پاکستان

پاکستان: عمران خان کی حکومت خطرے میں، فوج ہوگی قابض؟

مولانا فضل الرحمن کے ممکنہ مارچ کو لے کر پاکستان کے وزیر ریل شیخ رسید کا کہنا ہے کہ جب بھی علماء (مذہبی لیڈر) کسی مہم کی شروعات کرتے ہیں تو اس کے بعد ملک میں مارشل لاء (فوجی حکمرانی) نافذ ہوتی ہے۔

تصویر سوشل میڈیا
تصویر سوشل میڈیا 

پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان کو ہاتھ سے اقتدار جانے کا خوف ستانے لگا ہے۔ ان کی حکومت میں وزیر بھی اب یہ اندیشہ ظاہر کرنے لگے ہیں کہ جلد ہی ملک میں تختہ پلٹ ہوگا اور پاکستانی فوج اقتدار پر قابض ہو جائے گی۔ پاکستانی پی ایم عمران خان کے وزیر شیخ رسید نے اس سلسلے میں بڑا بیان دیا ہے۔ پاکستان کے وزیر ریل شیخ رسید نے کہا کہ جب بھی علما (مذہبی لیڈر) کسی مہم کی شروعات کرتے ہیں تو اس کے بعد ملک میں مارشل لاء (فوجی حکمرانی) نافذ ہوتی ہے۔

Published: 21 Oct 2019, 1:30 PM IST

عمران خان کے وزیر نے کہا کہ جمعیۃ علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمن ملک کی راجدھانی کی طرف مارچ نہیں کریں گے۔ انھوں نے کہا کہ فضل الرحمن کا مارچ سے متعلق فیصلہ ابھی واضح نہیں ہے۔ انھوں نے ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ فضل الرحمن کا وقار بنائے رکھنے کے لیے حکومت کوئی مناسب تجویز پیش کر سکتی ہے۔ شیخ رشید نے کہا کہ وہ مدرسہ کو لے کر فکرمند ہیں اور فضل الرحمن کا مارچ ان کے خلاف پروپیگنڈہ کر سکتا ہے۔

Published: 21 Oct 2019, 1:30 PM IST

اس سے پہلے وزیر دفاع پرویز خٹک کی قیادت میں بنی کمیٹی نے فضل الرحمن سے سمجھوتے کی پیشکش کی تھی جس کی میٹنگ اتوار کو ہونے والی تھی۔ لیکن اسے انھوں نے رد کر دیا۔ اپوزیشن پارٹیاں 27 اکتوبر کو راجدھانی کی جانب مارچ کے لیے تیاری کر رہی ہیں۔ عمران خان ہر ممکن کوشش کر رہے ہیں کہ اس مارچ کو کسی طرح سے روکا جائے۔ عمران خان کی حکومت نے 31 اکتوبر کو ہونے والے ’آزادی مارچ‘ کے دوران اسلام آباد میں مسلح افواج کو تعینات کرنے کی پالیسی پر بھی کام کرنا شروع کر دیا ہے۔ یہ آزاد مارچ برسراقتدار پی ٹی آئی حکومت کو گرانے کے لیے نکالا جا رہا ہے۔

Published: 21 Oct 2019, 1:30 PM IST

’دی ایکسپریس ٹریبیون‘ کے مطابق جمعیۃ علمائے اسلام (جے یو آئی-ایف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمن پی ایم عمران خان کی قیادت والی حکومت کے خلاف راجدھانی میں مارچ نکالیں گے۔ انھوں نے دھاندلی کے ذریعہ عمران پر اقتدار میں آنے کا الزام لگایا ہے۔

Published: 21 Oct 2019, 1:30 PM IST

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: 21 Oct 2019, 1:30 PM IST