
اسرائیلی ڈیفنس فورس (آئی ڈی ایف) نے آپریشن ’رورنگ لائن‘ کے تحت ایران کے خلاف چلائے گئے آپریشن میں جنرل محمد پاکپور سمیت ایران کے کئی سینئر لیڈران کو نشانہ بنایا ہے۔ اس درمیان ایران کو اس کا نیا کمانڈر اِن چیف مل گیا ہے۔ بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو نیا کمانڈر اِن چیف بنایا گیا ہے۔ ایرانی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایران نے بریگیڈیئر جنرل احمد وحیدی کو اسلامک ریوولیوشنری گارڈ کورپس (آئی آر جی سی) کا نیا کمانڈر اِن چیف مقرر کیا ہے۔
Published: undefined
آئی آر جی سی نے اتوار کو اعلان کیا کہ تجربہ کار فوجی افسر احمد وحیدی پہلے وزیر دفاع اور داخلہ تھے۔ اپنی باضابطہ تقرری سے قبل وحیدی 6 ماہ تک عبوری سربراہ کے طور پر کام کر رہے تھے۔ حالانکہ ایرانی افسران کی جانب سے اب تک اس تقرری کے متعلق کوئی آفیشل بیان سامنے نہیں آیا ہے۔ لیکن یہ بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سینئر فوجی اور سیاسی لیڈران پر حال ہی میں ہوئے حملوں کے بعد ملک کے کمانڈ ڈھانچے میں بڑے بحران کے درمیان آیا ہے۔ آئی آر جی سی اسلامی جمہوریہ کے دفاع اور بیرون ملک ایران کا اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے ذمہ دار ایک ایلیٹ فورس ہے۔ یہ فورس تہران کی دفاعی حکمت عملی اور علاقائی آپریشنز کا ایک اہم حصہ بنی ہوئی ہے۔
Published: undefined
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق جنوبی ایران کے شہر میناب میں لڑکیوں کے ایک ایلیمنٹری اسکول پر امریکہ اور اسرائیل کے حملے میں جاں بحق ہونے والوں کی تعداد بڑھ کر 148 ہو گئی ہے۔ یہ حملہ ہفتے کے روز ہوا تھا اور ہلاکتوں میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ یہ اسکول پہلے فوجی اڈے کا حصہ تھا، لیکن سیٹلائٹ تصاویر سے پتہ چلتا ہے کہ یہ دونوں جگہیں کم از کم 2016 سے ایک دوسرے سے الگ ہیں۔
Published: undefined
ایرانی سرکاری میڈیا کے مطابق آئی آر جی سی کا کہنا ہے کہ وہ ایران پر امریکہ اور اسرائیل کی بمباری کا بدلہ لینے کے لیے حملوں کا چھٹا راؤنڈ چلا رہا ہے۔ آئی آر جی سی نے اس علاقے میں اسرائیل اور امریکی فوجی اڈوں پر ’بڑے پیمانے پر میزائل اور ڈرون‘ حملے کیے ہیں۔ ساتھ ہی اس نے کہا کہ 27 امریکی اڈوں کے ساتھ ساتھ اسرائیلی تل نوف ایئربیس، تل ابیب کے ہاکیریا میں اسرائیلی فوج کے کمانڈ ہیڈ کوارٹر، اور اسی شہر میں ایک بڑے دفاعی صنعتی کمپلیکس پر حملہ کیا گیا۔ آئی آر جی سی نے مزید کہا کہ ایرانی فوج انتقام کا ایک الگ اور سخت قدم اٹھائے گی۔
Published: undefined
Follow us: Facebook, Twitter, Google News
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔
Published: undefined