دیگر ممالک

فروری سے اب تک پاکستانی فضائی حملوں میں 800 سے زائد افغانستانی شہری جاں بحق

28 جون کی رات پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں ہوئے حملوں میں 36 شہریوں کے جاں بحق اور 163 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے کی ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر/آئی اے این ایس</p></div>

تصویر/آئی اے این ایس

 

گزشتہ 5 مہینوں میں پاکستانی فضائی حملوں میں افغانستان کے 800 سے زائد لوگ جاں بحق اور بڑی تعداد میں زخمی بھی ہوئے ہیں۔ مختلف میڈیا رپورٹس میں ان حملوں سے ہونے والے نقصانات کی تفصیلات سامنے رکھی گئی ہیں۔ افغان میڈیا آؤٹ لیٹ ’ٹولو نیوز‘ نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ یہ حملے افغانستان کے کئی صوبوں خوست، پکتیا، پکتیکا، کنڑ، کابل، ننگرہار اور قندھار میں کیے گئے، جن کا سب سے زیادہ نقصان عام شہریوں کو ہوا ہے۔ ان حملوں میں عوامی بنیادی ڈھانچے کو بھی نشانہ بنایا گیا، جن میں لوگوں کے رہائشی مکانات، اسپتال، اسکول اور یونیورسٹیاں شامل ہیں۔

Published: undefined

ایک سیاسی تجزیہ کار اختر محمد راسخ نے ’ٹولو نیوز‘ کو بتایا کہ ’’پاکستان کی فوج، انٹیلی جنس ایجنسیاں اور سیاسی قیادت افغانستان کو غیر مستحکم کرنے کی حکمت عملی پر کام کر رہی ہیں۔ اس کا نتیجہ افغانستانی شہریوں کی موت، ملک میں عدم تحفظ، افغانستان کو پاکستان کے زیر اثر علاقہ بنانے اور ڈورنڈ لائن کو سرکاری سرحد کے طور پر قائم کرنے کی کوشش ہے۔‘‘ رپورٹ میں رواں سال پیش آنے والے کئی بڑے واقعات کا بھی ذکر کیا گیا ہے، جن میں 21 فروری کو پکتیکا، ننگرہار اور خوست میں ہونے والے فضائی حملوں میں 18 افراد جاں بحق ہوئے، جن میں 11 بچے بھی شامل تھے۔

Published: undefined

اس کے علاوہ 16 مارچ کو کابل میں ایک نشہ چھڑانے والے مرکز پر ہوئے حملے میں 400 سے زائد افراد کے جاں بحق اور 260 سے زائد افراد کے زخمی ہونے کا دعویٰ کیا گیا ہے۔ 27 اپریل کو صوبہ کنڑ میں واقع سید جمال الدین افغانی یونیورسٹی پر ہوئے حملے میں تقریباً 30 طلبہ اور اساتذہ زخمی ہوئے۔ 10 جون کو خوست، کنڑ اور پکتیکا میں ہوئے فضائی حملوں میں 13 افراد کی موت بتائی گئی۔ 28 جون کی رات پکتیا، پکتیکا اور کنڑ میں ہوئے حملوں میں 36 شہریوں کے جاں بحق اور 163 افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق طالبان کے نائب ترجمان حمد اللہ فطرت نے کی ہے۔

Published: undefined

ایک فوجی تجزیہ کار صادق شنواری نے ’ٹولو نیوز‘ کو بتایا کہ اتوار کے حملوں سمیت پاکستان کے مسلسل فضائی حملے افغانستان کی علاقائی سالمیت کی واضح خلاف ورزی ہیں۔ ان حملوں میں خواتین اور بچوں سمیت عام شہریوں کی موت ہوئی ہے، اور ان کا کوئی جواز نہیں ہے۔ کئی تجزیہ کاروں نے پاکستان کے ان حملوں اور مبینہ طور پر عام شہریوں کو نشانہ بنانے کو ’جنگی جرم‘ قرار دیا ہے اور بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔

Published: undefined

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined