سیاسی

سندھو آبی معاہدے پر مودی کا جارحانہ رویہ ایک اور سفارتی غلطی ثابت ہو رہا... اشوک سوین

1960 کے آبی معاہدے پر بین الاقوامی عدالت کے فیصلہ کو ہندوستان کی جانب سے نہ ماننے سے چین کو ایک خطرناک نظیر مل گئی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر / اے آئی</p></div>

علامتی تصویر / اے آئی

 

اپریل 2025 میں جموں و کشمیر کے پہلگام میں دہشت گردانہ حملہ کے بعد ہندوستان نے جب سندھو آبی معاہدے پر روک لگائی، تو مودی حکومت نے اس فیصلے کو اسٹریٹجک مضبوطی کے طور پر پیش کیا۔ پیغام یہ تھا کہ پاکستان سرحد پار دہشت گردی کی حمایت کرتے ہوئے مشترکہ دریاؤں پر تعاون کا فائدہ نہیں اٹھا سکتا۔ یہ نعرہ سیاسی طور پر پرکشش ہو سکتا ہے، لیکن اس کے پیچھے کی پالیسی قانونی طور پر مشکوک، عملی طور پر بے اثر اور اسٹریٹجک طور پر دور اندیشی سے عاری تھی۔ دی ہیگ میں آربیٹریشن کورٹ کے حالیہ فیصلے اور اسے ماننے سے ہندوستان کے صاف انکار نے اس خودکش فیصلے کو سنگین سفارتی غلطی میں تبدیل کر دیا ہے۔

عدالت نے فیصلہ سنایا ہے کہ 1960 کا سندھو آبی معاہدہ پوری طرح نافذ ہے اور ہندوستان اپنی ذمہ داریوں پر یک طرفہ طور پر روک نہیں لگا سکتا۔ عدالت نے کشمیر میں رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ کی تعمیر کے کام پر بھی عبوری روک لگانے کا حکم دیا ہے۔ عالمی بینک کی جانب سے مقرر کیے گئے غیر جانب دار ماہر کا فیصلہ بھی جولائی 2027 تک آنے کی امید ہے اور اس کے 90 دنوں تک ہندوستان کو ڈیم کی دیوار یا پاور انٹیک اسٹرکچر کو مقررہ حد سے زیادہ اونچا نہ کرنے کو کہا گیا۔ ہندوستان کی وزارت خارجہ نے اس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹریبونل کی تشکیل غیر قانونی طریقے سے کی گئی ہے۔ ہندوستان نے زور دے کر کہا ہے کہ اس کے فیصلوں کا ہندوستان کے پروجیکٹس پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

ہندوستان طویل عرصہ سے اس معاہدے کے تحت ’کورٹ آف آربیٹریشن‘ اور ’نیوٹرل ایکسپرٹ پروسیس‘ کو ایک ساتھ شروع کرنے کی مخالفت کرتا رہا ہے۔ اسے یہ قانونی دلیل دینے کا حق ہے۔ لیکن اس میں شامل ہونے سے انکار کرنے پر کارروائی ختم نہیں ہو جاتی، اور نہ ہی کسی ناموافق فیصلے کو خود مختاری پر حملہ قرار دینے سے ہندوستان کی معاہدے سے متعلق ذمہ داریاں ختم ہو جاتی ہیں۔ خود مختاری میں پابند کرنے والے معاہدے کرنے کی صلاحیت شامل ہوتی ہے۔ یہ کسی ملک کو ایسی آزادی نہیں دیتی کہ جب بھی ان پر عمل کرنا سیاسی طور پر غیر آرام دہ ہو، تو وہ ان کو نظر انداز کر دے۔

سندھو آبی معاہدے میں ایسی کوئی شق نہیں ہے جو کسی بھی فریق کو اسے یکطرفہ طور پر روکنے یا ٹالنے کی اجازت دے۔ دراصل، اس کی مضبوطی کی وجہ یہ تھی کہ پانی کے معاملے میں تعاون کو ہندوستان-پاکستان کے تعلقات میں آنے والے اتار چڑھاؤ سے الگ رکھا گیا۔ یہ معاہدہ 1965 اور 1971 کی جنگوں، کارگل تنازعہ اور بار بار پیدا ہونے والے فوجی بحرانوں کے باوجود قائم رہا۔ اگر جنگ بھی اس معاہدے کو ختم نہیں کر سکی، تو اس کے کام کاج کو پاکستان کی جانب سے دہشت گردی کو مکمل طور پر ختم کرنے کی ایسی شرط سے جوڑنا، جس کی کوئی مدت مقرر نہیں ہے، دراصل پانی کے اس معاہدے کو سیاسی منمانی کا ایک غیر یقینی ذریعہ بنا دیتا ہے۔

دہشت گردی ہندوستان کے لیے اس کی سلامتی سے جڑی ایک سنگین اور جائز تشویش ہے۔ سرحد پار تشدد پھیلانے والے گروہوں کو کسی بھی طرح کی مدد دینے کے لیے پاکستان کو ذمہ دار ٹھہرایا جانا چاہیے۔ لیکن سزا قانونی، مناسب اور اسٹریٹجک طور پر فائدہ مند ہونی چاہیے۔ پاکستان کی زراعت کو سہارا دینے والے معاہدے کو منسوخ کرنے کا فیصلہ ان پیمانوں پر پورا نہیں اترتا۔ اس سے توجہ دہشت گردی سے ہٹ کر ہندوستان کے رویے پر چلی جاتی ہے، پاکستان کو خود کو بین الاقوامی قانون کا محافظ بتانے کا موقع ملتا ہے، اور لاکھوں عام لوگوں کے لیے خوراک اور روزگار کے لیے ضروری وسائل کو لے کر غیر یقینی پیدا ہو جاتی ہے۔

اس معاہدے کو معطل کرنے سے ہندوستان کو ملنے والے مادی فوائد کو بھی بہت بڑھا چڑھا کر بتایا گیا ہے۔ مغربی دریاؤں کو روکنے یا ان کا رخ موڑنے کے لیے ہندوستان کے پاس ضروری ذخیرہ کرنے اور پانی کا رخ موڑنے کا بنیادی ڈھانچہ نہیں ہے۔ پہاڑی خطے کی وجہ سے ان دریاؤں کے پانی کو کہیں اور لے جانا انتہائی مشکل ہے، جبکہ ہندوستانی کشمیر کے بیشتر حصے میں پہلے ہی آبپاشی کے لیے کافی پانی دستیاب ہے۔ ہندوستان اعداد و شمار شیئر کرنے میں کھیل کر سکتا ہے، آبی ذخائر کے آپریشن میں تبدیلی کر سکتا ہے اور زراعت کے حساس اوقات کے دوران تشویش پیدا کر سکتا ہے۔ لیکن، برسوں کی تعمیر، بھاری اخراجات اور سنگین ماحولیاتی و سلامتی کے خطرات کے بغیر سندھو دریائی نظام کو بند کرنا ممکن نہیں ہے۔

ایسی پالیسی جو بغیر کسی کام کے دباؤ بنانے کے لیے بھاری قانونی اور سفارتی قیمت ادا کرنے پر مجبور کرے، وہ صرف سیاسی دکھاوا ہے، نہ کہ اسٹریٹجک سختی۔ ’آپریشن سندور‘ کے اپنے اعلان کردہ فوجی مقاصد پورے نہ کر پانے کے بعد، معاہدے کو سرد خانے میں ڈالنے سے نریندر مودی کو اپنی مضبوطی دکھانے میں مدد ملتی ہے۔ پھر بھی، صرف دکھاوے کے لیے کی گئی جوابی کارروائی ایک ٹھوس علاقائی حکمت عملی کی جگہ نہیں لے سکتی۔ پانی کو ہتھیار بنانے سے سزا کی داخلی طلب تو پوری ہو سکتی ہے، لیکن اس سے پاکستان کو عین وہ بین الاقوامی پلیٹ فارم مل جاتا ہے جس سے ہندوستان نے اسے ہمیشہ دور رکھنے کی کوشش کی ہے۔

پاکستان نے عالمی بینک سے رابطہ کیا ہے اور یہ معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے سامنے رکھا ہے۔ اس معاہدے میں کچھ خاص طریقہ کار سے متعلق ذمہ داریوں کے لیے عالمی بینک کے دستخط ہیں، اور اس کے تنازعات کو حل کرنے کا طریقہ اسی ادارے کی جانب سے کی گئی تقرریوں پر منحصر ہے۔ اس لیے ہندوستان کا ٹکراؤ اب صرف پاکستان تک محدود نہیں ہے۔ ثالثی کے عمل کو مکمل طور پر مسترد کر کے ہندوستان اس بین الاقوامی ڈھانچے کو چیلنج کر رہا ہے جسے اس نے کئی دہائیوں تک قبول کیا اور استعمال کیا۔ اس سے ایک ذمہ دار طاقت کے طور پر ہندوستان کا دعویٰ کمزور ہوتا ہے، جو کثیرالجہتی نظام اور قواعد پر مبنی بین الاقوامی نظام کے لیے پابند عہد ہے۔

ویسے بھی جس وقت یہ فیصلہ آیا ہے، وہ بہت نقصان دہ ہے۔ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات بہتر ہوئے ہیں، جبکہ چین کے ساتھ اس کی اسٹریٹجک شراکت داری بہت مضبوط بنی ہوئی ہے۔ ’آپریشن سندور‘ کے دوران، چین نے پاکستان کو فوجی ساز و سامان اور آپریشنل و انٹیلی جنس مدد فراہم کی۔ اب پاکستان آسانی سے امریکہ میں اپنی سفارتی رسائی اور چین سے ملنے والی اسٹریٹجک حمایت کے ساتھ اپنی کمزوریوں کو بھی ملا سکتا ہے۔ پاکستان کو الگ تھلگ کرنے کے بجائے ہندوستان کی سندھو پالیسی نے ایک ایسا مسئلہ کھڑا کر دیا ہے جس پر پاکستان بڑے پیمانے پر بین الاقوامی ہمدردی حاصل کر سکتا ہے۔

ادھر چین یارلنگ سانگپو ندی کے بالائی حصے پر کنٹرول رکھتا ہے، جو ہندوستان میں برہم پتر ندی بن جاتی ہے۔ ہندوستانی سرحد کے قریب ’گریٹ بینڈ‘ کے نزدیک چین کا وسیع پن بجلی پروجیکٹ، چین کو ہندوستان کے شمال مشرقی خطے کے لیے انتہائی اہم اس ندی کے بہاؤ کو کنٹرول کرنے کی زیادہ صلاحیت دے گا۔ ہو سکتا ہے کہ چین برہم پتر کے بہاؤ کو مکمل طور پر نہ روک پائے، کیونکہ ندی کے پانی کا ایک بڑا حصہ تبت سے آگے کے علاقوں سے آتا ہے۔ پھر بھی، آبی ذخیرے کے آپریشن، پانی سے متعلق اعداد و شمار فراہم نہ کرنے اور اچانک پانی چھوڑنے سے سنگین خطرات پیدا ہو سکتے ہیں۔ ہندوستان چین سے شفافیت اور تحمل برتنے کا مضبوطی سے مطالبہ نہیں کر سکتا، جبکہ وہ خود اپنے زیریں بہاؤ والے پڑوسی ملک کے تئیں اپنی پابند ذمہ داریوں کو نظر انداز کرنے کا حق جتاتا ہو۔

اس کے اثرات بنگلہ دیش تک بھی پہنچتے ہیں۔ گنگا آبی معاہدہ دسمبر 2026 میں ختم ہو رہا ہے۔ ہندوستان اور بنگلہ دیش کے درمیان تعلقات خراب ہوئے ہیں اور چین و پاکستان کے ساتھ بنگلہ دیش کی وابستگی بڑھی ہے۔ اگلے معاہدے کو لے کر بات چیت میں پہلے ہی کئی رکاوٹیں ہیں، جیسے خشک موسم میں پانی کی کمی، فرخہ بیراج اور مغربی بنگال کے سیاسی اعتراضات وغیرہ۔ سندھو ندی کو لے کر ہندوستان کا رویہ یقینی طور پر بنگلہ دیش کی توقعات پر اثر ڈالے گا۔ اگر ہندوستان سلامتی کے بحران کے بعد کسی ایک دریائی معاہدے کو روک سکتا ہے، تو بنگلہ دیش کو یہ بھروسہ کیوں ہونا چاہیے کہ کوئی دوسرا معاہدہ سیاسی دباؤ سے محفوظ رہے گا؟

اچھی ساکھ کوئی ایسی چیز نہیں ہے جو صرف دکھاوے کے لیے ہو یا جسے نظر انداز کیا جا سکے۔ اسی سے طے ہوتا ہے کہ پڑوسی ممالک ہندوستان کے قابل اعتماد ہونے پر یقین کرتے ہیں یا نہیں، بین الاقوامی ادارے ہندوستان کے قانونی دعووں کو مانتے ہیں یا نہیں، اور چھوٹے ممالک ہندوستان کی قیادت کو تعاون کرنے والی سمجھتے ہیں یا دباؤ ڈالنے والی۔ ہندوستان ایک ہی وقت میں یہ نہیں کہہ سکتا کہ جب چین اس کی سرحدوں کی خلاف ورزی کرے تو خود مختاری کا احترام کیا جائے، جب معاہدے کی شرائط ہندوستان کے مفادات کا تحفظ کریں تو ان پر عمل کیا جائے، اور جب کسی ثالثی کے فیصلے سے کوئی پابندی عائد ہو تو اسے مسترد کر دیا جائے۔ منتخب کثیرالجہتی نظام سے اعتبار کم ہوتا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب ہندوستان دنیا میں زیادہ اثر و رسوخ اور سلامتی کونسل میں مستقل جگہ حاصل کرنا چاہتا ہے۔

سندھو آبی معاہدے کو اپڈیٹ کرنے کی ضرورت ہے۔ 1960 میں موسمیاتی تبدیلی، گلیشیئرز کی کمزوری، دریاؤں کے بدلتے بہاؤ اور توانائی کی نئی ضروریات کا صحیح طور پر اندازہ نہیں لگایا گیا تھا۔ مغربی دریاؤں سے ملنے والے اپنے مقررہ حصے کو لے کر ہندوستان کی تشویش بھی جائز ہے۔ لیکن تبدیلی بات چیت اور معاہدے کے طریقۂ کار کے ذریعہ ہی ہونی چاہیے، نہ کہ یکطرفہ طور پر اسے روک کر۔ ہندوستان کو عبوری اقدامات پر عمل کرنا چاہیے، مستقل سندھو کمیشن کے ساتھ دوبارہ جڑنا چاہیے اور تکنیکی و موسمیاتی پہلوؤں پر منظم بات چیت کرنی چاہیے۔ معاہدے پر واپس لوٹنا دہشت گردی کے لیے کسی ’انعام‘ جیسا نہیں ہوگا، بلکہ یہ ایسے ملک کے اعتماد کا اظہار کرے گا جو ان اصولوں کو چھوڑے بغیر اپنی سلامتی کا تحفظ کر سکتا ہے، جن پر عمل کی وہ دوسروں سے توقع کرتا ہے۔

ہندوستان کے بنیادی فیصلے سے کوئی خاص فائدہ نہیں ہوا، بلکہ اس سے تنازعہ بین الاقوامی سطح پر پھیل گیا اور پاکستان کا سفارتی مؤقف مضبوط ہو گیا۔ اب عدالت کے فیصلے کو نہ ماننے سے وہ غلطی اور بڑھ گئی ہے۔ ندیاں ممالک کو جوڑتی ہیں، خواہ سیاست انہیں الگ الگ کر دے۔ سندھو ندی کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے مودی حکومت نے ہندوستان کی قانونی پوزیشن کمزور کر دی ہے، ندی کے بہاؤ کی سمت میں آنے والے پڑوسی ممالک کو خوف زدہ کر دیا ہے اور چین کو ایک ایسی مثال دے دی ہے جس کا استعمال مستقبل میں ہمارے ہی خلاف کیا جا سکتا ہے۔

(اشوک سوین سویڈن کی اُپسالا یونیورسٹی میں پیس اینڈ کانفلکٹ ریسرچ کے پروفیسر ہیں)

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔