
آئی سی آر سی کی صدر مرجانا اسپولجارک، تصویر/آئی اے این ایس
انٹرنیشنل کمیٹی آف دی ریڈ کراس (آئی سی آر سی) کی صدر مرجانا اسپولجارک نے خبردار کیا ہے کہ مشرق وسطیٰ کے علاقے میں تنازعہ بڑھنے سے کروڑوں عام لوگوں کے لیے حالات انتہائی خراب ہو جائیں گے۔ انہوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر لکھا کہ ’’مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائیوں کی عام شہریوں کو بہت بھاری قیمت چکانی پڑ رہی ہے۔ حالیہ دنوں میں سعودی عرب میں ہونے والی اموات، لوگوں کے زخمی ہونے اور بڑے پیمانے پر تباہی اس بات کی مثال ہے کہ لڑائی یا حملوں کا عام شہریوں پر کتنا برا اثر پڑ رہا ہے۔‘‘
آئی سی آر سی کی سربراہ نے کہا کہ ’’یمن کے عدن اور صنعاء میں بھی تباہی مچی ہوئی ہے۔ لوگوں کی اموات، نقل مکانی اور عام شہریوں کے استعمال کی چیزوں (جیسے بنیادی ڈھانچے) کو نقصان پہنچانے کا دائرہ تیزی سے بڑھ رہا ہے۔ پورے مشرق وسطیٰ میں بنیادی ڈھانچے اور رہائشی علاقوں پر بار بار حملے ہوئے ہیں اور لوگوں کی جانیں گئی ہیں۔‘‘
اسپولجارک نے کہا کہ عام شہریوں اور ان سے متعلقہ چیزوں پر حملے روکنا ضروری ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ’’لڑائی میں شامل تمام فریقوں کو عام شہریوں، ان سے متعلقہ چیزوں اور فوجی ٹھکانوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ بندرگاہوں، ہوائی اڈوں اور ضروری بنیادی ڈھانچے پر حملوں کے سنگین نتائج ان برادریوں کو بھگتنے پڑیں گے جو ان پر انحصار کرتی ہیں۔‘‘ ان کے مطابق لڑائی مزید تیز ہونے سے کروڑوں لوگوں کے لیے حالات انتہائی خراب ہو جائیں گے۔ کشیدگی کم کرنے اور عام شہریوں کو مزید نقصان سے بچانے کے لیے فوری کوششیں کی جانی چاہئیں۔
قابل ذکر ہے کہ مشرق وسطیٰ کافی عرصے سے فوجی تنازعات کی آگ میں جھلس رہا ہے۔ موجودہ بدامنی بنیادی طور پر امریکہ، اسرائیل اور ایران کے درمیان بڑھتی ہوئی فوجی کشیدگی اور علاقائی تنازعات کے باعث مزید گہری ہوئی ہے۔ 28 فروری 2026 کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے مشترکہ حملے سے حالات مزید بگڑ گئے۔ اب بھی تصادم کی صورتحال برقرار ہے۔ آبنائے ہرمز پر بھی خطرہ منڈلا رہا ہے۔ سمندری نقل و حمل میں رکاوٹوں کے باعث عالمی سطح پر توانائی اور تیل کی سپلائی متاثر ہو رہی ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔