
پاکستان کا افغانستان پر فضائی حملہ (ویڈیو گریب)
افغانستان کے شمال مشرقی صوبہ کنڑ کو ہدف بنا کر کیے گئے پاکستانی فضائی حملے میں کم از کم 3 لوگوں کی موت ہو گئی ہے اور کئی زخمی ہو گئے ہیں۔ یہ اطلاع ’ٹولو نیوز‘ نے پیر (21 ستمبر) کو ایک صوبائی اہلکار کے حوالے سے دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پاکستانی جیٹ نے کنڑ کے ساتھ ساتھ مشرقی افغانستان کے پکتیکا میں بھی حملہ کیا۔ صوبہ کنڑ کے نرگل ضلع کے پتنگ علاقے میں رات کو تقریباً 3:30 بجے کم اونچائی پر پرواز کر رہے پاکستانی طیاروں نے مبینہ طور پر بم گرائے۔
رپورٹس کے مطابق پاکستان نے نرگل ضلع میں رہنے والے نور محمد کے گھر کو نشانہ بنایا۔ حملے کے بعد گھر مکمل طور سے ملبے میں تبدیل ہو گیا۔ مقامی لوگ جائے وقوع پر بموں کے باقیات جمع کرتے ہوئے بھی نظر آئے۔ رپورٹس کے مطابق اسے ایک عام شہری کا گھر بتایا جا رہا ہے۔ واضح رہے کہ یہ واقعہ شمال مغربی پاکستان میں ایک پولیس چوکی پر حملے کے 2 روز بعد پیش آیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان ایک بار پھر لڑائی چھڑنے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے، جن کے درمیان فروری میں کئی برسوں بعد شدید ترین جھڑپیں ہوئی تھیں۔
قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے ممکنہ حملوں سے قبل طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے اسلام آباد کو وارننگ دی تھی۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ افغانستان کے اندر حملے نہ کرے، اگر افغانستان کی زمین پر حملہ ہوا تو کابل فوجی جواب دے گا۔ ’العربیہ انگلش‘ کو دیے گئے ایک انٹرویو میں مجاہد نے پاکستان کے ان الزامات کو خارج کر دیا کہ افغانستان میں موجود شدت پسند گروپ پاکستان کے خلاف حملے کرنے کے لیے لوگوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔ انہیں ٹریننگ دیتے ہیں اور حملے شروع کرتے ہیں۔ ساتھ ہی انہوں نے کہا تھا کہ ’’اگر پاکستان افغان سرزمین کے تقدس کی خلاف ورزی کرنے کے لیے آرٹیکل 51 کا استعمال کرتا ہے تو افغانستان کو اپنے ملک کے تحفظ کا حق حاصل ہے اور ہم ایسا کریں گے۔‘‘
ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے یہ بھی کہا تھا کہ ’تحریک طالبان پاکستان‘ (ٹی ٹی پی) کو افغانستان کی سرزمین سے کام کرنے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ انہوں نے اس بات سے بھی انکار کیا کہ طالبان حکومت دوسرے ممالک پر حملہ کرنے والے مسلح گروپوں کی حمایت کرتی ہے۔ مجاہد کے مطابق پاکستان کو اپنی اندرونی سلامتی کے مسائل پر غور کرنا چاہیے۔ انہوں نے دلیل دی کہ ٹی ٹی پی اور بلوچ مسلح گروپوں سے منسلک تشدد 2021 میں طالبان کے اقتدار میں لوٹنے سے پہلے سے ہی موجود تھی۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔