دیگر ممالک

امریکہ میں پیدائش کے لئے سیاحت کرنے کے خلاف کریک ڈاؤن

مارکو روبیو نے پیدائشی سیاحت کے خلاف سخت کارروائی کرتے ہوئے چھہ سو سے زائد ویزے منسوخ کر دیے۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، اور دیگر ایجنسیوں نے مشترکہ طور پر برتھ ٹورازم پریونشن ٹاسک فورس تشکیل دی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے پیدائش کے لئےسیاحت کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرتے ہوئے واضح کیا کہ امریکی شہریت برائے فروخت نہیں ہے۔ ایک ماہ کے اندر محکمہ خارجہ نے اس نیٹ ورک میں شامل افراد کے چھہ سو سے زائد ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔ اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ، محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی، اور دیگر ایجنسیوں نے مشترکہ طور پ ’برتھ ٹورازم پریونشن ٹاسک فورس ‘تشکیل دی ہے۔

یہ کارروائی ویزا فراڈ، جعلی دستاویزات اور پیدائشی سیاحتی نیٹ ورکس کو ختم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ روبیو کے اس بیان کے فوراً بعد سوشل میڈیا پر ٹرمپ کے گولڈ کارڈ پروگرام کے حوالے سے بحث چھڑ گئی۔ مارکو روبیو نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ جعلی دستاویزات اور ویزا کوچنگ کے ذریعے غیر ملکی شہریوں کو اپنے بچوں کی شہریت حاصل کرنے میں مدد کرنے والے نیٹ ورکس منافع بخش ہیں۔ محکمہ خارجہ نے واضح کیا ہے کہ ٹاسک فورس ویزہ رکھنے والوں کی سرگرمیوں اور سفری تاریخ کی مکمل چھان بین کر رہی ہے۔ امریکی شہریت کی سالمیت کے تحفظ کے لیے اس نیٹ ورک کو مکمل طور پر ختم کر دیا جائے گا۔

دوسری طرف ٹرمپ انتظامیہ کے "گولڈ کارڈ" پروگرام کا حوالہ دیتے ہوئے، روبیو کے اس دعوے کا جواب دینے کے لیے کہ شہریت برائے فروخت نہیں ہے، کا جواب دینے کے لیے ایکس میں ایک "کمیونٹی نوٹ" شامل کیا گیا۔ اس نوٹ کے مطابق، غیر ملکی شہری جو 1 ملین سے 2 ملین  امریکی ڈالرکے درمیان حصہ ڈالتے ہیں انہیں ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں رہائش اور شہریت کا راستہ دیا جاتا ہے۔ تاہم، یہ پروگرام براہ راست شہریت نہیں بیچتا، بلکہ مستقل رہائش اور شہریت کے لیے قانونی راستہ فراہم کرتا ہے۔

ٹرمپ انتظامیہ کی تعریف کے مطابق نان امیگرنٹ ویزے پر صرف جنم دینے کے مقصد سے امریکہ جانا پیدائشی سیاحت سمجھا جاتا ہے۔ یہ کارروائی 6 اگست کو جاری کردہ ایک ایگزیکٹو آرڈر کے تحت کی جا رہی ہے۔ امریکی آئین میں 14ویں ترمیم، جس کی 1868 میں توثیق کی گئی تھی، ریاستہائے متحدہ میں پیدا ہونے والے تمام افراد کو شہریت کے حقوق فراہم کرتی ہے۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔