وینزویلا میں زلزلہ کے بعد کا منظر، تصویر (ویڈیو گریب)
وینزویلا میں ایک منٹ کے اندر آئے 2 شدید زلزلوں کے جھٹکوں سے بھاری نقصان ہوا ہے، سینکڑوں عمارتیں تباہ ہو گئی ہیں اور ایئرپورٹ کو بھی نقصان پہنچا ہے۔ ملک کی راجدھانی کاراکاس سمیت مختلف شہروں سے سامنے آنے والی ویڈیوز میں تباہی کا خوفناک منظر دیکھا جا سکتا ہے۔ امریکی جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) کے اندازے کے مطابق زلزلے میں ہلاکتوں کی تعداد 10 ہزار سے زیادہ ہو سکتی ہے۔
Published: undefined
ہندی نیوز پورٹل ’اے بی پی نیوز‘ پر شائع خبر کے مطابق یو ایس جی ایس کا کہنا ہے کہ اس آفت کے باعث بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصان کا خدشہ ہے۔ ادارے نے ابتدائی اندازہ لگایا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10000 سے 100000 کے درمیان ہو سکتی ہے۔ افسران نے اب تک ہلاک یا زخمی ہونے والوں کے حتمی اعدادوشمار جاری نہیں کیے ہیں لیکن مقامی انتظامیہ اور عینی شاہدین نے گرتی ہوئی عمارتوں، امدادی کارروائیوں اور زخمیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کی معلومات فراہم کی ہیں۔
Published: undefined
امریکی جیولوجیکل سروے کے مطابق پہلے زلزلے کی شدت 7.1 تھی اور اس کا مرکز کیریبین ساحل پر واقع مورون بستی کے مغرب میں تھا۔ راجدھانی کاراکاس سے اس کا فاصلہ تقریباً 168 کلومیٹر تھا اور اس کی گہرائی 13 کلومیٹر ریکارڈ کی گئی۔ جبکہ دوسرے زلزلے کی شدت 7.5 ریکارڈ کی گئی، جس کا مرکز مورون سے 16 کلومیٹر دور جنوب مغرب میں تھا اور اس کی گہرائی 10 کلومیٹر تھی۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ زلزلہ گزشتہ ایک صدی میں آنے والے شدید ترین زلزلوں میں سے ایک ہے۔
Published: undefined
اس زلزلے کے اتنے زیادہ اثردار ہونے کی بڑی وجہ اس کی کم گہرائی ہے۔ دونوں زلزلے زمین کی سطح سے صرف 10 سے 13 کلومیٹر کی گہرائی پر آئے، جسے زلزلہ سائنس میں بہت کم گہرائی مانا جاتا ہے۔ جب زلزلے کا مرکز سطح کے اتنا قریب ہوتا ہے تو زمین کے اوپر جھٹکے بہت زیادہ تیز محسوس ہوتے ہیں، کیونکہ لہروں کو اوپر تک پہنچنے میں کم فاصلہ طے کرنا پڑتا ہے اور راستے میں کم توانائی ختم ہوتی ہے۔ یہی وجہ رہی کہ کاراکاس اور آس پاس کے علاقوں میں عمارتیں لرز اٹھیں اور کئی منہدم ہو گئیں۔ وارننگ دی گئی ہے کہ آنے والے دنوں میں مزید جھٹکے یعنی آفٹر شاکس آ سکتے ہیں، جن میں سے کچھ کافی تیز بھی ہو سکتے ہیں۔
Published: undefined
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined