
امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ
امریکہ نے ویزا بانڈ پروگرام کو اب مستقل نافذ کر دیا ہے۔ نئے ضابطے کے تحت بعض ممالک کے شہریوں کو بزنس (بی۔1) اور ٹورسٹ (بی-2) ویزا حاصل کرنے سے پہلے 20000 ڈالر (تقریباً 17 لاکھ روپے) تک کا بانڈ یعنی سیکورٹی رقم جمع کرانی پڑ سکتی ہے۔ نیا ضابطہ 3 اگست سے نافذ ہوگا۔ امریکی حکومت نے یہ فیصلہ فیڈرل رجسٹر میں جاری نوٹیفکیشن کے ذریعے کیا ہے۔ اس کے مطابق ویزا افسر ضرورت پڑنے پر کسی بھی اہل درخواست گزار سے ویزا جاری کرنے سے پہلے بانڈ جمع کرانے کا مطالبہ کر سکتے ہیں۔ فی الحال یہ ضابطہ 50 ممالک کے شہریوں پر نافذ ہوگا۔ ان میں زیادہ تر ممالک افریقہ کے ہیں۔ ہندوستان کے لیے راحت کی بات یہ ہے کہ ہندوستان اس فہرست میں شامل نہیں ہے۔ یعنی ہندوستانی شہریوں کو بی۔1 (بزنس) اور بی۔ 2 (ٹورسٹ) ویزا کے لیے درخواست دیتے وقت کوئی بانڈ جمع نہیں کرانا ہوگا۔
حالانکہ امریکہ نے واضح کیا ہے کہ مستقبل میں ضرورت پڑنے پر دوسرے ممالک کو بھی اس منصوبے میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ فی الحال اس فہرست میں بنگلہ دیش، نیپال اور بھوٹان جیسے پڑوسی ممالک شامل ہیں۔ امریکہ نے اس منصوبے کا آغاز 2025 میں ایک پائلٹ پروجیکٹ کے طور پر کیا تھا۔ اس کا مقصد یہ جاننا تھا کہ کیا بانڈ لینے سے لوگ ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد بھی امریکہ میں قیام (ویزا اوور اسٹے) کرنے سے باز رہیں گے یا نہیں۔ امریکی حکومت کا کہنا ہے کہ پائلٹ منصوبے کے اچھے نتائج سامنے آئے، اسی لیے اسے اب مستقل بنا دیا گیا ہے۔ اس فیصلے کو صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی سخت امیگریشن پالیسی کا حصہ سمجھا جا رہا ہے۔ اس سے پہلے اس منصوبے میں 5000، 10000 اور 15000 ڈالر تک کا بانڈ لیا جاتا تھا۔
اب 5000 ڈالر والا آپشن ختم کر دیا گیا ہے اور زیادہ سے زیادہ رقم بڑھا کر 20000 ڈالر کر دی گئی ہے۔ امریکی حکام کا کہنا ہے کہ اس ضابطے سے لوگ ویزا کی شرائط پر عمل کریں گے اور مقررہ مدت ختم ہونے کے بعد امریکہ میں غیر قانونی طور پر قیام نہیں کریں گے۔ حالانکہ امیگریشن ماہرین کا ماننا ہے کہ اس سے کاروبار یا سیاحت کے لیے امریکہ جانے والے بہت سے حقیقی مسافروں پر بھی مالی بوجھ بڑھ سکتا ہے۔ اس کے علاوہ ٹرمپ انتظامیہ پہلے ہی کئی ویزا زمروں کی فیس میں اضافہ کر چکی ہے اور ویزا درخواست گزاروں کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کی جانچ بھی پہلے کے مقابلے میں زیادہ سخت کر دی گئی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔