتے جانے اور سرکاری تعلیم کے کمزور پڑنے کا سب سے زیادہ نقصان غریب اور نچلے متوسط طبقے کے خاندانوں کو ہوتا ہے۔ اگر تعلیم سماجی ترقی کا راستہ بننے کے بجائے طبقاتی تقسیم کو مستقل کرنے لگے تو وہ نظام کے عدم مساوات کو اگلی نسل تک پہنچا رہی ہے۔ صحت کا سوال بھی اسی نوعیت کا ہے۔
لیکن معاشی مساوات کے سوال کو سماجی مساوات سے الگ کر کے بھی نہیں دیکھا جا سکتا۔ ہندوستان میں ذات پات محض سماجی شناخت نہیں ہے، بلکہ یہ صدیوں سے وسائل، عزت، تعلیم اور مواقع کی تقسیم سے جڑی رہی ہے۔ اسی لیے قانونی مساوات کے باوجود سماجی اور معاشی عدم مساوات برقرار رہ سکتا ہے۔ دلتوں، آدیواسیوں اور دیگر محروم طبقات کے لیے مواقع کی برابری یقینی بنانا کسی پر احسان نہیں، بلکہ جمہوری انصاف کی شرط ہے۔ اسی طرح خواتین کی صورت حال کو صرف خواتین کی فلاح و بہبود کے زمرے میں رکھ دینا کافی نہیں ہے۔ محنت کے سوال کو بھی سیاست کے مرکز میں واپس لانا ہوگا۔
کسی عوامی نمائندے کی شناخت صرف اس کی انتخابی کامیابی سے نہیں ہونی چاہیے۔ یہ دیکھنا چاہیے کہ وہ اقتدار میں پہنچ کر کن کے حق میں کھڑا ہوتا ہے۔ سرمائے اور محنت کے درمیان توازن کیسے قائم کرتا ہے۔ وہ عوامی اداروں کو مضبوط کرتا ہے یا نجی مفادات کے سامنے انہیں کمزور ہونے دیتا ہے۔ وہ اختلاف رائے کو جمہوریت کا حصہ مانتا ہے یا اسے دشمنی سمجھتا ہے۔ وہ غریبوں کو شہری سمجھتا ہے یا محض انتخابی اعداد و شمار۔
انتخابات جیتنا عوام دوست ہونے کا ثبوت نہیں ہے۔ جمہوریت میں اکثریت حاصل کرنا حکومت کرنے کا حق دیتا ہے، لیکن منمانی کرنے کا نہیں۔ اکثریت کی حکومت کو بھی آئین، اداروں، شہری آزادیوں اور اختلاف رائے کے حق کا احترام کرنا پڑتا ہے۔ اگر انتخابات جیتنے کے بعد اقتدار اداروں کو اپنے موافق ڈھالنے لگے، آزاد آوازوں کو کمزور کرے اور تنقید کو ملک مخالف یا ترقی مخالف قرار دے تو انتخابات برقرار رہ سکتے ہیں، لیکن جمہوری ثقافت کمزور ہو سکتی ہے۔
اس لیے نظام کی تبدیلی کا ایک بڑا مطلب اداروں کو اقتدار سے آزاد اور عوام کے تئیں جواب دہ بنانا بھی ہے۔ پارلیمنٹ محض قانون بنانے والی مشین نہیں ہو سکتی۔ عدلیہ محض مقدمات نمٹانے والا ادارہ نہیں ہے۔ انتخابی نظام صرف ووٹنگ کرانے والی مشینری نہیں ہے۔ یونیورسٹیاں صرف ڈگریاں بانٹنے کے مراکز نہیں ہیں اور میڈیا محض سرکاری اطلاعات پھیلانے کا ذریعہ نہیں ہے۔ جمہوری اداروں کا وجود اقتدار پر نگرانی رکھنے اور شہریوں کے حقوق کی حفاظت کرنے کے لیے ہے۔ جب ادارے مضبوط ہوتے ہیں تو اقتدار محدود رہتا ہے۔ جب ادارے کمزور ہوتے ہیں تو اقتدار دھیرے دھیرے خود ہی نظام بن جاتا ہے۔
میڈیا کا سوال بھی اسی سے جڑا ہوا ہے۔ اگر اطلاعات کا ایک بڑا حصہ اقتدار اور بازار کے دباؤ میں تیار ہوگا تو شہریوں کو جمہوری فیصلے کرنے کے لیے ضروری آزادانہ معلومات کہاں سے ملیں گی؟ میڈیا کا کام صرف یہ بتانا نہیں ہے کہ اقتدار میں بیٹھے لوگوں نے کیا کہا۔ اس کا کام یہ پوچھنا بھی ہے کہ انہوں نے ایسا کیوں کیا، اس کا اثر کس پر پڑے گا اور اس سے فائدہ کس کو ہوگا۔ نظام کی تبدیلی کا دوسرا پہلو شہری کا سیاسی کردار ہے۔ عوام کو صرف ووٹر بنا کر رکھنا جمہوریت کو ادھورا کر دیتا ہے۔ انتخابات کے بعد 5 سال تک اگر شہری صرف تماشائی بنا رہے تو اقتدار کے ارتکاز کا امکان بڑھتا جاتا ہے۔ عوام کو پالیسیوں پر سوال اٹھانے، عوامی نمائندوں سے جواب طلب کرنے، اداروں کی نگرانی کرنے اور عوامی مباحثے میں حصہ لینے کا حق اور موقع دونوں ملنے چاہئیں۔
نظام کی تبدیلی کا مطلب سیاست کو ان حقیقی سوالات کے مرکز میں واپس لانا ہے۔ اس کا یہ مطلب بھی نہیں ہے کہ اقتدار میں آنے والا ہر شخص بدعنوان یا استحصال کرنے والا ہوتا ہے اور ہر نیا شخص خود بخود بہتر ہوگا۔ یہی وہ مقام ہے جہاں اقتدار کی تبدیلی اور نظام کی تبدیلی کے درمیان حقیقی فرق نظر آتا ہے۔ اس لیے آج ضرورت صرف ایسی حکومت کی نہیں ہے جو موجودہ حکومت سے بہتر ہو۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایسی سیاست اقتدار کے ارتکاز کے بجائے شہری کی طاقت بڑھائے۔ کیونکہ آخرکار کسی بھی نظام کا امتحان پارلیمنٹ کی راہداریوں میں نہیں، بلکہ سماج کے سب سے کمزور طبقے میں ہوتا ہے۔ جس مزدور کے پاس اپنے مستقبل کا کوئی تحفظ نہیں، جس کسان کی محنت کی قیمت اس کے ہاتھ میں نہیں، جس بچے کی تعلیم اس کے والدین کی آمدنی پر منحصر ہے، جس بیمار شخص کو علاج اور روزی روٹی میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا پڑتا ہے، جس دلت یا محروم شہری کو آج بھی برابری کے لیے جدوجہد کرنی پڑتی ہے اور جس نوجوان کے سامنے تعلیم کے بعد روزگار کی کوئی ضمانت نہیں، اگر ان کی زندگی میں کوئی بنیادی تبدیلی نہیں آئی تو اقتدار کی تبدیلی ادھوری ہے۔
ایک استحصال کرنے والے کے چلے جانے سے استحصال ختم نہیں ہوتا۔ ایک حکومت کے چلے جانے سے اقتدار کی نوعیت نہیں بدلتی۔ ایک انتخاب جیت لینے سے جمہوریت گہری نہیں ہوتی۔ بنیادی تبدیلی اس وقت آئے گی جب اقتدار عوام کے اوپر بیٹھی ہوئی طاقت بننے کے بجائے عوام کے تئیں جوابدہ ادارہ بنے۔ جب معاشی نظام کا مرکز منافع سے آگے بڑھ کر انسان ہو، جب دولت اور مواقع میں عدم مساوات مسلسل کم ہوم جب محنت کو عزت اور مزدور کو تحفظ ملے۔ جب ذات پات اور سماجی محرومی کے خلاف حقیقی مساوات قائم ہو، اور جب جمہوریت ووٹنگ سے آگے بڑھ کر زندگی کے ہر شعبے میں شہری کی شراکت اور حقوق کا نام بن جائے۔ اگر صرف اقتدار بدلنا ہے تو چہرے بدلتے رہیں گے۔ اگر نظام بدلنا ہے تو اقتدار کے کردار، اس کے تعلقات اور اس کی ترجیحات کو بدلنا ہوگا۔ یہی بنیادی تبدیلی کی شروعات ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔