دیگر ممالک

کیا امریکہ کو مل پائے گا پہلا مسلم سینیٹر، عبدالسید انجام دے سکتے ہیں حیرت انگیز کارنامہ

عبدالسید اب نومبر میں ہونے والے عام انتخاب میں ریپبلکن امیدوار ’مائیک راجرز‘ کا سامنا کریں گے۔ اگر وہ یہ انتخاب جیت جاتے ہیں تو امریکی تاریخ میں پہلے مسلم سینیٹر بن جائیں گے۔

<div class="paragraphs"><p>عبد السید، تصویر ’ایکس‘،&nbsp;@AbdulElSayed</p></div>

عبد السید، تصویر ’ایکس‘، @AbdulElSayed

 

امریکہ میں ڈیموکریٹک ترقی پسند لیڈر اور صحت عامہ کے ماہر عبدالسید نے مشیگن صوبے میں ’ڈیموکریٹک پارٹی‘ کے امریکی سینیٹ کے پرائمری انتخاب میں انتہائی قریبی مقابلے میں کامیابی حاصل کر لی ہے۔ انہوں نے پارٹی کی سینئر لیڈر اور رکن پارلیمنٹ ہیلی اسٹیونز کو سخت مقابلے میں شکست دے دی ہے۔ ڈیموکریٹک پارٹی کے امریکی سینیٹ پرائمری انتخاب میں ’اے آئی پی اے سی‘ کی ریکارڈ فنڈنگ بھی ہیلی اسٹیونز کو شکست سے محفوظ نہیں رکھ سکی۔ اس جیت کو ڈیموکریٹک پارٹی کے اندر ترقی پسند خیمے کی بڑی کامیابی اور اسرائیل حمایتی لابی ’امریکی اسرائیلی پبلک افیئر کمیٹی‘ (اے آئی پی اے سی) کے لیے بڑا جھٹکا مانا جا رہا ہے۔ عبدالسید اب نومبر میں ہونے والے عام انتخاب میں ریپبلکن امیدوار ’مائیک راجرز‘ کا سامنا کریں گے۔ اگر وہ یہ انتخاب جیت جاتے ہیں تو امریکی تاریخ میں پہلے مسلم سنیٹر بن جائیں گے۔

سیاسی ماہرین کا ماننا ہے کہ یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک بڑے طبقے میں ’اے آئی پی اے سی‘ کے اثرات سے عدم اطمینان بڑھ رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ عبدالسید نے زمینی سطح پر مہم اور چھوٹے عطیہ دہندگان کے سہارے جیت حاصل کی ہے۔ وہیں ’اے آئی پی اے سی‘ اور اس سے منسلک گروپوں نے ہیلی aسٹیونز کی حمایت میں ریکارڈ توڑ لاکھوں ڈالر خرچ کیے، لیکن وہ جیتنے میں ناکام رہی۔

41 سالہ عبد السید کی مشیگن میں پیدائش ہوئی اور ایک مصری تارکین وطن کے خاندان سے آتے ہیں۔ انہوں نے کولمبیا یونیورسٹی سے میڈیکل کی ڈگری حاصل کی اور آکسفورڈ یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ میں پی ایچ ڈی کی ہے۔ اس سے قبل انہوں نے ’ڈیٹرائٹ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ‘ اور ’وین کاؤنٹی ڈیپارٹمنٹ آف ہیلتھ اینڈ ہیومن سروسز‘ کی بھی قیادت کی ہے۔ 2018 میں مشیگن گورنر کے عہدے کے لیے بھی انتخاب لڑا تھا، حالانکہ کامیابی نہیں مل سکی۔ عبد السید کی اہلیہ کا نام سارہ زوکاکو ہے، وہ پیشے سے ماہر نفسیات ہیں۔ اس جوڑے کی دو بیٹیاں ہیں۔

عبد السید نے اپنا انتخاب میڈیکیئر فار آل، کفایتی طبی خدمات، سماجی تحفظ اور معاشی عدم مساوات جیسے مسائل پر لڑا۔ انہوں نے غزہ جنگ کے دوران اسرائیل کو ملنے والی امریکی فوجی امداد پر تنقید کی۔ انہوں نے ترقی پسند رہنماؤں جیسے سینیٹرز برنی سینڈرز اور الزبتھ وارن کی حمایت بھی حاصل کی۔ مشیگن امریکہ کا ایک اہم سوئنگ ریاست ہے اور سینیٹ کی یہ سیٹ ڈیموکریٹک پارٹی کے لیے بے حد اہم مانی جا رہی ہے۔ عبد السید کی جیت کو پارٹی کے اندر بائیں بازو اور ترقی پسند نظریات کے مضبوط اثر و رسوخ کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ حالانکہ عام انتخاب میں ان کا مقابلہ ریپبلیکن ’مائیک راجرز‘ سے ہوگا۔ یہ مقابلہ عبد السید کے لیے کافی بڑا اور اہم ہوگا۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔