دیگر ممالک

کیا ایران میں شروع ہوگا ’گراؤنڈ آپریشن‘؟ 3500 امریکی فوجیوں کی تعیناتی سے کشیدگی عروج پر

امریکی افسران کے حوالے سے ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ پنٹاگن ایران میں کئی ہفتوں تک چلنے والے گراؤنڈ آپریشن کا منصوبہ بنا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>امریکی فوج، علامتی تصویر</p></div>

امریکی فوج، علامتی تصویر

 

مغربی ایشیا میں جاری کشیدگی اب فیصلہ کن اور خطرناک موڑ پر پہنچ گیا ہے۔ ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) اور ’واشنگٹن پوسٹ‘ کی تازہ ترین رپورٹس کے مطابق ’امریکی مرین کارپس‘ کی پہلی ’ایکسپیڈیشنری یونٹ‘ (31ویں ایم ای یو) مشرق وسطیٰ پہنچ چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی پنٹاگن نے ایران کے اندر ہفتوں تک چلنے والے گراؤنڈ آپریشن کا خاکہ تیار کر لیا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع کے صدر دفتر پنٹاگن نے ایران میں ممکنہ زمینی فوجی مہم کی تیاری تیز کر دی ہے، جبکہ امریکہ نے خطے میں 3500 سے زائد فوجی تعینات کر دیے ہیں۔

Published: undefined

امریکی افسران کے حوالے سے ’دی واشنگٹن پوسٹ‘ نے دعویٰ کیا ہے کہ پنٹاگن کئی ہفتوں تک چلنے والے گراؤنڈ آپریشن کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ اس میں اسپیشل آپریشن فورس اور روایتی پیادہ فوج شامل ہو سکتی ہے۔ حالانکہ حتمی فیصلہ اب بھی امریکی صدر ٹرمپ کو لینا ہے۔ اسی دوران امریکی سنٹرل کمانڈ نے تصدیق کی ہے کہ امریکی بحریہ کا جنگی جہاز ’یو ایس ایس ٹرپولی‘ تقریباً 2500 مرین فوجیوں کو لے کر مشرق وسطیٰ پہنچ گیا ہے۔ اس جہاز پر ’31ویں مرین ایکسپڈیشنری یونٹ‘ کے فوجی تعینات ہیں۔ یہ یونٹ پہلے جاپان میں تعینات تھی اور تائیوان کے آس پاس میں مشقیں کر رہی تھی، لیکن تقریباً 2 ہفتے قبل اسے مشرق وسطیٰ بھیجنے کا حکم دیا گیا تھا۔ ’یو ایس ایس ٹرپولی‘ اپنے ساتھ ٹرانسپورٹ طیارے، جدید ترین اسٹرائیک فائٹر جیٹس (ایف-35) اور ایمفی بیئس حملے کے آلات بھی موجود ہیں، جو سمندر سے زمین پر براہ راست حملے کرنے کی بھرپور صلاحیت رکھتے ہیں۔

Published: undefined

دراصل مشرق وسطیٰ میں کشیدگی اس وقت عروج پر پہنچی جب ایران نے سعودی عرب کے ’پرنس سلطان ایئر بیس‘ پر حملہ کیا، جس میں 10 امریکی اہلکار زخمی ہوئے۔ وہیں ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی نے عالمی سطح پر تیل کا بحران پیدا کر دیا ہے۔ یمن کے حوثی باغیوں کی سرگرمیوں نے ’باب المندب‘ جیسے تجارتی راستوں کو بھی غیر محفوظ بنا دیا ہے۔ فوجی ماہرین کا ماننا ہے کہ اگر امریکہ ایران میں زمینی آپریشن شروع کرتا ہے، تو یہ جنگ مزید وسیع ہو سکتی ہے۔ اب تک یہ جنگ میزائلوں، ڈرونز اور فضائی حملوں تک محدود تھی، لیکن زمینی آپریشن شروع ہونے کی صورت میں براہ راست زمین پر لڑائی کا آغاز ہو جائے گا۔ دوسری جانب سفارتی سطح پر بھی بات چیت جاری ہے، لیکن اب تک کوئی ٹھوس حل نہیں نکل سکا ہے۔ ایسے میں مشرق وسطیٰ میں بڑی جنگ کے خدشات مسلسل بڑھ رہے ہیں اور دنیا کی نظریں اب امریکہ کے اگلے قدم پر مرکوز ہیں۔

Published: undefined