
ایران کے خلاف امریکہ اپنے سب سے بڑے بم کے استعمال پر غور کر رہا ہے۔ ایسی خبریں سامنے آ رہی ہیں کہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نئے سرے سے ایران کے خلاف فوجی کارروائی کرنے پر غور کر رہے ہیں۔ سی این این نے اس منصوبے سے واقف حکام کے حوالہ سے بتایا ہے کہ پنٹاگن ایران کے توانائی کے بنیادی ڈھانچے اور جوہری تنصیبات کے خلاف ’مدر آف آل بامبس‘ (ایم او اے بی) کو استعمال کرنے کے امکانات کا جائزہ لے رہا ہے۔
اس ہتھیار کا استعمال اس سے پہلے کبھی بھی ایران کے خلاف نہیں کیا گیا ہے۔ اس کی تعیناتی سے تنازعہ میں کافی شدت آ سکتی ہے۔ حالانکہ یہ سوال بھی اٹھ رہا ہے کہ کیا ’ایم او اے بی‘ ایران کی جوہری تنصیبات کو نقصان پہنچا سکتا ہے؟ تباہ کن صلاحیت کے باوجود، ممکن ہے کہ ایم او اے بی ایران کی مشتبہ زیر زمین جوہری تنصیبات پر حملے کے لیے موزوں نہ ہو۔ منصوبے سے واقف ذرائع نے سی این این کو بتایا کہ بہت زیادہ گہرائی میں موجود اہداف کو تباہ کرنے کے لیے جس صلاحیت کی ضرورت ہوگی، ممکن ہے یہ ہتھیار اس سے کم مؤثر ثابت ہو۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ذرائع کا کہنا ہے کہ ’ایم او اے بی‘ ایک بڑے پیمانے کا ہتھیار ہے، جو بہت بڑے علاقے کو صاف کر سکتا ہے، لیکن اس کے علاوہ اس کا کوئی خاص استعمال نہیں ہے۔ یہ یقینی طور پر گہرائی تک مار کرنے والا ہتھیار نہیں ہے۔
قابل ذکر ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے اپنی فوجی کارروائی کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ تہران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنے کے لیے یہ کارروائی ضروری تھی۔ حالانکہ ایران بارہا جوہری ہتھیار تیار کرنے کی کوشش سے انکار کر چکا ہے۔ بہرحال، سی این این کی رپورٹ کے مطابق فوجی حکام نے ان متبادل امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا ہے، جن کے ذریعہ ٹرمپ کے جنگ کے ابتدائی مقاصد حاصل کیے بغیر بھی طاقت کا مظاہرہ کیا جا سکتا ہے۔ پنٹاگن کے منصوبے سے واقف ذرائع نے مجوزہ متبادل کارروائیوں میں سے بعض کو ممکنہ طور پر آتش بازی کا مظاہرہ قرار دیا۔ یہ حملے ٹرمپ کو اس تنازعہ سے پیچھے ہٹنے کا راستہ فراہم کر سکتے ہیں، چاہے وہ ان اہداف کو حاصل کرنے میں ناکام رہے ہوں، جنہیں واشنگٹن نے جنگ کے آغاز میں طے کیا تھا۔
یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب جنگ ختم کرنے کے لیے سفارتی کوششیں ٹھپ پڑی ہیں۔ امریکہ میں نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے پہلے ٹرمپ پر کافی دباؤ ہے اور ان کی منظوری کی شرح بھی کم ہے۔ ایسے میں نئے حملوں کا امکان برقرار ہے۔ عوامی رائے کے جائزوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس جنگ اور اس کے نتیجے میں ایندھن سمیت دیگر اشیا کی قیمتوں میں ہونے والے اضافے سے ٹرمپ کی ریپبلکن پارٹی کو نقصان پہنچ رہا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔