دیگر ممالک

سفارت کاری ترجیح ہے مگر جنگ کی صورت میں جواب دینے کے لیے بھی تیار ہیں: ایران

امریکہ نے ایران کے قریب بڑا بحری بیڑا تعینات کر دیا جس کے جواب میں ایران نے کہا ہے کہ وہ جنگ کی صورت میں جواب دینے کے لئے تیار ہیں۔

<div class="paragraphs"><p>فائل تصویر آئی اے این ایس</p></div>

فائل تصویر آئی اے این ایس

 

ایرانی حکومت کی ترجمان فاطمہ مہاجرانی نے کہا ہے کہ ایران علاقائی اور عالمی مسائل کے حل کے لیے سفارتی ذرائع پر کاربند ہے تاہم ساتھ ہی انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ تہران کسی بھی قسم کے خطرات کا جواب دینے کے لیے مکمل طور پر تیار ہے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ حکومت کی توجہ بین الاقوامی امن کے دائرے میں خطے میں سکون اور استحکام کو یقینی بنانے پر مرکوز ہے اور قومی مفادات کے تحفظ کے لیے سفارتکاری کو ترجیحی راستہ سمجھا جاتا ہے۔

Published: undefined

انہوں نے واضح کیا کہ سفارتکاری پر انحصار کا یہ مطلب نہیں کہ دیگر آپشنز کو حکومتی اور ایرانی خودمختاری کی میز سے ہٹا دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ریاست کے تمام ادارے مکمل ہم آہنگی اور متحد قیادت کے تحت کام کر رہے ہیں جبکہ ایران کی اصل طاقت اس کے قومی اتحاد میں مضمر ہے جس کے ذریعے وہ دشمنانہ اور خطرناک حالات کا سامنا کر رہا ہے۔ فاطمہ مہاجرانی نے مزید کہا کہ ہم مکمل طور پر تیار ہیں اور اپنی قومی عزت کو برقرار رکھتے ہوئے تمام اداروں کی ہمہ وقت تیاری کے ساتھ ان کٹھن حالات سے بخوبی نمٹیں گے۔

Published: undefined

یہ بیانات ایسے وقت سامنے آئے ہیں جب تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایران میں حالیہ احتجاجی صورتحال کے پس منظر میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے اور اسی دوران امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے فوجی کارروائی کی دھمکیوں کا سلسلہ بھی جاری ہے۔

Published: undefined

پیر کے روز امریکی ویب سائٹ ایکسیس نے صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ امریکہ نے ایران کے قریب ایک بڑا بحری بیڑا تعینات کر رکھا ہے جسے انہوں نے وینزویلا کے اس بیڑے سے بھی بڑا قرار دیا جو ماضی میں مادورو کی گرفتاری کی کارروائی سے قبل تعینات کیا گیا تھا۔

Published: undefined

اس کے باوجود صدر ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران کے ساتھ سفارتکاری کا راستہ اب بھی کھلا ہے۔ ان کے مطابق ایران نے ان سے کئی مرتبہ رابطہ کیا ہے اور وہ کسی معاہدے تک پہنچنا چاہتا ہے۔ اسی دوران ایکسیس کو ذرائع نے بتایا ہے کہ صدر ٹرمپ نے ایران کے حوالے سے ابھی کوئی حتمی فیصلہ نہیں کیا اور امکان ہے کہ وہ مزید مشاورت کریں گے جبکہ فوجی آپشنز کا بھی جائزہ لیا جا رہا ہے۔ (بشکریہ نیوز پورٹل، ’العربیہ ڈاٹ نیٹ، اردو)

Published: undefined

Follow us: Facebook, Twitter, Google News

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔

Published: undefined