سیاسی

بی جے ڈی کی جانشینی کے لیے امتحان!... این آر موہنتی

نوین پٹنایک کی ’پسندیدہ جانشیں‘ سجاتا راؤت کارتیکین کو پارٹی کے اندر ملا جلا رد عمل اور سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>نوین پٹنایک</p></div>

نوین پٹنایک

 
تصویر نو جیون

24 سالوں تک نوین پٹنایک اڈیشہ کی سیاست کے بے تاج بادشاہ رہے۔ تاہم 2024 کے انتخابات نے ایک فیصلہ کن موڑ لا دیا، جب بی جے پی نے اسمبلی کی 79 سیٹیں جیتیں اور اتحادیوں کے ساتھ مل کر حکومت بنائی۔ بی جے ڈی کو صرف 50 سیٹیں حاصل ہوئیں۔ بات یہیں ختم نہیں ہوئی۔ اسی کے ساتھ ہونے والے لوک سبھا انتخابات میں بی جے پی نے 21 میں سے 20 سیٹوں پر قبضہ کر لیا اور نوین پٹنایک کے طویل اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ اب بی جے ڈی کی اقتدار میں واپسی کو سابق آئی اے ایس افسر سجاتا راؤت کارتیکین کے گرد مرکوز جانشینی کے امتحان کا سامنا ہے۔

پیدائشی طور پر اڑیا اور سابق آئی اے ایس افسر سجاتا دراصل نوین پٹنایک کے معتمد خصوصی سکریٹری اور ان کے طویل دور اقتدار میں پردے کے پیچھے سے حکومت چلانے والے طاقت ور وی کارتیکین پانڈیان کی اہلیہ ہیں۔ پانڈیان کا دبدبہ فیصلہ کن نوعیت کا تھا۔ وزیر اعلیٰ تک رسائی ان ہی کے ہاتھ میں تھی اور انہیں پٹنایک کے طویل عرصے تک اقتدار میں برقرار رہنے کا معمار سمجھا جاتا تھا۔ اس کے باوجود بی جے پی 2024 کے تاریخی انتخابات میں پانڈیان کو ایک ایسے بیرونی شخص کے طور پر پیش کرنے میں کامیاب رہی، جس نے تمل ناڈو کے فائدے کے لیے اڈیشہ کے وسائل کا استحصال کیا۔ اس سے بی جے ڈی کی ساکھ کو گہرا دھچکا پہنچا۔

کیا سجاتا بی جے ڈی کو دوبارہ زندہ کرنے میں کامیاب ہوں گی؟ اس سوال نے سیاسی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ وہ بی جے ڈی میں نئی جان ڈالنے اور اس کا پرانا وقار واپس لانے میں کامیاب ہوں گی، جب کہ دوسروں کا خیال ہے کہ جب باگ ڈور باضابطہ طور پر پٹنایک کے ہاتھوں سے نکلے گی، تو پارٹی دو حصوں میں تقسیم ہو جائے گی۔ حقیقت شاید ان دونوں امکانات کے درمیان کہیں پوشیدہ ہے۔ سجاتا اور پانڈیان کا کیریئر اڈیشہ کے سیاسی سفر سے گہرائی سے جڑا ہوا ہے۔ دونوں آئی اے ایس افسران کو 2000 میں اڈیشہ کیڈر ملا تھا، جو وہی سال تھا جب پٹنایک نے بی جے ڈی۔بی جے پی اتحاد کے سربراہ کی حیثیت سے اقتدار کی باگ ڈور سنبھالی تھی۔

2007 میں گنجام کے ضلع کلکٹر کی حیثیت سے، جو پٹنایک کا آبائی علاقہ اور ان کا اسمبلی حلقہ (ہنجیلی) بھی تھا، پانڈیان نے ایک محنتی، قابل اور ہر کام کو انجام تک پہنچانے والے تیز طرار افسر کے طور پر وزیر اعلیٰ کو کافی متاثر کیا۔ وہ ایسے افسر تھے جو کسی سوال یا ہچکچاہٹ کے بغیر وزیر اعلیٰ کے احکامات پر عمل درآمد کروا سکتے تھے۔ 2011 تک پانڈیان وزیر اعلیٰ کے نجی سکریٹری بن گئے اور اس عہدے پر وہ 12 برس تک رہے۔ اس دوران پانڈیان پارٹی رہنماؤں سے لے کر صنعت کاروں تک، سب کے لیے دربان بن گئے۔ وہ ترقیوں، الاٹمنٹ اور پالیسی سے متعلق فیصلوں کی نگرانی کرتے تھے اور نوین پٹنایک نے اپنی بیشتر طاقتیں عملاً انہی کے حوالے کر رکھی تھیں۔ انہیں پٹنایک کا سایہ سمجھا جاتا تھا۔

پانڈیان تقریباً نوین نواس میں ہی رہنے لگے تھے۔ یہ وہ نجی رہائش گاہ ہے جو وزیر اعلیٰ کو اپنے والد بیجو پٹنایک سے وراثت میں ملی تھی۔ وہ اکثر وزیر اعلیٰ کے سرکاری طیارے سے سفر کرتے اور پٹنایک کی براہ راست شرکت کے بغیر ہی منصوبوں کا افتتاح کرتے تھے۔ وزیر اعلیٰ تک رسائی پر ان کا سخت پہرہ تھا۔ یہاں تک کہ سینئر وزرا بھی پانڈیان کی اجازت کے بغیر وزیر اعلیٰ سے نہیں مل سکتے تھے۔ اسی اجارہ داری نے عدم اطمینان کے بیج بھی بوئے۔ جب پانڈیان نے مئی 2024 کے اسمبلی اور لوک سبھا انتخابات سے محض چھ ماہ پہلے رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لی اور باضابطہ طور پر بی جے ڈی میں شامل ہو گئے، تو منصوبہ یہ تھا کہ انہیں باضابطہ طور پر پٹنایک کا جانشین قرار دے دیا جائے۔ لیکن یہ منصوبہ دھرا کا دھرا رہ گیا۔ بی جے پی نے اپنی پوری توجہ پانڈیان پر مرکوز کر دی۔ ان کی مبینہ بدعنوانی اور ’بیرونی‘ ہونے کے الزام کو اچھالنے کے لیے انتخابی ماحول پوری طرح سازگار ثابت ہوا۔ واٹس ایپ پیغامات اور سوشل میڈیا ویڈیوز کے ذریعے یہ بات گہرائی سے ذہن نشین کرائی گئی کہ پانڈیان نے اڈیشہ کی قیمت پر اپنی آبائی ریاست تمل ناڈو کو خوش حال بنایا۔

جیسے جیسے انتخابی مہم تیز ہوئی، وزیر اعظم نریندر مودی نے خود ان الزامات کو مزید تقویت دی۔ یکے بعد دیگرے ریلیوں میں انہوں نے پارٹی کے اس بیانیے کو دہرایا کہ پانڈیان نے اڈیشہ کی دولت لوٹ کر اپنی آبائی ریاست بھیج دی۔ انہوں نے یہاں تک الزام لگایا کہ جگن ناتھ مندر کے رتن بھنڈار کے اندرونی کمرے کی گم شدہ چابیاں تمل ناڈو بھیج دی گئی ہیں۔ بی جے پی نے ’اڑیا اسمتا‘ یعنی اڑیا شناخت کو انتخابی مہم کا محور بنا دیا اور پانڈیان کو پورے قصے کا ولن بنا کر پیش کیا۔ یہ چال کامیاب رہی۔ 24 برس بعد اقتدار سے باہر ہونے پر بی جے ڈی کارکنوں اور رہنماؤں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ اس ذلت آمیز شکست کا ٹھیکرا براہ راست پانڈیان کے سر پھوڑا گیا۔ حالات کا رخ بھانپتے ہوئے پانڈیان نے ایک ویڈیو جاری کرکے فعال سیاست سے ریٹائرمنٹ کا اعلان کر دیا، اگرچہ پٹنایک انہیں اپنا فطری جانشین سمجھتے رہے تھے۔ لیکن وقت تیزی سے گزر رہا تھا۔ وزیر اعلیٰ کی صحت گرتی دیکھ کر پانڈیان کے لیے ضروری ہو گیا تھا کہ وہ باگ ڈور اپنے ہاتھ میں رکھیں۔ یہیں سے سجاتا کی انٹری ہوتی ہے۔ حساب بالکل واضح تھا: ان پر ’بیرونی‘ ہونے کا ٹھپہ نہیں لگایا جا سکتا تھا۔ ان کے خاندان کی جڑیں کیندرپاڑا میں ہیں، جس علاقے کی پارلیمنٹ میں کبھی بیجو پٹنایک نے نمائندگی کی تھی۔

سجاتا نے مارچ 2025 میں بی جے ڈی کی ریاستی کونسل کی میٹنگ سے محض ایک ماہ پہلے، رضاکارانہ ریٹائرمنٹ لے لی۔ اس بات کے چرچے زوروں پر تھے کہ پٹنایک انہیں پارٹی کا کارگزار صدر بنائیں گے، جس سے وہ عملاً ان کی سیاسی جانشین بن جائیں گی۔ لیکن ’پراکسی تمل حکمرانی‘ کی مخالفت کرنے والے سینئر رہنماؤں کی شدید بغاوت نے ایسے کسی بھی اعلان پر روک لگا دی۔ پانڈیان نے مناسب وقت کا انتظار کرنا بہتر سمجھا۔ اس سال جون میں سجاتا ایک ’عام‘ رکن کی حیثیت سے پارٹی میں شامل ہوئیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ پٹنایک نے ان کی اڑیا شناخت پر زور دیتے ہوئے اور انہیں تمل تعلق سے الگ دکھاتے ہوئے ان کا تعارف سجاتا راؤت کے طور پر کرایا۔

گزشتہ چند مہینوں میں، جن لوگوں نے پانڈیان کے دور میں خوب فائدے اٹھائے تھے، وہ اب سجاتا کے قریب آ رہے ہیں، جبکہ دوسرے رہنما محتاط فاصلہ برقرار رکھے ہوئے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ نوین پٹنایک کی جانشینی کی حکمت عملی تسلسل اور شبیہ سازی کے امتزاج کی عکاسی کرتی ہے، لیکن ساتھ ہی یہ شخصی مرکزیت پر مبنی قیادت کے ماڈل کی کمزوریوں کو بھی بے نقاب کرتی ہے۔ اس کا نتیجہ کیا نکلے گا، یہ دیکھنا ہوگا۔

(مضمون نگار این آر موہنتی نئی دہلی میں مقیم کالم نگار اور ’ہندوستان ٹائمز‘ کے سابق مقامی مدیر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔