دیگر ممالک

’اسکرین طلبہ کا ذہن منتشر کرتے ہیں‘، مشہور برطانوی ’ونچسٹر کالج‘ میں کاغذ اور قلم کی واپسی

’ونچسٹر کالج‘ وہی اسکول ہے جہاں سے سابق برطانوی وزیر اعظم رشی سُنک اور جان کیٹس جیسی شخصیات پڑھ کر نکلی ہیں، اس نے اب ’قلم اور کاغذ‘ یعنی پرانی روایتی تعلیم کا دامن دوبارہ تھام لیا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>بچوں کا اسکرین ٹائم علامتی تصویر/ آئی اے این ایس</p></div>

بچوں کا اسکرین ٹائم علامتی تصویر/ آئی اے این ایس

 

یاد کیجیے وہ دور جب ہر کوئی چاہتا تھا کہ ان کا بچہ ڈیجیٹل کلاس روم میں پڑھے۔ اسکولوں کی فیس کے ساتھ ڈیجیٹل کلاسز کا خرچ بھی والدین کے بجٹ سے کٹنے لگا۔ بچوں کے ہاتھوں میں لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ دیکھنا جیسے ایک خواب بن گیا تھا۔ ایک ایسی سوچ آہستہ آہستہ سماج میں اپنی جگہ بنانے لگی کہ بچوں کے ہاتھوں میں کاپی اور کتاب کی جگہ لیپ ٹاپ اور ٹیبلیٹ دو تبھی وہ ہائی ٹیک بنیں گے۔ لیکن آج جب دنیا ’اے آئی‘ کی رفتار سے دوڑ رہی ہے، سب کچھ چٹکی بجاتے ہی اسکرین پر بدل رہا ہے۔ ایسے وقت میں سمندر پار سے آئی ایک خبر ہمیں کچھ لمحہ رک کر سوچنے پر مجبور کر رہی ہے۔

’دی ٹیلی گراف یو کے‘ میں ایک خبر شائع ہوئی ہے کہ کیسے برطانیہ کے سب سے ہائی پروفائل اور مہنگے بورڈنگ اسکولوں میں سے ایک ’ونچسٹر کالج‘ (جس کی فیس سالانہ تقریباً 62100 پاؤنڈ یعنی تقریباً 68 لاکھ روپے سے زیادہ ہے) نے کلاس روم میں لیپ ٹاپ کا استعمال تقریباً بند کر دیا ہے۔ یہ وہی اسکول ہے جہاں سے سابق برطانوی وزیر اعظم رشی سُنک اور جان کیٹس جیسی شخصیات پڑھ کر نکلی ہیں، اس نے اب ’قلم اور کاغذ‘ یعنی پرانی روایتی تعلیم کا دامن دوبارہ تھام لیا ہے۔

ونچسٹر کالج کی پہلی خاتون ہیڈ ماسٹر الیزابیتھ اسٹون کا کہنا ہے کہ کلاس روم میں لیپ ٹاپ پڑھائی میں مدد کم اور ذہن منتشر کرنے کی وجہ زیادہ بن رہے تھے۔ الیزابیتھ اسٹون نے واضح طور پر کہہ دیا ہے کہ اب لیپ ٹاپ کو ڈیفالٹ (یعنی پہلی پسند) بنا کر کام نہیں چلے گا۔ اگر کسی استاذ کو لیپ ٹاپ استعمال کرانا ہے تو پہلے ثابت کرنا ہوگا کہ اس سے بچے کی پڑھائی میں کوئی اہم اور بڑا فائدہ ہو رہا ہے۔ اگر بغیر اسکرین کے کام چل سکتا ہے، تو بات وہیں ختم!

اسکول انتظامیہ نے پایا کہ صبح کی پہلی کلاس میں پڑھائی کم اور ای میل-میسجز چیک کرنے کا اسپائیک (طوفان) زیادہ آتا تھا۔ بچے ہوم ورک کرتے وقت یوٹیوب دیکھ رہے ہوتے تھے، فٹبال ریلز میں کھوئے رہتے تھے یا آپس میں چیٹ کر رہے ہوتے تھے۔ لیکن جیسے ہی اسکرین کو باہر کا راستہ دکھایا گیا، جادو کی طرح تبدیلی دیکھنے کو ملی۔ بچے اب کلاس میں زیادہ توجہ دے رہے ہیں اور اپنا ہوم ورک بھی تیزی سے ختم کر رہے ہیں۔ ہوم ورک جلدی ختم ہونے کے بعد بچوں کے پاس سوئمنگ پول، فٹبال کھیلنے اور آپس میں گھلنے ملنے کا وقت بچ رہا ہے۔ ہیڈ ماسٹر کہتی ہیں کہ بچوں کے درمیان پرانے زمانے کے کھیل پھر سے لوٹ آئے ہیں! اس پابندی کا نتیجہ یہ ہوا کہ 2026 کے جی سی ایس ای امتحان میں 95 فیصد بچوں نے ٹاپ گریڈس (7 سے 9) حاصل کیے، جو گزشتہ سال 93 فیصد تھے۔

مخصوص ضروریات والے (اسپیشل ایجوکیشن نیڈز) بچوں یا اے آئی/3ڈی ماڈلنگ جیسی چنندہ ٹیکنالوجیز کے لیے ہی اب وہاں کمپیوٹر کا استعمال ہوگا۔ عام پڑھائی کے لیے وہی پرانا کاغذ اور قلم ہی رائج رہے گا۔ برطانیہ کی شیڈو ایجوکیشن سکریٹری لورا ٹراٹ نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ جب بڑے بڑے پرائیویٹ اسکول بچوں کے دماغ کو بچانے کے لیے کلاس روم سے اسکرین ہٹا رہے ہیں تو سرکاری اسکولوں کو بھی نیند سے بیدار ہونا چاہیے۔

ویسے یہ خبر محض ایک خبر نہیں بلکہ اس بات کا آئینہ ہے کہ ٹیکنالوجی جتنا بھی آگے نکل جائے، انسانی دماغ کی نشوونما کا جو بنیادی طریقہ ہے وہ ہے پڑھنا، سوچنا اور ہاتھ سے لکھنا، اس کا کوئی متبادل نہیں ہو سکتا۔ ترقی کا پہیہ گھوم کر یو ٹرن لے چکا ہے۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا باقی دنیا بھی اس سبق سے کچھ سیکھے گی یا اسکرین کے سحر میں الجھی رہے گی؟

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔