
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ، تصویر (ویڈیو گریب)
رواں سال نومبر میں امریکہ میں ہونے والے وسط مدتی انتخاب سے قبل صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بڑا انتخابی داؤ چلا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اگر ریپبلکن پارٹی آئندہ انتخاب میں ایوانِ نمائندگان (ہاؤس آف ریپریزنٹیٹیوز) اور سینیٹ دونوں میں جیت حاصل کرتی ہے تو ہر بالغ امریکی شخص کو 5000 ڈالر دیے جائیں گے۔ ریپبلکن پارٹی نے بدھ (9 ستمبر) کو ٹیکساس کے ڈلاس میں اپنی پہلی وسط مدتی انتخابی مہم شروع کی، جس میں ٹرمپ نے امریکی شہریوں کو 5 ہزار ڈالر (4.76 لاکھ روپے) دینے کا یہ وعدہ کیا۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ملک کی مضبوط معاشی صورتحال اور معاشی کامیابی کی وجہ سے وہ یہ رقم دیں گے۔ انہوں نے اس منصوبہ کو ’ٹرمپ ڈیویڈنڈ‘ نام دیا اور اس کے ساتھ ایک شرط بھی رکھی۔ ان کے مطابق یہ پیسہ امریکہ میں ہی خرچ کرنا ہوگا۔ وہ ںہیں چاہتے کہ لوگ یہ پیسہ لے کر کناڈا، چین یا جرمنی جا کر خرچ کریں۔ حالانکہ ٹرمپ نے یہ نہیں بتایا کہ یہ پیسہ پانے کے لیے لوگوں کو کن شرائط کو پورا کرنا ہوگا۔ یہ بھی صاف نہیں ہے کہ حکومت اسے کس طریقے سے لوگوں تک پہنچائے گی۔
دوسری جانب نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ انہیں لگتا ہے نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخاب کے فوراً بعد ایران کے ساتھ جنگ ختم ہو جائے گی۔ ان کے مطابق ایرانی قیادت اس انتخاب پر اثر ڈالنے کی کوشش کرنے کے لیے بے تاب ہے۔ ساتھ ہی انہوں نے واضح کیا کہ وہ مستقبل قریب میں ایران کے ساتھ کسی بھی طرح کی بات چیت کرنے کے بارے میں نہیں سوچ رہے ہیں۔
ڈونالڈ ٹرمپ نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’انتخاب کے فوراً بعد تیل کی قیمتیں تیزی سے نیچے گریں گی۔ مجھے لگتا ہے کہ اس میں وسط مدتی انتخاب سے تھوڑا زیادہ وقت لگے گا۔‘‘ ان کے مطابق ایران انتخاب کو متاثر کرنے کی پوری کوشش کر رہا ہے تاکہ وہاں کمزور لوگوں کا گروپ آ سکے۔ انہیں اکیلا چھوڑ دیا جائے اور انہیں اپنا جوہری ہتھیار رکھنے دیا جائے۔ ٹرمپ نے یہ بھی کہا کہ ایران کے ساتھ آگے بات چیت ہو سکتی ہے لیکن ابھی ہم ایسا کچھ نہیں کر رہے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔