دیگر ممالک

مشرق وسطیٰ میں ایک بار پھر جنگ کا خطرہ؟

امریکہ خلیجی خطے میں اپنے کچھ سفارت خانوں سے عملے کو نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام حوثی ملیشیا کے ساتھ نئے سرے سے تنازعے کے خدشات کے درمیان اٹھایا جا رہا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکہ خلیجی خطے میں اپنے کچھ سفارت خانوں سے عملے اور ان کے اہل خانہ کو نکالنے کی تیاری کر رہا ہے۔ امریکی عہدیداروں نے  کہا کہ امریکی محکمہ خارجہ کچھ عملے اور ان کے اہل خانہ کے لیے 'آرڈرڈ ڈیپارچر' جاری کرنے کی تیاری کر رہا ہے۔دو امریکی حکام کے مطابق یہ اقدام خطے میں ایک نئے تنازعے کے خدشے کے پیش نظر اٹھایا جا رہا ہے، خاص طور پر یمن میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ساتھ دشمنی بڑھنے کے امکانات۔

دریں اثنا، ریاض میں امریکی سفارت خانے نے بدھ کے روز ایک سیکیورٹی ایلرٹ جاری کیا، جس میں حوثی باغیوں کی جانب سے سعودی عرب پر مزید حملوں کے امکان سے خبردار کیا گیا ہے۔ حالیہ حوثی حملوں کے نتیجے میں جان و مال کا نقصان ہوا ہے جس میں ریاض کے ہوائی اڈے پر حملہ بھی شامل ہے۔

امریکی حکام کے مطابق خلیجی خطے میں سلامتی کی صورتحال پر تشویش بڑھ رہی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ دشمنی کی ممکنہ بحالی کے پیش نظر اپنے ملازمین اور ان کے اہل خانہ کی حفاظت کو یقینی بنانے کے لیے اقدامات کر رہا ہے۔ اس تشویش کے درمیان ریاض میں امریکی سفارتخانے کی طرف سے جاری کردہ سیکیورٹی ایلرٹ بھی سامنے آیا ہے۔ اس نے سعودی عرب میں ممکنہ حوثی حملوں سے خبردار کیا ہے۔ یہ ایلرٹ حالیہ مہلک حملوں کے بعد جاری کیا گیا ہے۔

ملازمین اور ان کے اہل خانہ کو نکالنے کی ممکنہ امریکی تیاریاں ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہیں جب خطے میں ایران کی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے ساتھ ایک نئے سرے سے تنازعے کے خدشات ہیں۔ حکام کے مطابق امریکی محکمہ خارجہ اس ممکنہ خطرے کے جواب میں سفارت خانوں میں تعینات اپنے ملازمین کے تحفظ کے لیے یہ اقدامات کر رہا ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔