دیگر ممالک

ہندوستانی ایف سی آر اے ترمیمی بل امریکہ کے ساتھ ہندوستان کے تعلقات کو متاثر کرے گا: رلے مور

ریپبلکن رلے مور نے ایف سی آر اے کی ترامیم کو مسیحی برادری پر براہ راست حملہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ ہندوستان امریکہ تعلقات میں تنازعہ کا باعث بن سکتا ہے۔

<div class="paragraphs"><p>تصویر سوشل میڈیا، ویکیپیڈیا</p></div>

تصویر سوشل میڈیا، ویکیپیڈیا

 

امریکی رکن کانگریس ریپبلیکن رلے مور نے ہندوستان میں ایف سی آر اے میں مجوزہ ترامیم پر تنقید کی ہے۔ انہوں نے اسے مسیحی برادری پر براہ راست حملہ قرار دیا اور خبردار کیا کہ یہ ہندوستان اور امریکہ کے درمیان دو طرفہ مسئلہ بن سکتا ہے۔

ایف سی آر اے میں مجوزہ ترامیم کو "مسیحی برادری پر براہ راست حملہ" قرار دیتے ہوئے انہوں نے الزام لگایا کہ یہ قانون حکومت کو گرجا گھروں اور مذہبی خیراتی اداروں کو کنٹرول کرنے کی اجازت دے سکتا ہے۔ ان کے تبصرے ایسے وقت میں آئے ہیں جب پارلیمنٹ کے جاری مانسون اجلاس کے دوران ایف سی آر اےترمیمی بل 2026 پر گرما گرم بحث ہو رہی ہے۔

انہوں نےایکس پر ایک پوسٹ میں مجوزہ ترامیم پر تشویش کا اظہار کرنے سے پہلے ہندوستان میں عیسائیت کی طویل تاریخ کا حوالہ دیا۔ انہوں نے لکھا ہے کہ، "مسیحی برادری ہندوستان میں اس وقت سے ہے جب سے سینٹ تھامس نے ہمارے خداوند یسوع مسیح کے جی اٹھنے کے چند دہائیوں بعد مالابار ساحل کا سفر کیا۔"اس کے بعد انہوں نے بل پر تنقید کرتے ہوئے لکھا ، "لیکن عیسائیت کی اس طویل تاریخ کے باوجود، ہندوستانی پارلیمنٹ ایف سی آر اے کے قوانین میں ترمیم کرنے پر غور کر رہی ہے تاکہ حکومت گرجا گھروں اور مذہبی خیراتی اداروں کا کنٹرول سنبھال سکے۔" ان کا مزید کہنا تھا کہ ’’یہ مسیحی برادری پر براہ راست حملہ ہے، اگر یہ بل اس طرح آگے بڑھتا ہے جیسا کہ ہونا چاہیے تو یہ ہندوستان کے ساتھ ہمارے دوطرفہ تعلقات میں بڑی تشویشناک بات ہوگی۔‘‘

موجودہ قوانین کے تحت، تنظیموں کو غیر ملکی عطیات قبول کرنے سے پہلے وزارت داخلہ کے ساتھ رجسٹر کرنا ضروری ہے۔ اس رجسٹریشن کی ہر پانچ سال بعد تجدید ہونی چاہیے۔ بل کے ساتھ موجود پس منظر کے نوٹ کے مطابق، 15 جولائی 2026 تک ہندوستان میں 14,449 فعال ایف سی آر اے رجسٹریشن تھے۔ مزید برآں، 22,498 رجسٹریشن منسوخ کر دیے گئے تھے، جبکہ 15,212 کی میعاد ختم ہو چکی تھی۔ 2019 اور 2022 کے درمیان، ایکٹ کے تحت رجسٹرڈ تنظیموں کو 55,741 کروڑ روپے کے غیر ملکی عطیات ملے۔

سب سے اہم تجاویز میں سے ایک مرکزی حکومت کی طرف سے مقرر کردہ 'نامزد اتھارٹی' کی تشکیل ہے۔ اس اتھارٹی کو غیر ملکی عطیات اور ان فنڈز سے بنائے گئے اثاثوں کا انتظام سنبھالنے کا اختیار ہوگا۔ بل میں تجدید کے لیے کم از کم استعمال کی حد کی تجویز بھی دی گئی ہے۔ وہ تنظیمیں جنہوں نے پچھلے دو مالی سالوں میں دس  لاکھ  روپےسے کم غیر ملکی تعاون حاصل کیا ہے یا استعمال کیا ہے وہ اب تجدید کے اہل نہیں ہو سکتے ہیں۔

اضافی دفعات میں دیگر تنظیموں کو غیر ملکی تعاون کی منتقلی پر سخت پابندیاں، غیر ملکی فنڈز حاصل کرنے اور استعمال کرنے کے لیے سخت ٹائم لائنز، اور پروجیکٹس، سرگرمیوں، ویب سائٹس، اور سوشل میڈیا اکاؤنٹس سے متعلق معلومات فراہم کرنے کے لیے وسیع تقاضے شامل ہیں۔ نامزد اتھارٹی کے مجوزہ اختیارات بحث کا مرکز بن گئے ہیں۔ اپوزیشن پارٹیاں، این جی اوز، اور کئی سیول سوسائٹی گروپس کا استدلال ہے کہ ان ترامیم سے مرکزی حکومت کو غیر ملکی فنڈنگ ​​پر منحصر تنظیموں پر ضرورت سے زیادہ کنٹرول حاصل ہو جائے گا۔

گرجا گھروں اور مذہبی تنظیموں نے خاص طور پر اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ اگر ان کی رجسٹریشن کی میعاد ختم ہو جاتی ہے یا اسے منسوخ کر دیا جاتا ہے تو کئی دہائیوں سے غیر ملکی عطیات سے بنائے گئے سکول، ہسپتال، فلاحی ادارے اور دیگر جائیدادیں حکومت کے کنٹرول میں آ سکتی ہیں۔ یہ خدشات خاص طور پر کیرالہ اور میزورم میں شدید ہیں، جہاں بہت سی عیسائی تنظیمیں بڑے تعلیمی اور صحت کی دیکھ بھال کے ادارے چلاتی ہیں جو طویل عرصے سے غیر ملکی امداد پر منحصر ہیں۔ تاہم، حکومت نے ان مجوزہ ترامیم کا دفاع کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ شفافیت لانے، نگرانی کو مضبوط بنانے اور غیر ملکی فنڈز کے استعمال میں زیادہ احتساب کو یقینی بنانے کے اقدامات ہیں۔

قومی آواز اب ٹیلی گرام پر بھی دستیاب ہے۔ ہمارے چینل (qaumiawaz@) کو جوائن کرنے کے لئے یہاں کلک کریں اور تازہ ترین خبروں سے اپ ڈیٹ رہیں۔