سیاسی

بی جے پی کی ’نہرو دشمنی‘ میں نفرت کی شعوری تشکیل... شیلندر چوہان

کسی بھی ملک کی پختگی اسی میں ہوتی ہے کہ وہ اپنے ماضی کو نہ اندھی عقیدت کے ساتھ دیکھے اور نہ ہی نفرت کے ساتھ۔ ہندوستان کا مستقبل بھی شاید اسی متوازن تاریخی شعور پر منحصر ہوگا۔

جواہر لال نہرو، تصویر آئی اے این ایس
جواہر لال نہرو، تصویر آئی اے این ایس 

ہندوستانی سیاست میں پنڈت جواہر لال نہرو کا نام صرف آزاد ہندوستان کے پہلے وزیر اعظم کے طور پر ہی نہیں، بلکہ جدید ہندوستان کی فکری ساخت کے اہم معمار کے طور پر بھی لیا جاتا ہے۔ انہوں نے پارلیمانی جمہوریت، سیکولرزم، سائنسی طرز فکر، سرکاری شعبے، پنج سالہ منصوبوں اور غیر جانبدار خارجہ پالیسی جیسے تصورات کو ہندوستانی ریاست کی بنیاد بنایا۔ ان کے سامنے بڑے چیلنجز تھے، انہیں نظر انداز کر کے ان کا جائزہ لینا یک طرفہ اور تعصب پر مبنی ہوگا۔

اب ستم ظریفی یہ ہے کہ آزادی کی تقریباً 8 دہائیوں بعد بھی بی جے پی اور اس سے وابستہ نظریاتی حلقوں کے اندر حکمت عملی کے تحت نہرو کے تئیں شدید اختلاف، تنقید اور کئی بار نفرت کی شعوری تشکیل واضح طور پر دکھائی دیتی ہے۔ یہ نہرو دشمنی صرف کسی تاریخی شخصیت سے اختلاف نہیں، بلکہ ہندوستانی قوم کی سمت اور کردار کے بارے میں دو متضاد نظریات کے درمیان کشمکش بھی ہے۔

Published: undefined

Follow us: WhatsAppFacebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined