
تصویر سوشل میڈیا
اگر ذرا بھی شبہ باقی تھا کہ ووٹر لسٹس کے ساتھ بڑے پیمانے پر چھیڑ چھاڑ ہو رہی ہے، تو ’دی انڈین ایکسپریس‘ کی ریتیکا چوپڑا کی تازہ تحقیقی رپورٹ سے وہ دور ہو جانا چاہیے۔ لیکن پہلے مغربی بنگال میں ہونے والے حالیہ انتخابات کی طرف لوٹتے ہیں، جو ایس آئی آر کے دوسرے مرحلے کے بعد اپریل 2026 میں ہوئے تھے۔ مغربی بنگال کے انتظامی اور انتخابی افسران کو اپریل 2026 کے اسمبلی انتخابات سے پہلے چیف الیکشن کمشنر گیانیش کمار کی بریفنگ یاد ہے؟ بتایا جاتا ہے کہ بریفنگ میں گیانیش کمار نے طنزیہ انداز میں پوچھا تھا ’’ہاؤ اِز دی جوش؟‘‘ یعنی جوش کیسا ہے؟ وہ 2019 کی بالی ووڈ فلم ’اُری- دی سرجیکل اسٹرائیک‘ کا ڈائیلاگ دہرا رہے تھے۔
سرجیکل اسٹرائیک تو ہوئی ہی۔ انہوں نے انتخابات کی نگرانی کرنے والے تمام سینئر افسران کو ہٹانے کا حکم دیا اور ان کی جگہ اپنی پسند کے افسران کو مقرر کر دیا۔ خبروں کے مطابق 500 سے زیادہ افسران کو تبدیل کر دیا گیا، بعض اسمبلی حلقوں میں پولیس انسپکٹر کی سطح تک کے افسران کو بھی۔ دیگر ریاستوں سے افسران کو لایا گیا اور مرکزی سیکورٹی فورسز کی بے مثال تعیناتی کی گئی۔ تب سننے میں آیا تھا کہ یہ ایسا شخص ہے جو آمرانہ رویہ رکھتا ہے اور جسے بغیر سوال کیے حکم ماننے سے کم کچھ منظور نہیں۔ اب انڈین ایکسپریس کی رپورٹ سے پتہ چلا ہے کہ انہوں نے اپنے ساتھی الیکشن کمشنرز سکھبیر سنگھ سندھو اور وویک جوشی کی بھی نہیں سنی۔
اس سال 4 ماہ تک ایک ایسے متنازع ایس آئی آر کے درمیان، جس میں تقریباً 13 کروڑ ہندوستانی ووٹرز کے نام حذف کیے گئے، 3 رکنی کمیشن کی مئی اور اگست 2026 کے درمیان ایک بھی میٹنگ نہیں ہوئی۔ مئی کے بعد پہلی میٹنگ 9 ستمبر کو ہوئی اور وہ بھی اس وقت جب سندھو اور جوشی نے آخرکار کابینہ سکریٹری ٹی وی سومناتھن کو خط لکھ کر ’نرواچن سدن‘ میں کیے گئے ایک ’غیر قانونی‘ انتظامی رد و بدل کی طرف توجہ دلائی۔
جوشی نے کابینہ سکریٹری کو بھیجے گئے نوٹ میں درج کیا کہ 2025 کے وسط سے شروع ہو کر ایک سال تک، ممکنہ طور پر 24 جون کو شروع ہوئے ایس آئی آر کے پہلے مرحلے کے آغاز کے ساتھ، انہیں اور سندھو کو کمیشن کی میٹنگ سے پہلے ایجنڈا نوٹس نہیں دیے گئے، نہ ہی میٹنگ کے بعد منٹس دستیاب کرائے گئے۔ دونوں چیف کمشنر کے برابر کے افسر ہیں اور وہ مل کر کمیشن میں اکثریت کی نمائندگی کرتے ہیں۔ ستمبر سے پہلے کے 10 ماہ میں انہوں نے 14 مرتبہ اپنے اعتراضات اور اختلاف رائے درج کرائے۔
چوپڑا کی رپورٹ کے مطابق ایک موقع پر سندھو اور جوشی نے ایک ہی دن میں 4 مرتبہ اعتراض ظاہر کیا۔ ان فیصلوں اور احکامات پر سوال اٹھایا جو ان کی اطلاع کے بغیر کیے گئے اور نافذ ہوئے۔ سندھو نے تحریری شکایت میں کہا کہ کمیشن نے دونوں کمشنرز کے تحریری مشورے کے برخلاف کارروائی کی۔ یعنی اکثریت کی رائے کو نظرانداز کیا گیا۔ چیف الیکشن کمشنر نے ان میں سے کسی بھی بات کی تردید نہیں کی ہے۔ ظاہر ہے کہ کبھی انتہائی معزز رہا یہ ادارہ آج نہ صرف منقسم ہے بلکہ پوری طرح سمجھوتہ کر چکا ہے۔
لیکن کہانی یہیں ختم نہیں ہوتی۔
شفافیت کی کارکن انجلی بھاردواج نے اس طریقہ کار کی تفصیلات طلب کیں، جس کے تحت ووٹر لسٹ کی ’خصوصی گہری نظرثانی‘ یعنی ایس آئی آر کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ انہوں نے حق اطلاعات کے تحت درخواست دے کر اس میٹنگ کے منٹس ’فائل نوٹس‘ سمیت مانگے، جس میں ایس آئی آر کرانے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ کمیشن نے یہ کہتے ہوئے درخواست مسترد کر دی کہ ایسا کوئی ریکارڈ موجود ہی نہیں ہے۔ بھاردواج کو تحریری طور پر یہ بھی بتایا گیا کہ ایس آئی آر کا فیصلہ الیکشن کمیشن نے نہیں کیا تھا۔ بعد میں سپریم کورٹ میں بیان دیتے ہوئے کمیشن کے وکیل نے دعویٰ کیا کہ بہار کی ووٹر لسٹ میں تشویش ناک تضادات ظاہر کرنے والی ایک تحقیق کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا گیا تھا۔ لیکن اس تحقیق کے بارے میں کوئی دیگر معلومات نہیں دی گئیں- اسے کس نے کیا؟ کس نے کرایا؟ اور اس کے نتائج کیا تھے؟ عدالت نے بھی ان پر کوئی مزید معلومات نہیں مانگیں۔
جولائی 2026 میں سندھو اور جوشی نے نئے ووٹرز کے نام درج کرنے کے لیے استعمال ہونے والے فارم 6 میں کی گئی غیر قانونی تبدیلیوں پر اعتراض ظاہر کیا۔ ان تبدیلیوں کے تحت نئے ووٹرز کو یہ بتانا تھا کہ وہ خود، ان کے والدین یا دادا دادی 03-2002 کی ’پچھلی ایس آئی آر فہرست‘ میں درج تھے یا نہیں۔ دونوں کمشنرز نے کہا کہ کمیشن کو ان فارموں میں تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہے، ایسی تبدیلیاں حکومت ہی کر سکتی ہے اور وہ بھی پارلیمنٹ کو معلومات دینے کے بعد۔
عوامی نمائندگی قانون کی دفعہ 13 بی کے تحت ہر انتخابی حلقے میں ای آر او یعنی الیکشن رجسٹریشن افسر ووٹر لسٹ کا قانونی محافظ ہوتا ہے۔ صرف ای آر او ہی درخواست کے عمل کو آگے بڑھانے، تنازعات کا فیصلہ کرنے اور ووٹرز کے نام شامل کرنے یا حذف کرنے کے لیے مجاز ہیں۔ جوشی اور سندھو، دونوں نے بتایا کہ انہیں کئی ای آر او سے شکایات ملی ہیں کہ جنوری 2026 میں شروع کیے گئے ای سی آئی نیٹ کے نئے انٹرفیس تک ان کی رسائی محدود کر دی گئی ہے۔ یہ پوری کارروائی مبینہ طور پر ای آر او کو بتائے بغیر ’سنٹرلائز‘ کر دی گئی ہے۔
مئی 2026 میں جوشی نے اس عمل کے آڈٹ کی تجویز پیش کی۔ انہوں نے لکھا کہ آڈٹ میں یہ تصدیق ہونی چاہیے کہ ’متعلقہ قانونی افسران کے علاوہ کسی اور کے پاس ووٹر، ڈاٹا بیس میں کوئی تبدیلی کرنے کا اختیار نہیں ہے۔‘ بتایا جاتا ہے کہ اگست 2026 میں سندھو نے بھی یہی بات دہرائی۔ انہوں نے درج کیا کہ ریاستی سطح کے انتخابی افسر بتا رہے ہیں کہ ای آر او نیٹ پورٹل، جس کے ذریعے وہ ووٹر فہرست کی دیکھ بھال کرتے ہیں، تک ان کی ’مناسب اور مکمل رسائی نہیں ہے۔‘ جوشی نے اپنے نوٹ میں یہ بھی لکھا کہ کمیشن کی آئی ٹی ڈائریکٹر جنرل سیما کھنہ کے پاس ’قانون کے تحت قانونی افسران کو دی گئی مناسب اور مکمل رسائی اور کام کرنے کی آزادی کو محدود کرنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔‘
’دی انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ کے مطابق ریاست کے سی ای او دفاتر سے بار بار بھیجی گئی رسائی بحال کرنے کی درخواستوں کی نقل کھنہ کو بھی بھیجی گئی تھی۔ رپورٹ میں گوا کی مثال دی گئی ہے، جہاں ای آر او نے 97 ووٹرز کو فہرست میں شامل کیے جانے کی منظوری دے دی، لیکن وہ ڈاٹا بیس میں تبدیلی نہیں کر سکے۔
بنگال میں اپیلیٹ ٹریبونل کے سامنے زیر التوا 38 لاکھ اپیلوں میں سے 16 لاکھ ایسی تھیں، جن میں ان ووٹرز کے نام حذف کرنے کی درخواست کی گئی تھی، جنہیں کلکتہ ہائی کورٹ کی جانب سے مقرر کردہ عدالتی افسران نے ووٹر لسٹ میں شامل کرنے کی منظوری دی تھی۔ سندھو نے پوچھا کہ ’’کمیشن کی جانب سے یہ اپیلیں دائر کرنے کے لیے کسے مجاز بنایا گیا تھا اور کس نے مجاز بنایا تھا؟‘‘ انہوں نے یہ بھی درج کیا کہ نہ تو انہیں، نہ جوشی کو اور نہ ہی مغربی بنگال کے چیف الیکشن افسر کو اس کی اطلاع دی گئی تھی۔
ایس آئی آر کا دوسرا مرحلہ مغربی بنگال سمیت 3 مرکز کے زیر انتظام خطوں اور 9 ریاستوں میں نافذ ہوا۔ مغربی بنگال میں اپریل 2026 میں اسمبلی انتخابات ہوئے۔ دعوے اور اعتراضات درج کرانے کی مدت میں پتہ چلا کہ وہاں بوتھ لیول ایجنٹس نے بڑے پیمانے پر فارم 7 جمع کیے تھے۔ خطرناک فارم 7 کیا ہے، یہ اب اَن پڑھ ہندوستانی بھی جانتا ہے۔ اس کے ذریعے کسی شخص کا نام ووٹر لسٹ میں شامل کیے جانے پر اعتراض کیا جا سکتا ہے یا پہلے سے درج نام کو حذف کرنے کی درخواست کی جا سکتی ہے۔ کمیشن نے فارم 7 کی ہدایات میں تبدیلیاں کیں۔ پہلے یہ طے کیا کہ کون کون ان اعتراضات کو داخل کر سکتا ہے، اس کا دائرہ بڑھایا اور پھر بڑی تعداد میں فارم 7 جمع کرنے کی اجازت دے دی۔
کئی ریاستوں میں اس کا استعمال مسلمانوں کو نشانہ بنانے کے لیے بے دھڑک کیا گیا۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ کس کے اشارے پر یہ ہوا۔ اگر آپ کا نام اس کی وجہ سے مسودہ ووٹر لسٹ سے حذف کر دیا گیا، تو اپیل کے عمل کی مدت ایسی تھی کہ اعتراض درج کرانا، اپنی بات سنا پانا اور اگلا الیکشن آنے سے پہلے دوبارہ ووٹ دینے کے اہل بن پانا عملی طور پر ناممکن تھا۔ جب تک اس پوری مشق کو منسوخ نہیں کیا جاتا اور ووٹر لسٹس کو ایس آئی آر سے پہلے کی صورت حال میں واپس نہیں لایا جاتا، اتراکھنڈ اور اتر پردیش میں بھی یہی سلسلہ دہرایا جائے گا، جہاں اگلے سال کے آغاز میں اسمبلی انتخابات ہونے ہیں۔
اگر آپ کو اب بھی لگتا ہے کہ ایس آئی آر کو ختم کرنے کی ضرورت نہیں ہے، تو اس ایک اور ناگوار حقیقت پر غور کیجیے۔ ہندوستان کی بالغ آبادی تقریباً 102 کروڑ ہے۔ لیکن اس ایس آئی آر کے اختتام پر صرف تقریباً 88 کروڑ لوگ ہی اس ’خالص‘ ووٹر لسٹ میں جگہ بنا پائیں گے، جس میں سے مبینہ طور پر نااہل نام حذف کر دیے گئے ہیں۔ کمیشن نے ہمیں یہ نہیں بتایا ہے کہ ان مبینہ نااہل بالغوں میں کتنے وہ غیر قانونی ’گھس پیٹھیے‘ ہیں، جنہیں باہر کرنا اس پوری مشق کا اعلان کردہ مقصد تھا۔
یاد رکھیے، یہی ایس آئی آر شروع کرنے کی بنیادی دلیل بتائی گئی تھی۔
(اے جے پربل اور ہرجندر)
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔