
اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو/ تصویر یو این آئی
اسرائیل اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) کے درمیان ایک مبینہ ’خفیہ میٹنگ‘ کی خبر نے عالمی سطح پر ہلچل مچا دی ہے۔ عالمی سیاست میں گرمی اس لیے پیدا ہوئی، کیونکہ خفیہ میٹنگ کا دعویٰ اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے کیا ہے۔ جیسے ہی یہ خبر پھیلی، فوری طور پر یو اے ای نے ایک بیان جاری کر ایسے دعووں کو بے بنیاد ٹھہرا دیا۔ یعنی سفارتی سطح پر گھمسان شروع ہو گیا ہے۔
Published: undefined
دراصل اسرائیلی وزیر اعظم کے دفتر نے دعویٰ کیا ہے کہ وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو نے ’آپریشن رورِنگ لاین‘ کے دوران خفیہ طریقے سے یو اے ای کا دورہ کر صدر شیخ محمد بن زاید النہیان سے ملاقات کی۔ اسرائیل اس ملاقات کو ایک بڑا دفاعی معاہدہ اور تاریخی کامیابی قرار دے رہا ہے، لیکن یو اے ای نے ان دعووں کو پوری طرح سے جھوٹ پر مبنی اور بے بنیاد بتاتے ہوئے خارج کر دیا ہے۔
Published: undefined
اس مبینہ خفیہ دورے کی جانکاری سب سے پہلے بدھ کی دیر شب اسرائیلی وزیر اعظم دفتر کی طرف سے جاری ایک بیان سے ملی۔ اس کے فوراً بعد وزیر اعظم کے آفیشیل سوشل میڈیا ہینڈل سے دعویٰ کیا گیا کہ اس دورہ نے دونوں ممالک کے درمیان تعلقات کا ایک نیا باب کھول دیا ہے۔ اسرائیلی پی ایم او کا بیان سامنے آنے کے تقریباً 3.30 گھنٹے بعد ہی یو اے ای کی وزارت خارجہ نے ان دعووں کو سرے سے خارج کر دیا جن میں بنجامن نیتن یاہو کی صدر النہیان کے ساتھ مبینہ خفیہ ملاقات کی بات کہی گئی تھی۔ یو اے ای نے ایک آفیشیل بیان جاری کر واضح کیا کہ اسرائیل کے ساتھ اس کے تعلقات ’ابراہم معاہدہ‘ کے تحت پوری طرح شفاف ہیں اور خفیہ دورہ یا فوجی تعاون سے جڑی ایسی خبریں پوری طرح بے بنیاد و غیر منطقی ہیں۔ یو اے ای کے اس بیان کے بعد یہ سوال اٹھ رہا ہے کہ اسرائیل نے اتنا بڑا جھوٹ کیوں بولا؟ یا پھر یو اے ای کچھ چھپانے کی کوشش کر رہا ہے؟ کیا نیتن یاہو اور النہیان کی ملاقات ہوئی ہے؟
Published: undefined
واضح رہے کہ گزشتہ کچھ سالوں میں یو اے ای مشرق وسطیٰ میں اسرائیل کے سب سے اہم شراکت دار کی شکل میں ابھرا ہے۔ ابراہم معاہدہ کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت، تکنیک، سیاحت اور خفیہ جانکاری شیئر کرنے کا دائرہ بڑھا ہے۔ ایسے میں نیتن یاہو کے تازہ خفیہ دورہ میں اگر ذرا بھی سچائی ہے، تو اس کا مطلب یہی ہے کہ اب دونوں ممالک ے درمیان بات چیت عام سفارتی تعلقات سے کہیں آگے نکل چکی ہے۔
Published: undefined
Follow us: WhatsApp, Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined