
فائل تصویر آئی اے این ایس
امریکہ میں قائم مصنوعی ذہانت کی کمپنی اوپن اے آئی کے سابق انجینئر عبدالرحمن الفوزان کو سنگین الزامات کا سامنا ہے۔ اس پر کمپنی کے کانفرنس روم میں خفیہ طور پر ریکارڈنگ ڈیوائس لگانے کا الزام ہے۔ امریکی استغاثہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس ڈیوائس کا استعمال کمپنی کے سینئر ایگزیکٹوز، کاروباری افراد اور سرکاری اہلکاروں کے درمیان ہونے والی حساس ملاقاتوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے کیا جاتا تھا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق استغاثہ نے عدالتی دستاویز میں الفوزان کے سعودی عرب کی بااثر شخصیات سے روابط کا بھی ذکر کیا ہے جن میں سعودی شاہی خاندان کا ایک فرد بھی شامل ہے۔ استغاثہ نے عدالت سے استدعا کی ہے کہ مقدمے کی سماعت شروع ہونے تک الفوزان کو حراست میں رکھے ۔ ان کا موقف ہے کہ وہ امریکہ چھوڑ سکتے ہیں۔ الفوزان ایک سعودی شہری ہے اور اسے امریکہ میں مستقل رہائش کی قانونی اجازت ہے۔
استغاثہ کا کہنا ہے کہ اس ڈیوائس کے لگانے کے وقت کے ارد گرد سرکاری اہلکاروں کی ملاقاتیں کمرے میں ہوتی تھیں۔ ان کا دعویٰ ہے کہ الفوزان نے خفیہ طور پر حساس ملاقاتوں کو ریکارڈ کرنے کے لیے ایک خصوصی خفیہ آلہ تیار کیا تھا۔ اوپن اے آئی نے 30 ستمبر کو ڈیوائس کے موصول ہونے کی اطلاع دی تھی۔ کمپنی نے اس کے بعد ایف بی آئی کو معاملے کی اطلاع دی۔ استغاثہ کا کہنا ہے کہ تفتیش جاری ہے ۔
الفوزان نے گزشتہ ماہ عربی زبان کے ایک پوڈ کاسٹ میں کہا تھا کہ وہ سال میں تین یا چار بار سعودی عرب جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ وہاں کی پیش رفت پر نظر رکھتا ہے اور سعودی اسٹارٹ اپس کو مشورہ دینے یا رہنمائی کرنے میں مدد کرتا ہے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ وہ 2016 میں سلیکون ویلی میں سعودی ٹیک ورکرز کی ایک میٹنگ میں محمد بن سلمان سے ملے تھے۔
قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔