
فائل تصویر آئی اے این ایس
تھائی لینڈ کے ایک اسکول میں جمعہ کے روز فائرنگ کا خوفناک واقعہ پیش آیا، جس میں 8 افراد کی موت ہو گئی ہے۔ اس حادثہ میں کم از کم 15 لوگ زخمی بھی ہوئے ہیں۔ ابتدا میں 6 ہلاکتوں کی اطلاع موصول ہوئی تھی، جن میں 3 اساتذہ اور 3 طلبا شامل تھے۔ بعد میں مزید 2 ہلاکتوں کی تصدیق کی گئی۔ حکام کے مطابق یہ واقعہ تھائی لینڈ کی راجدھانی بینکاک کے مضافاتی علاقے نونتھابوری ضلع میں موجود ’دیب سیرن اسکول‘ میں پیش آیا۔
بتایا جا رہا ہے کہ ایک طالب علم نے اسکول میں فائرنگ شروع کر دی، جس کے بعد طلبا اور اساتذہ جان بچانے کے لیے اِدھر اُدھر بھاگنے لگے۔ یہ واقعہ مقامی وقت کے مطابق صبح تقریباً 10 بجے پیش آیا۔ فوری طور پر ’پوہ ٹیک تنگ فاؤنڈیشن‘ کے رضاکاروں کو اس مشہور سیکنڈری اسکول میں فائرنگ کی اطلاع دی گئی۔
اس دوران پولیس حکام نے بتایا کہ حملہ آور نے خود کو بھی گولی مار کر ہلاک کر لیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حملے کی وجہ کا ابھی پتہ کیا جا رہا ہے، تاہم یہ خیال کیا جا رہا ہے کہ بندوق حملہ آور نے اپنے خاندان کے کسی فرد سے حاصل کی تھی۔ حیرت انگیز بات یہ ہے کہ اسکول پہنچنے سے پہلے اس حملہ آور طالب علم نے اپنے دادا اور دادی کو بھی گولی ماری تھی۔ ان دونوں کی ہلاکت کی بھی تصدیق ہو چکی ہے۔ ان 2 ہلاکتوں کے بعد ہی اموات کی مجموعی تعداد 8 بتائی جا رہی ہے۔
بہرحال، ہنگامی امدادی اہلکاروں کی جانب سے جاری کی گئی تصاویر میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایمبولنسوں کے موقع پر پہنچنے کے ساتھ ہی طلبا اسکول سے باہر نکل رہے تھے۔ اس واقعہ کی براہ راست ویڈیو بھی سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئی ہے، جس کے بعد سیکورٹی اہلکاروں نے عوام سے اپیل کی ہے کہ واقعہ کی لائیو نشریات نہ کریں۔
وزیر اعظم انوتین چرنویراکل نے اس واقعہ پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے متعلقہ حکام کو متاثرین کی ہر ممکن دیکھ بھال کرنے کی ہدایت بھی دی ہے۔ فائرنگ کے تقریباً ایک گھنٹہ بعد جائے وقوع سے موصول ہونے والی تصاویر میں لوگ اسکول کے باہر ایک دوسرے کو دلاسہ دیتے ہوئے نظر آئے۔ ایک عینی شاہد نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ جب طلبا نے دوسری عمارت سے گولیوں کی آواز سنی تو وہ ایک کلاس روم میں چھپ گئے۔ بعد ازاں پولیس اہلکاروں نے دروازہ کھٹکھٹایا اور ان کے لیے عمارت سے محفوظ طریقے سے باہر نکلنے کا راستہ بنایا۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔