
ایران و امریکہ
تصویر آئی اے این ایس
امریکہ اور ایران امن معاہدے کے بہت قریب ہیں۔ ’ایکسیوس‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکہ اور ایران کے وفود کے درمیان معاہدے کے تمام پہلوؤں پر اتفاق ہوگیا ہے۔ اب صرف امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کی منظوری کا منظوری کا انتظار ہے۔ اس سے قبل امریکی حکام نے حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ معاہدے کے اہم نکات میں سے ایک آبنائے ہرمز کو پھر سے کھولنا ہے۔ آبنائے ہرمز دنیا کے تیل اور گیس کی 20 فیصد سپلائی کے لیے ایک اہم راستہ ہے۔ کشیدگی کے درمیان اس راہداری پر ایران نے ناکہ بندی کردی تھی جس کی وجہ یہ آبی گزر گاہ بند ہوگئی تھی۔
Published: undefined
ایران کی طرف سے آبنائے کی ناکہ بندی کے بعد امریکہ نے اس علاقے میں اپنی بحری افواج کو تعینات کرکے کچھ سمندری حصوں پر ناکہ بندی کر دی تھی۔ اس سے ایران کی بندرگاہوں پر ہوئی امریکہ کی اس ناکہ بندی سے ٹریفک اور آمد ورفت متاثر ہوئی۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق دونوں ممالک کے درمیان ہونے والی اس ڈیل سے آبنائے ہرمز کے ذریعے غیر محدود بحری سفر کی اجازت ہوسکے گی۔ امریکی حکام نے کہا ہے کہ جہازوں سے گزرنے کے لیے کوئی ٹول نہیں لیا جائے گا۔ ایران سے کہا گیا ہے کہ معاہدہ نافذ ہونے کے 30 دنوں کے اندر اس راستے سے سبھی سرنگیں ہٹا لی جائیں۔
Published: undefined
دریں اثناء امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ امریکہ آبنائے ہرمز پر کسی بھی طرح کے ٹول سسٹم کو نافذ کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کرے گا۔ خاص طور سے عمان کو یہ معلوم ہونا چاہئے کہ یو ایس ٹریژری ان تمام لوگوں کو سختی سے نشانہ بنائے گا جو اس آبی گزرگاہ کے لیے ٹول کی سہولت فراہم کرنے میں براہ راست یا بالواسطہ طور پر ملوث ہیں۔ ایسے کسی بھی رضامند ساتھی کو سزا دی جائے گی۔ تمام ممالک کو ایران کی طرف سے تجارت کے آزادانہ بہاؤ میں خلل ڈالنے کی کسی بھی کوشش کو یکسر مسترد کرنا چاہیے۔ اس خطے اور دنیا کو دہشت زدہ کرنے کے تہران کے دن ختم ہو چکے ہیں۔
Published: undefined