
گردابی طوفان، علامتی تصویر آئی اے این ایس
چین کے وسطی علاقے ’ہوبیئی‘ میں شدید سمندری طوفان ’ڈالفن‘ کا اثر مزید گہرا ہوتا جا رہا ہے۔ منگل کے روز طوفان کے اندرونی علاقوں میں پہنچنے کے ساتھ ہی انتظامیہ نے کئی سیاحتی مقامات کو بند کر دیا ہے، اور تعمیراتی کاموں پر پابندی عائد کر دی ہے۔ ماہرین موسمیات نے ریاست کے شمال مغربی پہاڑی علاقوں میں شدید بارش کی پیش گوئی کی ہے۔ یہ اس برس چین میں آنے والا سب سے طاقتور طوفان ہے۔ سمندر میں تقریباً 3728 میل (6000 کلو میٹر) کا سفر طے کرنے کے بعد اس طوفان نے ہفتے کے آخر میں چین کے مشرقی ساحل پر دستک دے دی تھی۔ جس کی وجہ سے بادل چھا گئے اور ساحلی علاقوں میں بارش بھی ہوئی۔
تقریباً 5.8 کروڑ کی آبادی والا ہوبیئی صوبہ کاروں اور الیکٹرانک سامان کی تیاریوں کا ایک بڑا مرکز ہے۔ حال ہی میں یہاں ’مایسک‘ طوفان کے بعد 2 غیر معمولی طوفان بھی آئے تھے، جس میں تقریباً 11 لوگوں کی جان گئی تھی۔ قومی موسمی مرکز نے شدید بارش کے لیے دوسرا سب سے بڑا خطرہ ثابت کرنے والا ’آرینج الرٹ‘ جاری کیا ہے۔ اندیشہ ہے کہ ہوبیئی کے شمال مغربی حصے میں 24 گھنٹے کے اندر 250 میلی میٹر تک بارش ہوسکتی ہے۔ سیلاب اور لینڈسلائیڈنگ خطرے کے مدنظر شیانگیانگ، ہوانگیانگ اور سوئجھو جیسے شہروں کے لیے یلو الرٹ جاری کیا گیا ہے۔ اچانگ میں مشہور ’تھری گورجز ڈیم‘ سمیت کئی سیاحتی مقامات عارضی طور پر بند کر دیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ علاقے میں زیر تعمیر 107 بڑے ہائی وے اور واٹر وے کی تعمیر کے منصوبوں میں سے 26 منصوبے روک دیے گئے ہیں۔
محکمہ موسمیات کے افسران کے مطابق جب طوفان کی ہوائیں ہوبیئی کے مغربی پہاڑوں سے ٹکرائیں گی تو بارش کا اثر کئی گنا بڑھ جائے گا۔ سیلاب کے امکان کے پیش نظر پڑوسی صوبے ہینان میں ریڈ الرٹ جاری کر دیا گیا ہے۔ ہوبیئی سے 1000 کلومیٹر دور چین کی راجدھانی بیجنگ میں بھی طوفان کا اثر دیکھنے کو ملے گا۔ شہر کے 4 باہری علاقوں میں لیول-1 ایمرجنسی نافذ کر دی گئی ہے۔ منگل کی رات سے اگلے 24 گھنٹوں میں بیجنگ میں پورے برس کی ایک تہائی سے زیادہ بارش متوقع ہے۔ دوسری جانب جاپان محکمۂ موسمیات ایجنسی نے وارننگ دی ہے کہ طوفان ’چان۔ ہوم‘ منگل کے روز ملک کے اہم خطے کی جانب بڑھ سکتا ہے۔ جس کی وجہ سے وہاں لینڈ سلائیڈنگ اور تیز ہواؤں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔