
پنجاب کے شہر ملتان سے 60 کلومیٹر دور گاؤں موہری پور میں شدید گرمی اور تیز دھوپ کے باوجود جامن کے ایک درخت کے نیچے اس گاؤں کی مقامی خواتین اکٹھی ہیں۔ یہاں موجود 31 سالہ نازیہ نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا،’’ شاید مرد سمجھتے ہیں کہ عورتیں بے وقوف ہوتی ہیں یا پھر ’عزت‘ تو بس عورتوں سے جڑی ہے۔‘‘ اس گاؤں کی خواتین کو امید ہے کہ اس مرتبہ پاکستان کے الیکشن کمیشن کی جانب سے بنائے گئے قوانین کے تحت انہیں ووٹ ڈالنے کا حق مل جائے گا۔
Published: undefined
پاکستان کے الیکشن کمیشن کے قانون کے تحت اگر کسی حلقے میں ڈالے گئے ووٹوں کی تعداد میں خواتین کے ووٹ کل رجسٹرڈ ووٹوں کے تناسب سے دس فیصد سے کم ہوئے تو اس حلقے کے نتائج کو قبول نہیں کیا جائے گا۔
Published: undefined
موہری پور کی خواتین بتاتی ہیں کہ دہائیوں قبل انہیں مردوں نے ووٹ ڈالنے سے منع کر دیا تھا کیوں کہ وہ سمجھتے ہیں کہ گھر سے نکل کر پولنگ اسٹیشن پر جانا عورت کی عزت اور وقار کو مجروح کر دے گا۔ تبسم نامی ایک خاتون نے کہا،’’میں نہیں جانتی کہ تب مردوں کو ’عزت‘ کا خیال کیوں نہیں آتا جب وہ خود گھروں میں رہتے ہیں اور عورتیں کھیتوں میں سخت محنت مزدوری کر رہی ہوتی ہیں۔‘‘
Published: undefined
الیکشن کمیشن کے مطابق پاکستان میں 20 ملین نئے ووٹرز رجسٹر ہوئے ہیں جن میں سے 9.13 ملین خواتین ہیں۔ 207 ملین کی آبادی پر مشتمل ملک پاکستان اب بھی ایک پدارانہ معاشرہ تصور کیا جاتا ہے۔ 2013ء میں عدالت نے پاکستان کے شمالی مشرقی اضلاع میں علاقے کے دو مرد بزرگوں کو خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہ دینے پر جیل بھجوایا تھا۔
خواتین کے حقوق کی سرگرم کارکن فرزانہ باری کا کہنا ہے کہ الیکشن کمیشن کے نئے قوانین کے باعث شاید کچھ حد تک خواتین ووٹرز گھروں سے باہر نکلیں لیکن بہت سے ایسے علاقے اب بھی ہوں گے جہاں خواتین کو ووٹ ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔
Published: undefined
موہری پور میں خواتین گھروں سے باہر کھیتوں میں تو کام کرتی ہیں اور کچھ تھوڑی بہت تعلیم یافتہ بھی ہیں لیکن پھر بھی ان پر ووٹ ڈالنے کی پابندی ہے۔ 60 سالہ بیوہ خاتون نذیراں مائی کا کہنا ہے،’’ عورتوں کا ووٹ نہ ڈالنا ایک روایت بن گیا ہے۔ میں اس لیے ووٹ نہیں ڈالتی کیوں کہ کوئی اور خاتون بھی نہیں ڈالتی۔‘‘ نذیراں کے علاوہ دیگر خواتین اپنے گھروں کے مردوں سے ڈرتی ہیں۔
Published: undefined
22 سالہ شمائلہ مجید کا کہنا ہے،’’ اگر خواتین ووٹ ڈالنے چلی گئیں، تو انہیں اپنے شوہروں کی خفگی کا سامنا ہو سکتا ہے اور کچھ مرد اپنی بیویوں پر ہاتھ بھی اٹھا سکتے ہیں، اس لیے یہ خواتین سمجھتی ہیں کہ بہتر یہی ہے کہ وہ گھروں سے باہر نہ نکلیں۔‘‘
موہری پور میں ایک خاتون کونسلر ارشاد بی بی جو اس قانون کے تحت کونسلر منتخب ہوئی جس کے مطابق گاؤں کی کونسل میں کم از کم ایک خاتون رکن ہونا ضروری ہے کا کہنا ہے کہ اس نے بھی کبھی ووٹ نہیں ڈالا۔ ارشاد بی بی کے شوہر ظفر نے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے کہا،’’ ہمارے بزرگوں نے یہ روایت قائم کی ہے اب ہم بھی اسی روایت کو چلا رہے ہیں۔‘‘
جامن کے درخت کے نیچے خواتین کی اس ملاقات کو منعقد کرانے والی بسم اللہ نور کا کہنا ہے،’’ میں سن 2001 سے خواتین کو ووٹ ڈالنے کا حق دلانے کے لیے کام کر رہی ہوں لیکن میں کامیاب نہیں ہوئی۔‘‘ اب گاؤں کی کچھ خواتین نور کے ساتھ کھڑی ہیں اس لیے وہ کچھ حد تک پر امید ہے۔
2015 میں اس گاؤں کی رہائشی فوزیہ طالب موہری پور کے مقامی انتخابات میں ووٹ ڈالنے والی واحد خاتون تھی جس کے بعد اسے بہت زیادہ خاندانی ناراضی کا سامنا کرنا پڑا۔ فوزیہ اب اس فکر میں مبتلا ہے کہ کیا اس سال انتخابات میں ووٹ ڈال کر وہ ایک مرتبہ پھر ایسی صورت حال کا سامنا کرنے کو تیار ہو گی ؟
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined
تصویر: پریس ریلیز