
امریکی صدر ڈونائڈ ٹرمپ (فائل فوٹو)
مشرق وسطیٰ میں ایران کے ساتھ جنگ کے درمیان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے غزہ سے متعلق تاریخی معاہدے کا اعلان کر دیا ہے۔ ٹرمپ نے غزہ میں امن لانے کے لیے 20 نکاتی منصوبے کی بات کی ہے، جس میں غزہ سے اسرائیلی فوج کی واپسی اور حماس کے اسلحہ چھوڑنے کا ذکر شامل ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق ٹرمپ کے اس منصوبے پر حماس نے تو رضامندی ظاہر کر دی ہے، لیکن اسرائیل کی جانب سے کوئی ردعمل سامنے نہیں آیا ہے۔ ایسے میں سوال اٹھتا ہے کہ کیا اسرائیلی وزیر اعظم بنجامن نیتن یاہو ٹرمپ کے اس منصوبے کو مانیں گے؟
وائٹ ہاؤس کا یہ اعلان جمعرات کو امریکہ کی ثالثی میں ہونے والے جنگ بندی معاہدے کے تقریباً 9 ماہ بعد آیا ہے۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان بات چیت کافی حد تک دوسرے مرحلے پر عمل درآمد کو لے کر رکی ہوئی تھی، جس میں حماس کا اسلحہ چھوڑنا اور غزہ کی تعمیر نو میں شامل ہونا ہے۔ ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر اعلان کرتے ہوئے کہا کہ ’’یہ معاہدہ احتیاط سے طے کیے گئے مراحل میں نافذ کیا جائے گا۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’’جیسے ہی اسلحہ چھوڑنے کا عمل مکمل ہو جائے گا، اسرائیلی فوج بھی پیچھے ہٹ جائے گی، اور انٹرنیشنل اسٹیبلائزیشن فورس ایک نئی فلسطینی پولیس فورس کے ساتھ مل کر غزہ کو وہاں کے باشندوں اور پڑوسیوں کے لیے محفوظ بنانے کی ذمہ داری سنبھالے گی۔‘‘
ڈونالڈ ٹرمپ کے 20 نکاتی جنگ بندی منصوبے میں ایران کی حمایت یافتہ مسلح تنظیم سے اپنے اسلحے حوالے کرنے اور سرنگوں کے اپنے وسیع نیٹورک کو ختم کرنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس میں اسرائیلی فوج کا غزہ سے انخلا، ایک نئی ٹیکنوکریٹک فلسطینی حکومت کا قیام، ایک اسٹیبلائزیشن فورس کی تعیناتی اور 2 سال سے زیادہ عرصے تک جاری رہنے والی جنگ کے بعد بری طرح متاثرہ فلسطینی علاقے کی تعمیر نو بھی شامل ہے۔ لیکن حماس نے اپنے اسلحوں پر بات چیت کرنے سے پہلے ابتدائی مرحلے پر عمل درآمد پر زور دیا تھا۔ گروپ کے بانی منشور میں اسرائیل کے خلاف اسلحوں کے ساتھ جنگ کی بات کی گئی ہے۔ حماس اپنے اسلحوں کے ذخیرے، جس میں راکٹ، اینٹی ٹینک میزائل اور دھماکہ خیز مواد شامل ہیں اور جو اس کی شناخت کا اہم حصہ ہیں، کو چھوڑنا نہیں چاہتا۔ تاہم حماس نے اس ماہ کے آغاز میں اعلان کیا تھا کہ اس نے غزہ میں اپنی حکومت تحلیل کر دی ہے اور جنگ بندی معاہدے کے تحت اقوام متحدہ کی حمایت یافتہ ایک تکنیکی کمیٹی کو اقتدار سونپنے کی تیاری کر رہا ہے۔
وائٹ ہاؤس کی ہدایات کے تحت نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر صحافیوں کو معاہدے کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے امریکہ اور ’بورڈ آف پیس‘ کے حکام نے معاہدے کا انتہائی مثبت جائزہ پیش کیا۔ یہ جائزہ ویسا ہی ہے جیسا ٹرمپ اور ان کے اعلیٰ معاونین نے اس وقت پیش کیا تھا جب ’بورڈ آف پیس‘ (غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کے لیے ٹرمپ کی جانب سے تشکیل دی گئی ایک بین الاقوامی تنظیم) کا پہلی بار قیام کیا گیا تھا۔
حکام حماس یا غزہ میں سرگرم دیگر گروپوں، جیسے ’فلسطینی اسلامک جہاد‘، کے اسلحہ چھوڑنے کے لیے کوئی خاص مدت نہیں بتا سکے، لیکن انہوں نے کہا کہ غزہ پولیس فورس اگلے 2 ہفتوں میں ’بورڈ آف پیس‘ کی حمایت یافتہ غزہ انتظامیہ کے حوالے ہتھیار کر دے گی۔ تاہم حکام کے مطابق غزہ پولیس فورس میں حماس کے زیادہ تر جنگجو شامل نہیں ہیں۔ ساتھ ہی معاہدے کے اس حصے میں بھاری اسلحے بھی شامل نہیں کیے گئے ہیں۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔