دیگر ممالک

کیا امریکہ ہندوستان سمیت پانچ ممالک پر سو فیصد ٹیرف لگائے گا!

امریکی سینیٹ نے روس اور توانائی کے بڑے خریداروں کو نشانہ بنانے والے بل کو 86-11 ووٹوں سے منظور کر لیا ہے۔ اس تجویز میں روس سے تیل اور گیس خریدنے والے ممالک پر سو فیصد تک ٹیرف عائد کرنے کی شق شامل ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکی سینیٹ نے روس اور اس کے پیٹرولیم مصنوعات کے بڑے خریداروں پر جرمانے عائد کرنے کے بل کو بھاری اکثریت سے منظوری دے دی ہے۔ یہ دلیل دی گئی ہے کہ اس طرح کی تجارت یوکرین کی جنگ کو ہوا دیتی ہے۔ اس بل کا نام بدل کر 'لنڈسے او گراہم سینکشننگ روس اینڈ ایران ایکٹ 2026' رکھا گیا، سینیٹ نے 86-11 ووٹوں سے منظور کر لیا۔

یہ بل صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو روسی تیل اور گیس کے پانچ بڑے درآمد کنندگان کی اشیا پر 100 فیصد محصولات عائد کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ فی الحال، چین، ہندوستان، آذربائیجان، ہنگری اور سلوواکیا روسی تیل اور گیس کے سب سے اوپر پانچ خریدار ہیں۔

روس پر پابندیوں کے علاوہ، یہ بل 1996 کے ایران پابندیوں کے ایکٹ کو 2031 تک بڑھا دے گا۔ اس قانون کے تحت ایران کے توانائی کے شعبے میں سرمایہ کاری کرنے والی کمپنیوں پر جرمانے عائد کیے جائیں گے۔ کیف کے دورے کے بعد گراہم کے اچانک انتقال کے بعد، دونوں جماعتوں کے رہنماؤں نے بل کو منظور کرنے اور یوکرین کے اتحادی کے طور پر آنجہانی سینیٹر کی میراث کو عزت دینے کے لیے نئے سرے سے اقدامات کیے ہیں۔

آنجہانی سینیٹر کی بہن، ڈارلین گراہم ،جنہیں ان کی موت کے بعد ان کی نشست پر مقرر کیا گیا تھا، نے کہا، "یہ بل اہم ممالک کو مجبور کرتا ہے جو روس کی معیشت کو برقرار رکھے ہوئے  ہیں کہ  ایک سادہ لیکن اہم انتخاب کریں: امریکہ کے ساتھ تجارت یا سستی روسی توانائی خریدنے کے درمیان انتخاب۔"

اس کا مقصد روسی صدر ولادیمیر پوتن، امیر طبقے اور مالیاتی اداروں سمیت روسی رہنماؤں اور حکام پر پابندیاں عائد کرنا بھی ہے۔ کچھ ڈیموکریٹس نے خبردار کیا ہے کہ یہ بل ٹرمپ کو ٹیرف سے متعلق نئے اختیارات دے گا، حالانکہ اس نے ایسے ٹیرف کو اپنی تجارتی پالیسی کا مرکزی حصہ بنایا ہے۔ یہ بل اب منظوری کے لیے ایوان نمائندگان میں جائے گا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔