پرویندر سنگھ جھوٹا (بائیں)، تصویر سوشل میڈیا
پنجاب نے کئی قتل دیکھے ہیں، لیکن شاید ہی کسی قتل کو اس طرح براہ راست دیکھا گیا ہو۔ 13 اکتوبر کو صبح تقریباً 9.15 بجے پرویندر سنگھ ’جھوٹا‘ فون سے ریکارڈنگ کرتے ہوئے مانسا کی ایک دوا کی دکان میں داخل ہوا۔ تقریباً 4 منٹ تک فیس بک لائیو پر اس کے مداحوں نے جھوٹا کو دکان کے مالک اشونی کمار سے الجھتے ہوئے دیکھا، جہاں وہ اس پر ایک بزرگ کو نشہ آور اشیا فروخت کرنے کا الزام لگا رہا تھا۔ کمار نے پستول نکال لی۔ اس پر جھوٹا نے للکارا ’مار مینوں، مار مینوں‘ (مجھے مار، گولی چلا)۔ پھر 3 گولیوں کی تڑتڑاہٹ... فون کا زمین پر گرنا اور اسکرین پر اندھیرا چھا جانا!
جھوٹا کا مطلب ہوتا ہے ’سانڈ‘، ایسا لقب جو پرویندر پر بالکل صادق آتا تھا۔ سابق باکسر اور نشے کی لت سے نجات حاصل کر چکا نوجوان اپنے ہی ماضی کے خوف کو ’نشہ روکو، روزگار دو‘ کی جنگ میں بدل چکا تھا۔ مانسا اور بھٹنڈہ کے دیہات کی کمیٹیوں نے اس کے انسداد منشیات کے طریقۂ کار کو ہاتھوں ہاتھ لیا تھا۔ جھوٹا کا طریقہ سیدھا لیکن مؤثر تھا: ہاتھ میں کیمرہ لیے دکان یا اڈے میں داخل ہونا اور چِٹّا فروخت کرنے والوں کو رنگے ہاتھوں پکڑنا۔
اشونی کمار کے ساتھ اس کا تصادم کوئی نئی بات نہیں تھی۔ جولائی 2023 میں جھوٹا اور اس کے حامیوں نے اس کیمسٹ پر ممنوعہ ادویات فروخت کرنے کا الزام لگاتے ہوئے اسے جوتوں کا ہار پہنا کر بازار میں گھمایا تھا۔ دونوں فریقوں کے خلاف ایف آئی آر درج ہوئی اور جھوٹا کو کئی ماہ جیل کی سلاخوں کے پیچھے گزارنے پڑے۔ دوسری جانب کم از کم 5 ایف آئی آر کا سامنا کرنے والے کمار کو 7.62 ایم ایم پستول اور 12 بور بندوق کا لائسنس دے دیا گیا۔
اس واقعے نے لیڈر، پولیس اور اسمگلر کے اس پرانے گٹھ جوڑ کو بے نقاب کر دیا، جسے سیاسیات کے ماہرین ’آہنی مثلث‘ کہتے ہیں اور پنجاب کے لوگ عام بول چال میں ’سیٹنگ‘ کہتے ہیں۔ جھوٹا کے قتل کے چند ہی دنوں کے اندر تھانہ انچارج کو معطل کر دیا گیا اور ایس ایس پی نے دعویٰ کیا کہ ایک ماہ میں کیمسٹوں کے خلاف 138 سے زیادہ مقدمات درج کیے گئے۔ سوال اٹھا کہ پولیس نے یہ کام 3 سال بعد کیوں کیا؟
گزشتہ 4 برسوں میں مانسا نے پنجاب کو 2 ’شہید‘ دیے ہیں۔ مئی 2022 میں سدھو موسے والا کی جان لی گئی اور اب کیمرے کے سامنے جھوٹا کی جان چلی گئی۔ اس بار بھی قتل کے خلاف ویسا ہی عوامی غم و غصہ ہے جیسا موسے والا کے قتل کے بعد دیکھنے میں آیا تھا۔ ایس جی پی سی نے کہا کہ جھوٹا کی تصویر دربار صاحب کے مرکزی سکھ میوزیم میں لگائی جائے گی، جبکہ اس کا خاندان اسے باضابطہ طور پر شہید کا درجہ دینے اور مانسا میں اس کا مجسمہ نصب کرنے کا مطالبہ کر رہا ہے۔ جس شخص کو ریاست نے جیل میں ڈالا، اسے پنتھ اور عوام اپنا ہیرو مان رہے ہیں۔
عام آدمی پارٹی (عآپ) کا ردعمل وہی رہا جس میں وہ ماہر ہے، یعنی کہانی کا رخ موڑنا۔ پولیس نے اسے ’ذاتی رنجش‘ کا رنگ دینے کی کوشش کی۔ لیکن یہ چال کامیاب نہیں ہوئی، کیونکہ پورا پنجاب وہ ویڈیو دیکھ چکا تھا۔ اس کے بعد بلڈوزر نکالے گئے۔ محض 24 گھنٹے کے اندر انتظامیہ کمار کی دکان اور گھر کو منہدم کرتی دکھائی دی۔ اتر پردیش سے درآمد کیے گئے ’بلڈوزر انصاف‘ کے مکمل ہونے کا ہجوم نے انتظار نہیں کیا۔ لوگوں نے دوائیں نکالیں، جن میں ان کے مطابق ممنوعہ کیپسول بھی شامل تھے، اور اس ٹھکانے کو آگ لگا دی۔
حکومت کی انتخاب سے پہلے کی سب سے زیادہ تشہیر کی جانے والی مہم ’یُدھ نشیاں وِرُدھ‘ (منشیات کے خلاف جنگ) ہے۔ مظاہرین نے اسے ’یُدھ نشہ روکَن والیاں وِرُدھ‘ (منشیات روکنے والوں کے خلاف جنگ) قرار دیا۔ ’ایماندار وزیر اعلیٰ‘ کی تعریف کرنے والے ہورڈنگز پر سیاہی پوت دی گئی اور ’ایماندار‘ کو کاٹ کر ’بے ایمان‘ لکھ دیا گیا۔ بیانات کی اس جنگ میں ’عآپ‘ کا ’وار روم‘ پوری طرح شکست کھا گیا۔ اس معاملے میں ایک اور گہرا تضاد بھی تھا۔ جھوٹا کے دوستوں کے مطابق 2022 میں اس نے مانسا سے ’عآپ‘ کے وجے سنگلا کی اس امید میں حمایت کی تھی کہ پارٹی منشیات کے کاروبار کو ختم کرے گی۔ چند ماہ کے اندر سنگلا کو بدعنوانی کے الزامات میں کابینہ سے نکال دیا گیا۔ امیدیں ٹوٹنے کے بعد جھوٹا الگ ہو گیا۔ جس شخص کو پارٹی کبھی اپنا سپاہی سمجھتی تھی، وہ آج اسی کے خلاف غصے کی علامت بن چکا تھا۔
غصے سے پھوٹنے والا بے ساختہ احتجاج اب ایک روایتی محاذ میں تبدیل ہو گیا ہے۔ مشترکہ ایکشن کمیٹی مانسا میں دھرنا دے رہی ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں، کسان تنظیموں، سابق فوجیوں، ملازمین کی تنظیموں، شہری سماج اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز کا ہجوم وہاں ڈٹا ہوا ہے۔ 15 اکتوبر کا ’پنجاب بند‘ ایسا مظاہرہ تھا، جیسا کسان تحریک کے بعد شاید ہی کبھی دیکھنے میں آیا ہو۔ 19 اکتوبر کو محاذ نے عام آدمی پارٹی کے تمام 92 اراکین اسمبلی کی دہلیز تک اپنے ’لاہنت پتر‘ (مذمتی خطوط) پہنچائے۔ ایک بھی رکن اسمبلی اسے لینے کے لیے باہر نہیں نکلا۔ البتہ پارٹی سے نکالے گئے سکھبیر سنگھ میسرخانہ نے اسے ضرور وصول کیا اور تسلیم کیا کہ پارٹی سے چوک ہوئی ہے۔
آخرکار 20 اکتوبر کی صبح امت شاہ کے پنجاب پہنچنے سے چند گھنٹے پہلے بھگونت مان نے ’ایکس‘ پر اعلان کیا کہ معاملہ سی بی آئی کے حوالے کیا جا رہا ہے۔ یہ فیصلہ اس پارٹی کی جانب سے آیا جس نے ایک دہائی تک مرکزی ایجنسیوں کو بی جے پی کا ’طوطا‘ قرار دیا تھا۔ شاہ نے اس موقعے کا بھرپور سیاسی فائدہ اٹھایا۔ انہوں نے جھوٹا کے گھر پر بمشکل 20 منٹ گزارے اور باقی دن کو سیاسی تعزیتی اجتماعات میں تبدیل کر دیا۔ انہوں نے گرداس پور میں بکرم جیت سنگھ اور سنگرور میں گلزار سنگھ کے اہل خانہ سے ملاقات کی۔ مان حکومت کو ’آپدا‘ (آفت) قرار دیتے ہوئے کہا کہ پنجاب میں منشیات کے خلاف بولنے والا کوئی بھی شخص محفوظ نہیں ہے۔ دیہی پنجاب میں معمولی سیاسی حیثیت رکھنے والی بی جے پی اب چِٹّا کے خلاف جھنڈا اٹھا کر اپنی جگہ بنانا چاہتی ہے۔
یہی وہ پیچیدہ معاملہ ہے جس کے بارے میں یہ محاذ شروع ہی سے محتاط رہا ہے۔ چونکہ بی ایس ایف مرکزی وزارت داخلہ کے ماتحت ہے، اس لیے محاذ نے پہلے شاہ کے دورے کی مخالفت کرنے کا فیصلہ کیا تھا، لیکن خاندان کے اصرار پر اپنا موقف نرم کر لیا۔ جھوٹا کا خاندان کوشش کر رہا ہے کہ اس کی جدوجہد کو کوئی سیاسی فائدہ اٹھانے کے لیے استعمال نہ کر سکے۔ اس پورے واقعے کے مرکز میں جھوٹا کے والد بھیم سنگھ بھی ہیں، جو سابق فوجی اور چٹان جیسا حوصلہ رکھنے والے شخص ہیں۔ جب ایس جی پی سی نے ان کے 2 پوتوں کے لیے 10-10 لاکھ روپے کی فکسڈ ڈپازٹ (ایف ڈی) کی پیشکش کی تو انہوں نے مؤدبانہ انداز میں اسے ٹھکرا دیا اور کہا کہ یہ مدد ان 4 نوجوانوں کو دی جائے جو ان کے بیٹے کے ساتھ زخمی ہوئے تھے۔
12 اکتوبر تک عآپ بے فکر دکھائی دے رہی تھی۔ اس کا عوامی فلاح و بہبود کا مقبول ماڈل، یعنی مفت بجلی، محلہ کلینک اور خواتین کو ایک ہزار روپے لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا چکا تھا۔ بے ادبی کے تنازعے اور بیوی و قریبی ساتھیوں پر بدعنوانی کے الزامات کے باوجود مان کی شبیہ بے داغ تھی۔ اکالیوں میں انتشار، کانگریس کی اندرونی رسہ کشی اور دیہی ووٹرز کی حمایت حاصل کرنے کے لیے بھٹکتی بی جے پی کے درمیان سیاسی بیانیے پر حکومت کی گرفت مضبوط دکھائی دے رہی تھی۔
جھوٹا کے قتل نے پورے ڈھانچے کی دراڑیں نمایاں کر دیں۔ جو پارٹی سوشل میڈیا ریلز کے سہارے کھڑی ہوئی تھی، وہ انہی ریلز کے ذریعے گھیرے میں بھی آ سکتی ہے۔ پارٹی صرف ایک چہرے پر ٹکی ہوئی ہے۔ جب مان کی ساکھ پر آنچ آتی ہے تو اس جھٹکے کو سنبھالنے کے لیے دوسری صف موجود نہیں ہوتی۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ پارٹی ان 2 بنیادی مسائل پر ناکام ثابت ہوئی ہے جو سب سے زیادہ اہم ہیں، یعنی منشیات اور امن و قانون کی صورت حال۔
حالیہ تاریخ کو دیکھتے ہوئے پارٹی کو فکر مند ہونا چاہیے۔ پنجاب میں حکومتیں ووٹوں سے ہارنے سے پہلے سڑکوں پر اپنی ساکھ کھوتی ہیں۔ مضبوط شہری سماج اور سوشل میڈیا کی وسیع رسائی حکومتوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کرتی رہی ہے۔ 2015 میں برگاڑی اور بہبل کلاں کے واقعات نے اکالی دل کی کمر توڑ دی تھی۔ پارٹی 2017 میں 15 سیٹوں اور 2022 میں محض 3 سیٹوں تک سمٹ گئی۔ 21-2020 کی کسان تحریک نے روایتی پارٹیوں کی ساکھ کو اس حد تک تباہ کر دیا کہ ’عآپ‘ 117 میں سے 92 سیٹیں جیت کر اقتدار کی بلندیوں پر پہنچ گئی۔ عآپ سڑکوں پر اٹھنے والے غصے کی گزشتہ بڑی لہر پر سوار ہو کر اقتدار میں آئی تھی۔ اب سوال یہ ہے کہ کیا غصے کی یہ نئی لہر اسے اقتدار سے باہر کا راستہ دکھا دے گی؟
اگر یہ تحریک جاری رہی، مردہ خانے میں پڑی لاش، دھرنے پر بیٹھے والد اور ہر اسمارٹ فون پر گونجتی ویڈیو کے ساتھ، تو بھگونت مان کا بھی وہی حشر ہو سکتا ہے جو برگاڑی نے بادل خاندان کا کیا تھا۔ جھوٹا کی لائیو ویڈیو 13 اکتوبر کو بھلے ہی بند ہو گئی ہو، لیکن سیاست کی یہ براہ راست نشریات اب بھی جاری ہیں اور ممکن ہے کہ اس کا انجام ’عآپ‘ کو راس نہ آئے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔