
ایرانی صدر مسعود پزشکیان / آئی اے این ایس
ایران کے صدر مسعود پزشکیان نے واضح لفظوں میں کہا ہے کہ ایران جوہری بم نہیں چاہتا۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی بین الاقوامی جانچ کرانے کے لیے بھی راضی ہے اور یورینیم کی افزودگی کی سطح کم کرنے پر بھی آمادہ ہے۔ پزشکیان نے تقریباً 7 ماہ سے جاری جنگ کے لیے امریکہ کو ذمہ دار ٹھہرایا اور کہا کہ امریکہ نے مذاکرات کے راستے بند کر دیے۔
دراصل ’فاکس نیوز‘ کے پروگرام ’اسپیشل رپورٹ‘ میں صحافی بریٹ بیئر نے پزشکیان سے پوچھا تھا کہ کیا ایران جوہری بم چاہتا ہے؟ اس پر انہوں نے صاف لفظوں میں کہا ’’بالکل نہیں۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ایران کے مرحوم سپریم لیڈر نے کئی بار مذہبی احکامات جاری کرتے ہوئے کہا تھا کہ بڑے پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار بنانا مذہبی طور پر غلط اور غیر قانونی ہے۔ پزشکیان نے یہ بیان نیویارک میں دیا۔ وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی (یو این جی اے) میں شرکت کے لیے امریکہ پہنچے ہیں۔
قابل ذکر ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر طویل عرصہ سے بین الاقوامی نگرانی رہی ہے۔ ایران یورینیم کی افزودگی اس سطح تک کرتا رہا ہے جو عام شہری جوہری توانائی کے لیے استعمال ہونے والی سطح سے کہیں زیادہ ہے۔ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے فروری میں آپریشن ایپک فیوری شروع کرنے کی اہم وجوہات میں ایران کے جوہری پروگرام کو بھی شامل کیا تھا۔ اب پزشکیان نے کہا ہے کہ کشیدگی کم کرنے کے لیے ایران یورینیم کی افزودگی کی سطح گھٹانے اور بین الاقوامی جانچ کی اجازت دینے کے لیے تیار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران اپنے جوہری پروگرام کی جانچ کے لیے بیرونی ماہرین کو رسائی دینے پر بھی آمادہ ہے۔
پزشکیان نے جون میں ٹرمپ اور ان کے درمیان ہونے والے ایک معاہدے کا بھی ذکر کیا۔ اس کا مقصد لڑائی روکنا اور امریکہ اور ایران کے درمیان ایک بڑے معاہدے کی راہ ہموار کرنا تھا۔ اس کے تحت 60 دنوں میں حتمی معاہدے کی سمت پیش رفت کی جانی تھی۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران اس معاہدے کو آگے بڑھانے کے لیے تیار تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ امریکہ نے مذاکرات کے بجائے پہلے ایران پر حملہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ایران کے سپریم لیڈر، سائنسدانوں، فوجی کمانڈروں اور سرکاری افسران کو قتل کیا گیا۔ پزشکیان نے کہا کہ ایران امریکی پابندیوں اور دباؤ کے باوجود اپنی مخالفت جاری رکھے گا۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ ایران معاشی مسائل سے دوچار ہے، لیکن ساتھ ہی کہا کہ وہ ہر مشکل برداشت کرنے کے لیے تیار ہے۔
پزشکیان نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ایران جنگ نہیں چاہتا اور اسے ختم کرنے کا فیصلہ امریکہ کو کرنا ہے۔ انہوں نے اسرائیل پر جنگ بھڑکانے کا الزام بھی لگایا۔ اردن میں امریکی فوجی اڈے پر حملے میں چینی سیٹلائٹ تصاویر کے استعمال سے متعلق رپورٹ پر پزشکیان نے کہا کہ انہیں اس بارے میں براہ راست کوئی معلومات نہیں ہیں۔ اس حملے میں 3 امریکی فوجی ہلاک ہوئے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔