سیاسی

پنجاب اسمبلی انتخاب: خوشامد کا سیاسی حساب کتاب... ہرجندر

جب حکومت کے سامنے 7.5 لاکھ ملازمین اور پنشن یافتگان کے مقابلے 68 لاکھ خاتون ووٹرس تک پہنچنے والی ادائیگی کا متبادل ہو، تو معاملہ سیاسی فائدہ کے حساب سے ترجیحات طے کرنے کا ہو جاتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>ووٹنگ کی علامتی تصویر</p></div>

ووٹنگ کی علامتی تصویر

 

انتخابات کا موسم سرکاری ملازمین کے لیے اپنے مسائل اٹھانے کا سب سے موزوں وقت ہوتا ہے۔ سیاسی کیلنڈر میں یہ وہ موقع ہوتا ہے جب کوئی حکومت ان کے مطالبات کے لیے ’نہیں‘ کہنے کا خطرہ مول نہیں لے سکتی۔ اسی سوچ کے ساتھ پنجاب میں 2027 کے اسمبلی انتخابات سے قبل ملازمین کی یونینس زیر التوا مہنگائی بھتہ (ڈی اے) کے بقایہ جات کی ادائیگی کے مطالبہ کو لے کر مارچ نکال رہی ہیں، ہڑتال کر رہی ہیں، عدالتوں کا دروازہ کھٹکھٹا رہی ہیں۔ لیکن بھگونت سنگھ مان حکومت کا رویہ کچھ مختلف نظر آ رہا ہے۔ اس کی توجہ 7.5 لاکھ ملازمین اور پنشن یافتگان پر نہیں، 68 لاکھ خاتون ووٹرس پر ہے۔

ریاست میں ملازمین کی یونینس دیگر کچھ مطالبات کے ساتھ ہی 18 فیصد زیر التوا ڈی اے بقایہ جات کی ادائیگی اور پرانی پنشن اسکیم (او پی ایس) بحال کرنے کا مطالبہ کر رہی ہیں۔ یونینس کے مطابق زیر التوا ڈی اے بقایہ اور اس سے متعلق دیگر ادائیگیاں تقریباً 14,191 کروڑ روپے ہیں۔ ریاستی حکومت نے بھی اس نمبر کو براہ راست مسترد نہیں کیا ہے۔ ملازمین کی دلیل سیدھی ہے کہ ٹیکس وصولی میں اضافہ ہوا ہے، اس لیے حکومت کے پاس ادائیگی کرنے کی صلاحیت ہے۔ اس مطالبے کا سیاسی وزن بھی کم نہیں ہے۔ تقریباً 3.5 لاکھ ملازمین اور 4 لاکھ پنشن یافتگان کے اس تحریک کے پیچھے کھڑے ہونے سے یہ تعداد اتنی بڑی ہے کہ انتخابی سال میں اقتدار میں بیٹھی کسی بھی حکومت کے لیے اسے نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

یہ ٹکراؤ اب عدالت تک پہنچ چکا ہے۔ پنجاب اور ہریانہ ہائی کورٹ نے ریاستی حکومت کو بقایہ ڈی اے کی باقی ادائیگی 15 دن کی مقررہ مدت میں کرنے کی ہدایت دی۔ اسے ماننے کے بجائے بھگونت مان حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی۔ اس کی دلیل ہے کہ فوری ادائیگی عملی طور پر ممکن نہیں ہے اور اس سے ضروری عوامی اخراجات متاثر ہوں گے۔ یہی دلیل پوری کہانی کو دلچسپ بنا دیتی ہے۔ ایک طرف حکومت مالی مجبوری کا حوالہ دے رہی ہے، تو دوسری طرف وہ پنجاب کی تاریخ کی سب سے مہنگی فلاحی اسکیم میں کھلے ہاتھ سے خرچ کر رہی ہے۔

بات ہو رہی ہے ’مکھیہ منتری ماواں دھیاں ستکار یوجنا‘ یعنی ’وزیر اعلیٰ ماں-بیٹی احترام اسکیم‘ کی۔ اس کے تحت درج فہرست ذاتوں کے خاندانوں کی خواتین کو ہر ماہ 1,500 روپے اور دیگر اہل زمروں کی خواتین کو 1,000 روپے کی مالی امداد دینے کا وعدہ ہے۔ اس کے پیسے براہ راست خواتین کے کھاتوں میں پہنچیں گے۔ اس اسکیم کے لیے اب تک 68 لاکھ سے زیادہ خواتین کا رجسٹریشن ہو چکا ہے اور 3 قسطیں مستفیدین کے آدھار سے منسلک بینک کھاتوں میں براہ راست بھیجی جا چکی ہیں۔ ووٹنگ سے پہلے مزید 3 قسطیں بھیجے جانے کی امید ہے۔ مجموعی طور پر اس اسکیم پر ریاست کے خزانے سے تقریباً 20,000 کروڑ روپے خرچ ہونے کا اندازہ ہے۔

اس اسکیم کا ایک دوسرا پہلو بھی ہے، جس پر سوال اٹھ رہے ہیں۔ حکومت نے ہر اسمبلی حلقے میں خاتون رضاکاروں کا ایک بڑا نیٹورک تیار کیا ہے۔ انہیں ’ستکار سکھی‘ کہا گیا ہے۔ ان کا کام اسکیم کے لیے اہل خواتین کا رجسٹریشن کرنا ہے۔ ہر رجسٹریشن کے لیے رضاکار کو 200 روپے کی مقررہ ادائیگی کی جاتی ہے۔ اگرچہ اس کی سرکاری تصدیق نہیں ہوئی ہے، لیکن کہا جا رہا ہے کہ یہ رجسٹریشن مہم ہر اسمبلی حلقے میں خاتون ووٹرس کا باریک سطح کا ڈاٹا بیس تیار کرنے کا ذریعہ بھی بن رہی ہے۔ اس میں فون نمبر جیسی معلومات شامل ہیں، جو انتخابات قریب آنے پر بہت مفید ہو سکتی ہیں۔

اس کی ریاضی پر غور کیجیے۔ ایک طرف 7.5 لاکھ ملازمین اور پنشن یافتگان کو 14,191 کروڑ روپے کے ڈی اے بقایہ جات کی ادائیگی کرنی ہے۔ یہ ایک ایسا ووٹر گروپ ہے جو تعداد میں محدود ہے اور اپنی سیاسی وفاداری کے لحاظ سے بھی کافی حد تک مستحکم سمجھا جاتا ہے۔ دوسری طرف تقریباً 20,000 کروڑ روپے کی فلاحی اسکیم ہے، جس کا فائدہ ریاست کے تقریباً ہر خاندان اور ہر اسمبلی حلقے تک پہنچ رہا ہے اور جو تقریباً 10 گنا زیادہ لوگوں کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے علاوہ اگلی قسطیں ووٹنگ سے ٹھیک پہلے پہنچنے والی ہیں۔ دونوں کو ساتھ رکھ کر دیکھنے پر سمجھ آتا ہے کہ حکومت ایک طرف اس اسکیم کو آگے بڑھانے کے لیے تیار کیوں ہے اور دوسری طرف ڈی اے بقایہ جات کی فوری ادائیگی کو ’ناممکن‘ کیوں بتا رہی ہے۔

وزیر خزانہ ہربھجن سنگھ چیما عوامی طور پر یہ کہتے رہے ہیں کہ آمدنی کی وصولی میں اضافے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ حکومت کے پاس اضافی نقدی دستیاب ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ پنجاب پر قرض ادا کرنے کا بھاری بوجھ ہے اور ریاست مسلسل ساختی مالی خسارے سے دوچار ہے۔ یہ سچ بھی ہے۔ سال کا مالی خسارہ تقریباً 39,971 کروڑ روپے رہنے کا اندازہ ہے، جو مجموعی ریاستی گھریلو پیداوار (جی ایس ڈی پی) کا تقریباً 4.2-4.1 فیصد ہے، جو ہدف سے کافی زیادہ ہے۔

پنجاب کا بقایہ عوامی قرض پہلے ہی 4.13 لاکھ کروڑ روپے سے تجاوز کر چکا ہے اور یہ تقریباً 4.47 لاکھ کروڑ روپے تک پہنچنے والا ہے۔ اس سے قرض اور جی ایس ڈی پی کا تناسب تقریباً 45 فیصد ہو جاتا ہے، جو بڑی ہندوستانی ریاستوں میں سب سے زیادہ ہے۔ ریاست کی آمدنی کی وصولیوں کا 90 فیصد سے زیادہ حصہ پہلے ہی تنخواہ، پنشن، بجلی سبسڈی اور سود کی ادائیگی میں چلا جاتا ہے۔ یعنی خزانے میں دونوں کے لیے کافی گنجائش شاید بالکل نہیں ہے۔ اور جب محدود مالی گنجائش والی کسی حکومت کے سامنے 7.5 لاکھ ملازمین اور پنشن یافتگان کے مقابلے 68 لاکھ خاتون ووٹرس تک پہنچنے والی ادائیگی کا اختیار ہو، تو معاملہ صرف ادائیگی کرنے کی صلاحیت کا نہیں، بلکہ سیاسی فائدے کے حساب سے ترجیحات طے کرنے کا ہو جاتا ہے۔

حالانکہ حکومت کا کہنا ہے کہ اس نے اپنے ملازمین کو پوری طرح نظر انداز نہیں کیا ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ 2021 کے آخر سے مرحلہ وار طریقے سے ڈی اے میں 14 فیصد کا اضافہ کیا جا چکا ہے اور اب یہ 42 فیصد ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ 4,500 کروڑ روپے سے زیادہ کا بقایہ ماہانہ قسطوں کے ذریعے ادا کیا جا چکا ہے۔ سرکاری حکام کی یہ بھی دلیل ہے کہ پنجاب کی تنخواہ کا ڈھانچہ پہلے سے ہی مرکز کے مقابلے میں زیادہ فراخ دلانہ ہے۔ ان کے مطابق 42 فیصد ڈی اے حاصل کرنے والا ریاستی حکومت کا ایک کلرک 60 فیصد ڈی اے حاصل کرنے والے مرکزی حکومت کے ملازم سے زیادہ تنخواہ گھر لے جاتا ہے۔

پرانی پنشن اسکیم بحال کرنا یا ڈی اے کا پورا بقایہ ادا کر دینا ایک محدود ووٹر گروپ کو مطمئن کر سکتا ہے۔ اس کے برعکس ’ماواں دھیاں ستکار یوجنا‘ کی توسیع خاتون ووٹرس کے ایسے گروپ تک پہنچتی ہے، جو تقریباً 10 گنا بڑا ہے۔ اس کے تحت براہ راست ان کے بینک کھاتوں میں نقد رقم پہنچائی جا رہی ہے اور ووٹنگ سے پہلے اس کی کئی مزید قسطیں پہنچ جائیں گی۔ اس کے علاوہ رجسٹریشن مہم کے ذریعہ حکمراں جماعت کو ممکنہ طور پر خاتون ووٹرس کا ایک نیا ڈاٹا بیس بھی مل رہا ہے، جو انتخابی مہم میں بڑا کردار ادا کرنے والا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔