
فائل علامتی تصویر آئی اے این ایس
امریکہ میں تعلیم حاصل کرنے کی امید رکھنے والے ہندوستانی طلباء نے داخلوں کے سیزن کے دوران ویزا کی منظوری میں نمایاں کمی دیکھی۔ نئے اعداد و شمار سے پتہ چلتا ہے کہ یہ کمی چینی طالب علموں کی کمی سے بھی زیادہ تھی۔ امریکہ میں قائم سینٹر فار امیگریشن اسٹڈیز (CIS) کے مطابق، امریکی قونصل خانوں نے مئی اور اگست 2025 کے درمیان ہندوستانی شہریوں کو صرف 22,149 F-1 اسٹوڈنٹ ویزے جاری کیے ہیں۔ جبکہ 2024 میں اسی عرصے کے دوران جاری کیے گئے 58,694 ویزوں کے مقابلے میں 62 فیصد کمی ہے۔ چینی شہریوں کو جاری کیے گئے F-1 ویزوں کی تعداد 34 فیصد کم ہو کر 61,075 سے 40,034 رہ گئی۔
مئی-اگست کے دورانیے کوا سٹوڈنٹ ویزا پروسیسنگ کے لیے مصروف ترین وقت سمجھا جاتا ہے، کیونکہ زیادہ تر بین الاقوامی طلباء اپنے ویزے امریکی تعلیمی سال کے آغاز سے پہلے حاصل کر لیتے ہیں۔ سی آئی ایس کے تجزیے میں کہا گیا ہے کہ ویزا کے اجراء میں حالیہ کمی مستقبل کے داخلوں اور امریکی افرادی قوت میں شامل ہونے والے بین الاقوامی گریجویٹس کی تعداد کو متاثر کر سکتی ہے۔
رپورٹ میں مئی-اگست کے عرصے پر توجہ مرکوز کی گئی ہے کیونکہ ہندوستان اور چین دونوں کے لیے سالانہ جاری ہونے والے تقریباً تین چوتھائی اسٹوڈنٹ ویزا ان چار مہینوں کے دوران ہوتے ہیں۔ یہ آپشنل پرہکٹیکل ٹریننگ (OPT) پروگرام میں ہندوستانی گریجویٹس کے اہم کردار کو بھی اجاگر کرتا ہے۔ یہ پروگرام اہل غیر ملکی طلباء کو اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد امریکہ میں کام کرنے کی اجازت دیتا ہے۔
سنٹر فار امیگریشن اسٹڈیز نے کہا کہ غیر ملکی طلباء کی کم تعداد سے او پی ٹی کے ذریعے امریکی افرادی قوت میں داخل ہونے والے غیر ملکی گریجویٹس کی تعداد میں بھی کمی آئے گی۔ ٹرمپ انتظامیہ کے تحت امریکی امیگریشن قوانین میں نمایاں طور پر سختی کے بعد طلباء کے ویزوں میں کمی آئی ہے، جس سے غیر ملکی طلباء کے لیے ملک میں تعلیم حاصل کرنا اور کیریئر بنانا مشکل ہو گیا ہے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔