
ہندوستانی سیاست میں پنڈت جواہر لال نہرو کا نام صرف آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر ہی نہیں، بلکہ جدید ہندوستان کی فکری ساخت کے اہم معمار کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی جمہوریت، سیکولرزم، سائنسی طرز فکر، سرکاری شعبے، پنج سالہ منصوبوں اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی جیسے تصورات کو ہندوستانی ریاست کی بنیاد بنایا۔ ان کے سامنے بڑے چیلنجز تھے، انہیں نظر انداز کر کے ان کا جائزہ لینا یک طرفہ اور تعصب پر مبنی ہوگا۔
اب ستم ظریفی یہ ہے کہ آزادی کی تقریباً 8 دہائیوں بعد بھی بی جے پی اور اس سے وابستہ نظریاتی حلقوں کے اندر حکمت عملی کے تحت نہرو کے تئیں شدید اختلاف، تنقید اور کئی بار نفرت کی شعوری تشکیل واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ نہرو دشمنی صرف کسی تاریخی شخصیت سے اختلاف نہیں، بلکہ ہندوستانی قوم کی سمت اور کردار کے بارے میں دو متضاد نظریات کے درمیان کشمکش بھی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: محمد تسلیم