تصویر سوشل میڈیا
ترکیے میں ایک گورنر کو سائیکل چلاتے وقت اسپورٹس والے کپڑے (چست لباس) پہننے کے باعث عہدہ سے ہٹا دیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ اردہان صوبہ کے گورنر محمد فاتح سسیکلی کی سائیکل چلانے کی تصاویر اور لباس کو لے کر حکمراں پارٹی کے لیڈران نے اعتراضات ظاہر کرنا شروع کر دیا تھا۔ اس کے بعد ترکیے کی حکومت نے انہیں ان کے عہدے سے ہٹا دیا۔ تاہم حکومت کی جانب سے اس کی سرکاری وجہ نہیں بتائی گئی ہے۔
گزشتہ ہفتہ پارلیمنٹ میں ہونے والی بحث کے دوران حکمراں پارٹی کے رکن پارلیمنٹ عنان اکگن الپ نے ترکیے کی نیوز ویب سائٹ ’ٹی-24‘ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اردہان صوبے کے گورنر محمد فاتح سسیکلی کا پورے شہر میں چست لباس پہن کر سائیکل چلانا ریاست کے وقار کے خلاف ہے۔ گورنر کے آگے سیکورٹی اہلکار چلتے ہیں اور ایسے میں ان کا اس طرح چست لباس پہن کر عوامی طور پر گھومنا مناسب نہیں ہے۔
ترکیے کے صدر رجب طیب اردوآن کی حکمراں پارٹی اے کے پی کے سابق رکن پارلیمنٹ شمیل طیار نے بھی اس لباس پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ کوئی شخص اپنی ذاتی زندگی میں اپنی پسند کا لباس پہن سکتا ہے۔ لیکن ڈیوٹی کے دوران کسی گورنر کو اتنا چست لباس پہن کر لوگوں کے درمیان نہیں جانا چاہیے۔ یہ اردہان جیسے صوبوں کی ثقافتی اقدار کے خلاف ہے۔ عوامی عہدوں پر فائز افراد کو اپنے طرز عمل اور وقار کا خاص خیال رکھنا چاہیے۔
ان تمام بیانات کے درمیان گورنر محمد فاتح سسیکلی کا بیان بھی سامنے آیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ انہوں نے کوئی غیر معمولی لباس نہیں پہنا تھا، بلکہ سائیکل چلانے کے لیے عام اسپورٹس لباس پہنا تھا۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ سائیکل چلانا جاری رکھیں گے۔ وہ کشتی رانی، روئنگ اور سائیکلنگ کی مشق کرنے والے ایتھلیٹ ہیں۔ انہوں نے جو لباس پہنا تھا، وہ کھیلوں کے لیے تیار کیا گیا عام لباس تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ گورنر کی حمایت میں بڑی تعداد میں لوگ سامنے آئے ہیں۔ اپوزیشن کی حمایت کرنے والے چینل ’ہالک ٹی وی‘ کے مطابق انہیں عہدے پر برقرار رکھنے کے مطالبے کو لے کر چلائی گئی آن لائن مہم میں 10 ہزار سے زیادہ افراد نے دستخط کیے۔ یعنی برطرف گورنر کی حمایت میں تحریک شروع ہو چکی ہے۔ حامیوں کا کہنا ہے کہ محمد فاتح سسیکلی نے اردہان میں کھیلوں کی ثقافت، نوجوانوں کی سرگرمیوں اور سائیکل سیاحت کو فروغ دینے کے لیے شاندار کام کیا ہے۔ ان کے لباس کو نہیں بلکہ ان کے کام کو اہمیت دی جانی چاہیے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔