
’ورگو ٹرانسپورٹ-8‘ جہاز جاوا سمندر میں لاپتہ، تصویر/آئی اے این ایس
انڈونیشیا کے جاوا سمندر میں اتوار (13 ستمبر) کو ’ورگو ٹرانسپورٹ-8‘ نامی ایک جہاز لاپتہ ہو گیا۔ 243 افراد کو لے کر یہ جہاز ہفتہ کی صبح سورابایا سے روانہ ہوا تھا لیکن سفر کے دوران اچانک اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔ انڈونیشیا کی تلاش اور بچاؤ ایجنسی (بسارناس) نے جہاز کو تلاش کرنے کے لیے سرچ اینڈ ریسکیو (ایس اے آر) ٹیم روانہ کی ہے۔ انڈونیشیا کی سرکاری اور قومی خبر رساں ایجنسی ’انترا‘ کی رپورٹ کے مطابق ’ورگو ٹرانسپورٹ-8‘ جہاز سورابایا سے بنجارماسین جا رہا تھا۔ سفر کے دوران جاوا سمندر میں جہاز کا رابطہ اچانک منقطع ہو گیا۔ جہاز اب بھی لاپتہ ہے۔ جہاز میں تقریباً 243 افراد سوار ہیں۔
بانجارماسین کلاس-اے سرچ اینڈ ریسکیو دفتر کے سربراہ اور ایس اے آر مشن کوآرڈینیٹر آئی پوتو سودایانا نے اتوار کی صبح جنوبی کلیمنتان کے بانجارماسین میں منعقدہ پریس کانفرنس میں بتایا کہ جہاز کا رابطہ تقریباً صبح 2:00 بجے ڈبلیو آئی ٹی اے پر منقطع ہوا۔ اس سے پہلے سفر کے دوران جہاز کو خراب موسم کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ’انترا‘ کی رپورٹ کے مطابق انہوں نے بتایا کہ جہاز کی آخری لوکیشن بانجارماسین کے باسیریہ ایس اے آر جیٹی سے تقریباً 80 سمندری میل دور ملی تھی۔ بانجارماسین کلاس-اے سرچ اینڈ ریسکیو دفتر کو جہاز کا رابطہ منقطع ہونے کی اطلاع صبح 4:10 بجے ڈبلیو آئی ٹی اے پر ملی۔ یہ اطلاع پی ٹی ورگو کے جنرل منیجر یوئل ریہی نے دی تھی۔ رپورٹس کے مطابق جہاز ہفتہ کو 10:13 جی ایم ٹی پر سورابایا سے روانہ ہوا تھا، جس کے بعد سفر کے دوران اس کا رابطہ منقطع ہو گیا۔
’انترا‘ کی رپورٹ کے مطابق پوتو نے بتایا کہ ’ورگو ٹرانسپورٹ-8‘ جہاز کا رابطہ منقطع ہونے کی اطلاع ملنے کے بعد ریسکیو ٹیم کو اس کی آخری لوکیشن والے مقام پر روانہ کر دیا گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’ہم اس مہم میں زیادہ سے زیادہ اہلکاروں اور وسائل کو لگا رہے ہیں۔ جہاز میں بڑی تعداد میں مسافر اور عملے کے ارکان سوار ہیں۔ ان کی حفاظت ہی مہم کی سب سے بڑی ترجیح ہے۔‘‘ بانجارماسین ایس اے آر دفتر دیگر تمام متعلقہ ایجنسیوں اور اداروں کے ساتھ بھی مسلسل تال میل برقرار رکھے ہوئے ہے، تاکہ تلاشی مہم کی کارروائی تیز کی جا سکے اور جہاز کے تمام مسافروں اور عملے کے ارکان کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔