پاکستان

’12 دنوں میں 34 حملے کیے گئے، ہم نے 23 پاکستانی فوجیوں کو مار ڈالا‘ بلوچ لبریشن آرمی کا بڑا دعویٰ

بی ایل اے کے جنگجوؤں نے مبینہ ’معاشی ناکہ بندی‘ کی پالیسی کے تحت اہم شاہراہوں پر کنٹرول برقرار رکھا اور اچانک جانچ پڑتال کی۔ پاکستانی فورسز کے ساتھ تصادم میں بی ایل اے کے بھی 6 اراکین مارے گئے۔

<div class="paragraphs"><p>علامتی تصویر</p></div>

علامتی تصویر

 

’بلوچ لبریشن آرمی‘ (بی ایل اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ اس کے جنگجوؤں نے 9 اکتوبر سے 20 اکتوبر کے درمیان پورے پاکستان میں 34 حملے انجام دیے، اور ان 11 دنوں میں پاکستانی سیکورٹی فورسز کے 23 اہلکاروں کو ہلاک کیا گیا۔ بی ایل اے کے مطابق ان حملوں میں پاکستانی فوج کے 14 جوان اور ملٹری انٹیلی جنس کے ساتھ مبینہ ’ڈیتھ اسکواڈ‘ کے 9 ارکان مارے گئے۔ یہ بھی دعویٰ کیا گیا کہ اس کے جنگجوؤں نے پاکستانی فوج کے ایک حاضر سروس جوان کو گرفتار کر لیا ہے۔ تنظیم کے مطابق اس کے جنگجوؤں نے مبینہ ’معاشی ناکہ بندی‘ کی پالیسی کے تحت اہم شاہراہوں پر کنٹرول برقرار رکھا اور اچانک جانچ پڑتال کی۔ اس درمیان پاکستانی فورسز کے ساتھ براہ راست تصادم میں بی ایل اے کے بھی 6 اراکین مارے گئے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔