پاکستان

پاکستانی فوج بلوچستان میں بری پھنسی! بی ایل اے نے 26 پاکستانی جوانوں کو ہلاک کرنے کا کیا دعویٰ

بی ایل اے کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے 8 دنوں میں بلوچستان میں کئی حملے کیے۔ ان میں سیکورٹی ٹھکانوں، پلوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر</p></div>

فائل تصویر

 

’بلوچ لبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے گزشتہ 8 دنوں میں بلوچستان میں کئی حملے کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔ بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے 8 دنوں میں بلوچستان میں مجموعی طور پر 22 حملے کیے۔ دعویٰ یہ بھی کیا گیا ہے کہ ان حملوں میں پاکستانی سیکورٹی فورسز، پولیس چوکیوں، فوجی قافلوں اور مبینہ طور پر حکومت کے حمایت یافتہ مسلح گروہوں کو نشانہ بنایا گیا۔

بی ایل اے کے مطابق ان حملوں میں پاکستانی فوج اور مبینہ ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کے تقریباً 26 جوان مارے گئے۔ ان حملوں میں کئی جوانوں کے زخمی ہونے کا دعویٰ بھی کیا جا رہا ہے۔ بی ایل اے کا یہ بھی کہنا ہے کہ ایک مبینہ رکن کو زندہ پکڑا گیا ہے۔ بی ایل اے کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے 8 دنوں میں بلوچستان میں کئی حملے کیے۔ ان میں سیکورٹی ٹھکانوں، پلوں اور گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ساتھ ہی، تجارتی گاڑیوں کو بھی نشانہ بنانے کا دعویٰ کیا گیا۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی معاشی ناکہ بندی کا حصہ ہے۔

گزشتہ 8 دنوں کی بات کریں تو چاغی میں 9 اگست کو بی ایل اے نے اپنے جنگجوؤں کی جانب سے نوک چاہ کے قریب کوئٹہ تفتان ٹریٹ روٹ پر 3 تجارتی گاڑیوں کو روک کر قبضہ میں لینے کا دعویٰ کیا۔ 10 اگست کو خاران ہائیوے پر جومی میں بی ایل اے نے اپنے جنگجوؤں کی جانب سے پولیس اہلکاروں کو حراست میں لینے اور دھماکہ خیز مواد سے ایک پولیس پوسٹ کو تباہ کرنے کا دعویٰ کیا۔ تاہم، ان کا کہنا ہے کہ بعد میں پولیس اہلکاروں کو رہا کر دیا گیا۔

بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے 11 اگست کو بلیدہ کے سوراپ میں مبینہ طور پر مسلح گروپ کے ٹھکانے پر خفیہ اطلاع کی بنیاد پر چھاپہ مارا تھا۔ بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ گروپ کا مبینہ لیڈر مارا گیا جبکہ 4 دیگر افراد، محب اللہ، درہ، احمد اور طلحہ زخمی ہو گئے۔ بی ایل اے نے دھماکہ خیز مواد سے چھتر پولیس اسٹیشن کو تباہ کرنے کی ذمہ داری قبول کی ہے۔ یکماچ بازار میں بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ فائرنگ سے 3 تجارتی گاڑیاں تباہ ہو گئیں اور ایک دیگر گاڑی قبضے میں لے لی گئی۔ بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ روڈینجو، قلات میں پاکستانی فوج کے قافلے کو آئی ای ڈی کے ذریعہ نشانہ بنایا گیا، جس میں 17 جوان مارے گئے۔

بی ایل اے نے 13 اگست کو چتکان، پنجگور میں پولیس لائن پر گرینیڈ حملے میں ایک افسر کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا۔ وہیں، تربت میں 14 اگست کو بی ایل اے نے دعویٰ کیا کہ اس نے موٹر سائیکل پر نصب ریموٹ کنٹرول آئی ای ڈی کے ذریعہ پاکستانی فوج کے قافلے کو نشانہ بنایا۔ اس حملے میں 3 جوانوں کے مارے جانے اور 4 جوانوں کے شدید زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ بی ایل اے کا دعویٰ ہے کہ اس نے 15 اگست کو سُراب کے مُل مدرسہ میں دھماکہ خیز مواد استعمال کر کے فوج کی 2 چوکیوں اور ایک پل کو تباہ کر دیا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔